- الإعلانات -

پاکستان۔’نظریہِ بلیک سوان’ کی زد میں تونہیں؟

عالمی پیمانے پرعالمی سطح کی تسلیم شدہ خفیہ ایجسنیوں کے ماہرین سرجوڑ کر بیٹھے ہوئے الجھی ہوئی ایک گھتی کو سلجھانے میں منہمک ہیں کہ ‘پاکستان کی ‘نظریاتی تفخر’ کی ‘بیدارصفت روح’ کو بے اثرکیا جائے مگریہ کیسے کیا جائے؟یہ معاملہ اِس لئے بھی انہیں کافی گھمبیرمعلوم دیتا ہے کہ بظاہر پاکستانی قوم مختلف اورکئی اقسام کی سماجی وثقافتی اکائیوں میں تقسیم ہے جن میں بڑی دوریاں اورفاصلے دکھائی دیتے ہیں’ کئی زبانوں میں منقسم’ کئی ذاتوں میں بٹی ہوئی’ کئی اسلامی فرقوں اورمذہبی عقائد میں اپنی اپنی علیحدہ شناخت سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹنے والی اِس پاکستانی قوم میں باہمی نفرت کی آگ اور باہمی مذہبی تفرقوں کے جھگڑوں کو اگرہوا دی جائیتو ایسا کیا جائے کہ پاکستانی قوم ایک دوسرے کے وجود کو برداشت نہ کرنے اس ‘ڈی’ میں جاپہنچے اورباہم دست وگریباں ہوجائے پاکستانی قوم میں باہمی خونریزی کا بازاراتنا گرم اور آتشیں ہوجائے کہ سنبھالے سنبھل نہ سکے’یہ ٹارگٹ ایک مضمون کی شکل میں 24 جنوری 2017 کو فارن پالیسی میگزین میں امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ فوراسٹار جنرل جیمز سٹاوریٹس نے جوکہ افغانستان میں نیٹو کا سپریم کمانڈر رہ چکا ہے اس نے تحریر کیا شنید ہے کہ بعض امریکی (یہودی) تھنک ٹینکس نے جمیزسٹاوریس کے اِس شطان صفت آرٹیکل کے مندرجات پر مغربی میڈیا میں ایک فکری بحث شروع کرادی ہے اپنے اِسی آرٹیکل کے سرنامہ کو’نظریہِ بلیک سوان ایونٹ’سے تعبیر کرتے ہوئے کئی ایسے ‘خد شات ‘جوبراہِ راست پاکستان کے لئیانتہائی تکلیف دہ مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں’ ان پربڑی تفصیلی گفتگو موجود ہے یہ آرٹیکل چونکہ انگریزی زبان میں لکھا گیا جس بڑے اورکھلے پیمانے پرپاکستان کو نشانہ بنانے والے اِس آرٹیکل کے زہریلے مواد پرملکی میڈیا میں تکرار کے ساتھ مسلسل بحث ہونی چاہیئے تھی وہ تاحال نہ کسی اردو اخبار میں کہیں پڑھی گئی اورنہ ہی کسی پاکستانی چینل پراِس ‘مہلک آرٹیکل’ پرکوئی ٹاک شو کسی نے دیکھا سنا ہے کہ ایک بہت ہی معروف اینکر ‘ڈاکٹر صاحب’ نے اپنے ٹاک شومیں اِس پرجتنا بھی ہوسکا انہوں نے اپنا خالص’وطن پرستانہ حق اور اپنی ذمہ داری کو ضرورادا کیا ہے’ جس پریہاں ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اب ہم آتے ہیں کہ ‘بلیک سوان نظریہ’کیا ہے؟پاکستانیوں کی غالب اکثریت نے یہ ‘نظریہ’ یا یہ اصطلاح پہلی بارہی سنی ہو؟لیکن باخبرپاکستانی حلقے جومغربی نکتہِ نگاہ سے پاکستانی اندرونی اوربیرونی معاملات کو دیکھنے اورسمجھنے کے عادی ہیں’وہ یقیناًخوب جانتے ہوں گے کہ مغربی دنیا کے تھنک ٹنیکس’برطانیہ اورامریکا کے تھنک ٹینکس چلانے والے ‘بزرجمہرے’سفید بھوں اورسفید بالوں والے اور ‘سفید رنگت’ کی ‘نسلی تفریق کے متعصب کیعلبردار’آجکل مسلم دنیا بالخصوص پہلی سطح پرپاکستان میں’بلیک سوان نظریئے’کا’وار’کرنے کی صف بندی پرسوچ وبچارکرنے اور عملا اسے آزمانے کے لئے کمربستہ ہونے کی تیاریوں میں ہیں ‘سوان(Swan) انگریزی کے اِس لفظ کے معنی ہیں’بطخ یا ہنس راج’ سفید بطخ اورسفید ہنس راج تو ہم نیدیکھے ہیں’بلکہ یہ پرندہ زیادہ ترہوتا ہی سفید رنگ کا ہے’اگر کہیں کسی کو سفید کی بجائے کالی بطخ یا کالاہنس راج دکھائی دے تو وہ فوری سمجھ نہ پائے گا کہ یہ کون سا پرندہ ہے؟مطلب یہ ہوا کہ اس نے کوئی ‘انہونی’سی چیز دیکھ لی ‘بلیک سوان تھیوری’ کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا کواپنے تابعِ فرماں بنانے کے لئے عالمی سامراجی طاقتیں ‘ٹارگٹٹ ترقی پذیر ملکوں’ میں سے جسے چاہئیں’ جس ملک میں چاہئیں کوئی ایسی ‘انہونی’اورعقل وفکر سے ماورا کوئی ایسا ہوش وخرد کو حیران کردینے والا واقعہ رونما کروادیں اورجس ملک میں یہ ‘انہونی’ وقوع پذیر ہوجائے وہاں کے عوام ابھی ‘انہونی’ کوسمجھنے ہی نہ پائیں کہ یہ ہمارے ساتھ آخر ہوکیا گیا ہے؟ سامراجی جارح قوتیں ایسے ہی حیران اورششدر کردینے والے لمحات میں اس پوری قوم اوراس پورے ملک کو اپنی مٹھی میں یکدم دبوچ لیں’اورپھران کیلئے ‘سب اچھاہی اچھا’جی ہاں صاحب! اِسے کہتے ہیں ‘بلیک سوان نظریہ’جس کی ایک مثال توخود امریکا ہی ہے’ ووٹنگ ہورہی ہے اورہیلری کلنٹن جیت کے مرحلے میں جشن کی تیاری میں ہیں مگروہ ‘ہار’گئیں؟’ڈونلڈٹرمپ’ دوردورتک جن کی جیت کا کوئی امکان تک دکھائی نہیں دیتا تھا وہ آج دنیا کے سب سے بڑے طاقت ورملک امریکا کے صدربنے بیٹھے ہیں’یہاں اور زیادہ آسانی سے پاکستانی قوم کو شائد یوں سمجھ آجائے کہ ‘بلیک سوان تھیوری’ کا ایک ٹریلریہاں بھی آزمایا گیا اور قوم نے برسروچشم’بلیک سوان تھیوری’ کا یہ ٹریلر بہت آسانی کے ساتھ نہ صرف ہضم کرلیا’ بلکہ دل وجان سے قبول بھی کرلیا’ وہ یہ کہ محترمہ بی بی شہید کی حیات میں پی پی کی ایگزیکٹو کونسل کے کسی ایک سینئر رکن کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی بلکہ ان کے خیالوں کے کسی کونے کھدرے میں بھی یہ خیال نہیں تھا کہ محترمہ کے شوہرِ نامدارآصف علی زرداری کبھی مملکتِ جمہوریہِ اسلامی پاکستان کے صدر بن سکتے ہیں؟جنہیں خود بی بی جیسی اعلی سیاسی بصیرت ویژن رکھنے والی اہم سیاسی رہنما نے بھی کبھی ‘سیاستدان’ تسلیم کیا ہی نہیں تھا پہلے تو بی بی کی شہادت کے فورا بعد ‘بلیک سوان ٹائپ کا ایک وصیت نامہ’ لے کر وہ اچانک منظرعام پر نمودار ہوئے’سب ہکا بکا رہ گئے لاڑکانہ میں ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے ‘پوری پیپلز پارٹی’ جسے دنیا کے انتہائی نامور اور ممتاز سیاسی عالم وفاضل کئی کتابوں کے مصنف’لا کے لیکچرار خودلائراوربیرسٹر’ تیسری دنیا کے اتحاد کا انقلابی فلسفہ تحریر کرنے والے واحد لیجنڈ’عملی سیاسی جدوجہدکے نڈراور بے خوف قافلہ سالار ذوالفقارعلی بھٹو نے قائم کی تھی’ وہ پارٹی ‘بلیک سوان وصیت نامہ’ کی زد میں آکر آصف علی زرداری’جیسوں’ کی جھولی میں’دنیاوی نعمت’ کی مانندخودبخود آن گری؟’ کسی جانب سے کوئی چوں تک نہ کرسکا، کوئی تو سمجھائے یہ کیسی ‘انہونی’بارودی واردات تھی نہ کوئی آوازبلند ہوئی نہ کوئی دھماکہ ہوا’ جس کا کم سے کم فہم وادراک کا بی بی شہید کی اپنی زندگی میں کہیں بھی اشارتا کسی کو نہ مل سکا،ایسی ہی’انہونیاں’دنیا بھرمیں وہ قوتیں اپنے ‘مخفی ہرکاروں’ کے ذریعے سے بروئےِ کارلاسکتی ہیں’ جن کی نظریں چند برسوں پرنہیں بلکہ صدیوں پرٹکی ہوئی ہوتی ہیں’ مثلاہمیں بحیثیت صحافی یہ خوف کیوں لاحق ہے’ جیسا امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے یقیناً’ہارنے’ کے بعد اس کااچانک ‘جیت’ جانا’ آصف علی زرداری جیسے ایک نیم خواندہ اورغیر سیاسی پس منظررکھنے والے ‘عام سے شخص’ کا ایوانِ صدر پہنچ جانا اوراپنی پانچ سالہ آئینی مدت کا مکمل کرلینا اوراقتدارختم ہوجانے کے بعد آئندہ کے لئے بھی سیاست میں رہنے کیلئے تگ ودو کرنا، اِسی طرح سے یہ امربھی ہمارے ذہنوں میں ایک خلفشارسا مچائے رہتا ہے کہ کرپشن اوربے انتہا کرپشن نے ہماری قومی سیاست کو دیمک کی طرح سے کھانا شروع کردیا ہے’قومی سیاست پرکیا منحصر!قومی زندگی کے تقریبا سبھی طبقات’ملکی بیوروکریسی ہو’ انتظامی ادارے ہوں’قومی صحت کے شعبے ہوں یا تعلیم کے نچلے اوراعلی ادارے ہوں’انسانی حقوق کی خدمات کے نام پرقائم ملکی این جی اوز ہوں’اورتواورہمارے مذہبی اداروں پر بھی کرپشن کے الزامات ہمارے لئے چولو بھرپانی میں کہیں ڈوب مرنے کا مقام ہی سمجھیں’ ۔