- الإعلانات -

پاکستان۔’نظریہِ بلیک سوان’ کی زد میں تونہیں؟

گزشتہ سے پیوستہ
پاکستانی سماجی معاشرہ باہم لسانی بنیادوں پر’ صوبائی تعصب کی بنیاد پرباہم متصادم ہوجائے’پاکستان کے شہروں میں’پاکستان کے محلوں کے گھر گھر میں قتل وغارت گری شروع ہوجائے’ بہت ہی کوششیں کرلی گئی عراق میں ‘شیعہ سنی’ تفریق کواجاگر کرکے وہاں کے مسلمان فرقوں کو لڑانے کی’ جس میں وہ بہت بری طرح سے ناکام ہوگئے’نظریہِ بلیک سوان’ کا ایک نہایت قبیح پہلو یہ بھی پاکستان دشمن عالمی طاقتوں کے تھنک ٹینکس کے زیر بحث ہے’ ہمارے جیسے اور بھی بہت سے دردمند پاکستانی دانشورحلقے سمجھتے ہیں کہ اگر مغربی خفیہ ایجنسیوں نے بھارتی خفیہ ادارے’را’ کی ملی بھگت سے پاکستان میں ایسی کوئی انسانیت سے گری ہوئی مذموم کوشش کی تو پاکستانی مسلمان چاہے ان کا تعلق کسی بھی مسلم عقیدے یا فرقہ سے ہووہ دشمنوں کے عزائم کا کبھی ترنوالہ نہیں بنیں گے’بلکہ دشمنوں کے لئے پاکستانی قوم متحدہوکر لوہے کے چنے ثابت ہوگی’ملکی قومی اداروں کی انتظامی کمزوریوں کی بات جیسے اوپر بیان کی گئی’چارمقتدرآئینی قومی ادارے جن میں پارلیمنٹس’ اعلی عدلیہ اورفوج’ جبکہ چوتھا ادارہ ‘صحافت’ ہے’جسے مہذب جمہوری معاشروں میں حکمرانوں کی ‘آنکھ اور کان’ کہا جاتا ہے’پارلیمنٹ نے ملکی آئین بنایا اب اِن چاروں اداروں سے اہم ‘ملکی آئین بن گیا۔کیونکہ پارلیمنٹس’اعلی عدلیہ اورفوج کے اعلی ترین حکام اورکاکول اکیڈمی سے پاس آٹ ہونے والے کیڈٹس ‘آئینِ پاکستان’ کا حلف اٹھاتے ہیں’ یہاں ‘آئینِ پاکستان’ کے تفصیلی مندرجات تحریرکرنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں’ سبھی کوپتہ ہے’پھر بھی عجب صورتحال ہے’ کوئی کہتا ہے پارلیمنٹس بالا واعلی ہے’پھر آئین کی نکات کی تشریحات کا حق کس کو دیا جا سکتا ہے’ سپریم کورٹ کو یا مثلاپارلیمنٹ کے رکن جمشید دستی صاحب کو؟ فاضل ممبر پارلیمنٹ جمشید دستی توایک علامت سمجھیں’استحقاق کی باتیں بڑی ہوتی ہیں’ اعلی عدلیہ نے’ملکی افواج نے ‘آئینِ پاکستان’ کی پاسداری کا برملاحق ادا تو کیا ہے یا نہیں؟بقیہ اہم اعلی سیاسی اور اعلی انتظامی اداروں کی زبوں حال اورنفسانفسی نے پاکستان کوآج اِس حال پر پہنچا دیا ہے ملک کی نہ سیاست مضبوط ومستحکم ہے اور نہ ہی ملک کی اقتصادی صورتحال قابلِ اطمنان بخش ہے؟بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا’ سسکتا ہوا ایک ایسا ملک جو مسلم دنیا کا اکیلا ایٹمی ڈیٹرنس رکھنے والا ملک ہو(خدانخواستہ)کہیں اگر وہ ‘ڈیفالٹ’ ہونے کے قریب پہنچ گیا توپھر کیا ہوگا؟’نظریہِ بلیک سوان’کے کھنچے ہوئے ترکش میں سے چلنے والے تیروں کا کیا بحیثیتِ قوم ہم سب مل کر انتظار کریں؟ ایک کلبھوشن یادیوکو پاکستانی فوج نے رنگے ہاتھوں پکڑا’سیاسی حلقوں نے کلبھوشن جادیو کا کیا بگاڑ لیا ؟ ایران سے کھچنے ہوئے تازہ ترین سفارتی تعلقات میں بگاڑ کی اصل وجوہات جاننا اورانہیں بہ احسن وخوبی حل کرنا فوج کا کام نہیں ہے’سیاسی اتھارٹی کی ذمہ داری بنتی ہے’مسلم پڑوسی ملک ایران سے آنے والی دھمکیوں پرقوم کوسخت حیرت ہورہی ہے’پہلی فرصت میں وزیر اعظم پاکستان کو اِس نازک موقع پرتہران کا ہنگامی دورہ کرنا چاہیئے تھا کیوں نہیں کیا گیا؟