- الإعلانات -

قومی اقتصادی کونسل نے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دیدی

وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں سالانہ منصوبے پی ایس ڈی پی اور آئندہ بجٹ کے اہداف کی منظوری دیدی گئی۔ قومی اقتصادی کونسل نے مجموعی طور پر 2113 ارب روپے کے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگراموں کی منظوری دی۔ اس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) 1001 ارب روپے اور صوبائی ترقیاتی پروگراموں کا حجم 1112 ارب روپے ہے۔ آئندہ بجٹ کا تخمینہ 5 ٹریلین روپے ہوگا، دفاع کیلئے 950 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ بجٹ میں مالی خسارے کے تخمینہ 10 ارب 40 کروڑ روپے لگایا گیا ہے جو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہوگا۔ درآمدات کا تخمینہ 50 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے لئے 6 فیصد جی ڈی پی گروتھ مقرر کردیا گیا۔ وزارتوں کے لئے 288 ارب روپے، این ایچ اے، واپڈا پاور کے لئے 384 ارب روپے، خصوصی علاقہ جات کے لئے 65 ارب روپے، وفاقی ترقیات 50 ارب روپے، ایرا کے لئے 7 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ ترقیاتی پروگراموں میں تکمیل کے قریب منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔ رواں سال کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 15 مئی 2017 تک 556 ارب روپے جاری کئے گئے۔ تاہم اس میں سے خرچ کی جانے والی رقم کم ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے این ای سی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے معاشی اعشاریئے بہت بہتر ہوئے ہیں اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں اس کو تسلیم کرتی ہیں۔ پاکستان نے رواں سال میں 5.28 فیصد گروتھ ریٹ حاصل کیا جو قابل تعریف ہے۔ پاکستان تیزی سے معاشی ترقی کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملک کی ترقی کے لئے ہم آہنگی کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم توانائی کے منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ بجلی کی فراہمی ہماری ترجیح ہے اور ہم صارفین کو ایسی قیمت پر بجلی دے رہے ہیں ۔انفراسٹرکچر ترقی کیلئے ضروری ہے اور ہم سڑکوں اور کمیونی کیشن نیٹ ورک پر توجہ دے رہے ہیں۔ ترقی کو سیاست زدہ نہ کیا جائے۔ پاکستان کی ترقی میں سب کی خوشحالی ہے یہ سیاست کی نذر نہیں ہونی چاہئے۔ اس پر سب کو متحد ہونا چاہئے۔ حکومت نے پی ایس ڈی پی 2017-18 میں صوبوں کے حصہ کو بڑھایا ہے۔ فاٹا، آزاد کشمیر، گلگت و بلتستان، وفاقی حکومت کے لئے صوبوں کی طرح اہم ہیں۔ رواں سال ترقی کی شرح 5.3 فیصد رہی، آئندہ مالی سال کیلئے شرح نمو 6 فیصد مقرر کی گئی ہے، آئندہ مالی سال میں 8 سے 10ہزار میگاواٹ بجلی کے اضافہ کا امکان ہے، صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ساڑھے 12 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، آئندہ بجٹ میں ساڑھے 12 ارب روپے کی لاگت سے پورے ملک میں انرجی فار آل کا منصوبہ شروع کیا جائیگا، سی پیک کے منصوبہ جات کیلئے 180 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، ریلویز کیلئے 43 ارب روپے اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کیلئے 320 ارب روپے رکھے گئے ہیں، فاٹا کا بجٹ 21 ارب سے بڑھا کر ساڑھے 24 ارب کر دیا گیا ہے جس سے کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ آئندہ مالی سال 2017-18 میں 31 منصوبے گوادر کی ترقی کیلئے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے گلگت، آزاد کشمیر اور فاٹا کا مقدمہ قومی اقتصادی کونسل میں لڑا، وزیراعظم نے آزاد کشمیر کے بجٹ میں 12 ارب سے 22 ارب کرنے کی ہدایت کی ہے، آزاد کشمیر کی عوام سے وزیر اعظم نے جو وعدہ کیا اسے پورا کیا۔ گلگت بلتستان کا بجٹ 9 ارب سے 15 ارب کر دیا گیا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی سے صنعتی شعبے کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے، ماضی کی نسبت سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔ ہماری ٹیکسٹائل مارکیٹ ابھی تک بحال نہیں ہو سکی، برآمدات میں 10 فیصد اضافہ کیاجائے گا، درآمدات میں پانچ ارب کا اضافہ ہوا جس کی وجہ چین پاک اقتصادی راہداری منصوبہ ہے، ترقیاتی بجٹ 360 ارب سے بڑھ کر 1 کھرب تک پہنچ گیا ہے تین گنا اضافہ ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے ہے۔ حکومت نے تہیہ کیا ہے کہ ہر ضلع میں یونیورسٹیوں کے کیمپس بنائیں گے، ایک لاکھ نوجوانوں کو سٹارٹ اپس کی ٹریننگ دی جائے گی۔
عمران خان کاکوئٹہ میں جلسہ سے خطاب
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کوئٹہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں سیاسی کمپنیوں کی حکومت ہے، وفاقی حکومت شریف کمپنی لمیٹڈ، سندھ میں زرداری خاندان کی کمپنی، بلوچستان میں اچکزئی کے بھائیوں کی کمپنی، خیبر پی کے میں اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمن کے بھائیوں کی کمپنیاں بنی ہوئی ہیں۔ یہ سب کمپنیاں ملک کا پیسہ چوری کرکے باہر بھیج رہی ہیں۔ دوبئی میں گزشتہ 4 سال کے دوران 800 ارب روپے کی پراپرٹی کیسے خریدی گئی، یہاں کا پیسہ پانامہ کی کمپنیوں میں چھپایا گیا اور پھر اس سے مے فیئر کے مہنگے فلیٹ خریدے گئے۔ اگر یہ پیسہ ملک پر خرچ ہوتا تو یہاں نوجوانوں کو نوکریاں ملتیں، سکول ہوتے، بلوچستان میں بھی بڑے پیمانے پر کرپشن کا بازار گرم ہے۔ ایک طرف وفاق فنڈز کھا رہا ہے تو دوسری جانب حکومتی شخصیات مشتاق رئیسانی جیسے سیکرٹریوں کے ساتھ ملکر سوا 2 ارب روپے منی لانڈرنگ کررہے ہیں۔ اگر نوازشریف کا ترقیاتی پلان جاپان اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا تو وہ بھی 10 سال کے اندر اندر تباہ و برباد ہوجاتے۔ پینے کے پانی کا مسئلہ ہے، نہ تعلیمی ادارے ہیں اور نہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع، بلوچستان کے لوگوں کو سب سے زیادہ لوٹا جا رہا ہے، ہمیں ڈرایا گیا کہ یہاں پر خطرہ ہے، خود کش حملہ آوروں کی تصاویر سڑکوں پر لگائی گئیں لیکن جب ایک قوم خوف کا بت توڑ دے تو کوئی خطرہ نہیں رہتا۔پاک فوج کیخلاف منفی پروپیگنڈا اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کی خبریں وزیراعظم ہاس سے نکلیں، پاک فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہم پانامہ کیس پر بنائی گئی جے آئی ٹی سے مطالبہ کریں گے کہ وہ نواز شریف اور انکے بچوں کے بھارت سمیت تمام ممالک میں جو بزنس انٹرسٹ ہیں انکی تحقیقات کرے۔ نوازشریف نے ایف آئی اے کے ذریعے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے نوجوانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی ہے، میں انہیں تنبیہہ کرتا ہوں کہ ہمیں ہاتھ نہ لگا ورنہ ہم احتجاج کریں گے اور ہماری ٹیم بھی تیار ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتے فاصلے جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لیکرچلے اور ان کے تحفظات کو دورکرے۔ایک طرف حکومت عمران پرکڑی تنقید کرتے دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں جس سے سیاسی منظر دھندلاہٹ کاشکار دکھائی دیتا ہے۔ملک اس وقت ترقی کرسکتا ہے جب سیاسی استحکام ہو۔عدم استحکام ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ کاباعث بنتا ہے ۔سیاسی تدبر اور بصیرت سے کام لیاجائے اور برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دیاجائے۔