مشرقی سرحدوں پربھارت نے اپنی فوجیں ‘سرجیکل اسٹرائیک’ کی انتہائی پوزیشنزپرلاکھڑی کی ہیں’ جبکہ مغربی سرحدوں کے پارافغانستان میں نیٹواورامریکی فوجیوں کی موجودگی میں بلوچستان کے چمن کے بارڈرپرافغان فوجی دستوں کے ساتھ ‘ہلکی جنگ’تک ہوچکی ‘ملکی فوج سرحدوں پرمصروفِ عمل ہے’ جبکہ کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں دہشت گردوں کی محفوظ کمیں گاہیں ایک علیحدہ حساس چیلنج ؟افغان انٹیلی جنس ادارے این ڈی اے’ بھارتی ایجنسی’را’ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی’موساد’ سمیت دیگرمغربی خفیہ ادارے سب یکجا اور متحد ہیں پاکستان کا بحیثتِ ایٹمی ریاست وجود قائم رکھنا اورجنوبی ایشیا میں ایک طاقتوراورڈسلپن افواج کے ساتھ پاکستان مغربی دنیا کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے یہ صورتحال مغرب اور امریکا سمیت بھارت کے اب بہت ہی تکلیف دہ بنتی جارہی ہے’مغربی’ اسرائیلی اور بھارتی میڈیا پاکستانی عوام کے اعصاب کو ذہنی طور پرانتشارزدہ کرنے اور ملک کوانارکی سے دوچار کرنے میں اپنی جگہ مصروفِ عمل’ جبکہ اِس جانب پاکستان میں سرکاری سطح پر تاحال یہ طے نہیں ہوسکا کہ کون پاکستان کا دوست ہے اور کون پاکستان کا دشمن؟یہ تمام ‘کنائیے اور اشارے ‘مغربی معاشی تباہ کاروں کے ہاتھوں کی انگلیوں کی پورں پرہیں وہ اپنی اِن انگلیوں کے پوروں کو اپنے انگوٹھوں سے مسلسل سہلاتے رہتے ہیں’ان کے شیطان صفت دماغوں میں یہی چکر چلتا رہتا ہے کہ پاکستانی ایسی قوم کو’جسے ان کے ایک ہی جیسے حکمرانوں نے گزشتہ70 برسوں میں نہ پینے کیلئے صاف پانی مہیا کیا نہ انہیں بجلی دی’ نہ ان کے ملک میں کوئی بہت بڑا صنعتی شہرہے جہاں روزگار کی سہولیات عام ہوں’ ان کی زراعت بنجر اور بے آب وگیاہ بدترین صورتحال سے دوچار ہے’ اِس قوم کے مذہبی رہنماں نے نیم خواندہ طبقات میں توہمات کا ایک جہاں آباد کرکے ان کی محنت ومشقت کی کمائی کووہ منٹوں سیکنڈوں میں اپنی جھولیوں میں بھر لیتے ہیں’ زورآور’ پائیدار’موثر’مستحکم اورعوامی سطح پر بے حد مقبول سیاسی قیادت کی بحران میں مبتلا قوم پراگرکوئی غیرملکی مہم جو یعنی مغربی طاقت ‘بلیک سوان نظریہ’کا کوئی کرشمہ دکھاکر اِس قوم کو بے روح کرڈالے’توایسا ہوجا نا کیا ممکن نہیں ہوسکتا یا نہیں؟ قوم کو اب ہوش مند ہونا پڑے گا’ قوم کیحقیقی فکرمندوں کے لئے یہ لمحات بہت زیادہ باعثِ تشویش ہونے چاہئیں’ہماری70 سالہ درگزراور ‘پھردیکھ لیں گے’ فی الحال یہ وقت گزارو’ والی ‘ڈنگ ٹپا خارجہ پالیسی’ سے تائب ہوکر بحیثیتِ قوم ہرایک کو ہوش کے ناخن لینے کا یہی واحد موقع ہے سب کام فوج اورسپریم کورٹ کے سپرد کرکے قوم کا ہر فرد اپنی قومی ذمہ داریوں سے عہدہ برا نہیں ہوسکتا، کیونکہ ان کی ‘مکمل تباہی اوربربادیوں کے مشورے ہورہے ہیں ان کے اصل اور حقیقی دشمنوں کے کیمپوں میں’ہمیں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے سبق حاصل کرلینا چاہیئے تھا مگرافسوس!ہم کبھی چین پربھروسہ کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں ‘کوئی پاکستان کی طرف آنکھ اٹھاکر دیکھے تو سہی؟’فکری اورنظری تیاری ہم نے بالکل نہیں کی ؟ کچھ بھی تو نہیں کیا ہے’ایسا نہ ہو بے خبری میں کوئی بہت بڑا بحران ہمیں ‘بلیک سوان’ کے’انہونے سانحہ’ سے دوچارنہ کردے؟ ملکی سیاسی قائدین کو کوئی دیر کیئے بنا بڑے’ مشکل اورسخت کٹھن فیصلے کرنا پڑیں گے’ اِس کے سوا اب کوئی چارہِ کار نہیں ہے’ اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت فرمائیے(آمین)۔
*****