- الإعلانات -

دلتوں کی مسلمان ہونے کی دھمکی

دنیا کے ہر خطے میں اقلیتیں مسائل سے دوچار رہتی ہیں اور انہیں اپنے حقوق کے حصول کیلئے اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقت ور اکثریت سے لڑنا پڑتا ہے۔ان معاشروں میں مسائل اور بڑھ جاتے ہیں جہاں مذہبی آزادی پر سخت قدغنیں ہوں اور سرکاری وسائل ان کے خلاف استعمال ہونے لگیں۔جیسا کہ ہم اگر اپنے اردگرد کا جائزہ لیں تو ہمارے پڑوسی بھارت میں یہ صورتحال بد تر نظر آتی ہے۔حالانکہ تقسیم ہند کے بعد جب بھارت وجود میں آیا تو اس کی سیاسی قیادت نے آئین کو لبرل قرار دیا تھا۔آنے والے سالوں میں یہ دعویداری ہوتی بھی رہی کہ بھارت ایک لبرل جمہوری ملک ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اقلیتوں کو کبھی بھی سکھ کا سانس لینے کا موقع نہیں ملا چاہے کانگریس برسر اقتدار رہی ہو یا بی جے پی۔ہاں البتہ کانگریس بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلے قدرے لبرل اور جمہوری سوچ رکھتی ہے جبکہ بی جے پی کی خشت اول ہی انتہا پسندی اور متشدد سوچ کے گارے سے رکھی ہوئی ہے۔خیر سے گجرات کے قاتل اعظم نریندرا مودی جب سے بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں اقلیتوں کے حوالے سے صورتحال مزید بدتر ہو گئی ہے۔اس پر سونے پہ سہاگہ یہ کہ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں مودی کا دوسرا بہروپ یوگی ناتھ وزیراعلی بن کر سیاہ و سفید کے مالک بن گئے ہیں۔اس بدقسمت ریاست کے باسیوں پر کیا بیت رہی ہے اسکا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب وہاں ضلع مراد آباد کے نان مسلم والمیکی سماج کے سینکڑوں لوگوں نے حکومت کو کھلی دھمکی دی ہے کہ اگر اس کا رویہ نہ بدلا تو وہ اسلام قبول کر لیں گے۔صرف دھمکی ہی نہیں دی بلکہ مذکورہ افراد نے اپنے گھر و ں سے ہندودیوی دیوتاں کی مورتیوں اور تصویروں کو نکال کر راماگنگا ندی میں بہادیا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اعلی ذات والوں کے دبا میں آ کر حجام ہمارے بال اور داڑھی کاٹنے سے انکار کررہے ہیں۔یہ بدترین رویہ اب ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔ایسا صرف ایک ریاست تک محدود نہیں بلکہ بھارت بھر میں یہی صورتحال ہے۔غیر جانبدار ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت کی سماجی و اقتصادی ترقی میں دلت,قبائلی اور مسلمان بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔امیر اور غریب کے درمیان خلیج وسیع ہوئی ہے۔ بے زمین کسانوں کی تعداد میں اضافہ جبکہ روزگار کے مواقع کم ہوئے ہیں.ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار ایکوٹی اسٹڈیز کی طرف سے جاری کردہ انڈین ایکسکلوژن رپورٹ 2016 میں کہا گیا ہے کہ پچھلے پچیس برسوں میں امیر اور غریب کے درمیان عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے۔لیبر بیورو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2015 میں صرف ایک لاکھ پینتس ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں،جو کہ کانگریس کی قیادت والی سابقہ حکومت کے مقابلے کم ہے۔ بااثر طبقات کے مقابلے انتہائی پسماندہ سمجھے جانے والے دلتوں، قبائلیوں اور مسلمانوں کے بڑے طبقے کو ترقی کا خاطر خواہ فائدہ نہیں مل رہا ہے۔مذکورہ تینوں طبقات کی سرکاری مراعات اور اسکیموں تک رسائی بھی نسبتا بہت کم ہے۔ بھارت میں حکومتوں نے زرعی اصلاحات کیلئے متعدد پروگرام شروع کئے لیکن رپورٹ کے مطابق یہ اصلاحات صرف کاغذ تک ہی محدود ہیں۔ان اصلاحات سے دلتوں، خواتین اور مسلمانوں کو کوئی قابل ذکر فائدہ نہیں ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق بے زمین افراد کے لحاظ سے دلتوں کی تعداد سب سے زیادہ 57.3فیصد ہے۔ مسلمانوں کی تعداد 52.6 فیصد اور قبائلیوں کی تعداد 40فیصد کے لگ بھگ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے 40 فیصد بزرگوں کو سماجی سیکورٹی یا پنشن کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے۔ دوسری طرف جیلوں میں قید افراد کی سب سے بڑی تعداد دلتوں اور مسلمانوں کی ہے۔ادھر ایک اور رپورٹ سامنے آئی ہے کہ بھارتی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین تیزی کے ساتھ ملازمتیں چھوڑ رہی ہیں.ایک اندازے کے مطابق 2004 سے 2012 کے درمیان دو کروڑ خواتین نے کام کرنا چھوڑا ہے۔یوں مجموعی تعداد میں 53 فیصد کمی ہوئی ہے جن میں 15 سے 24 سال کی خواتین شامل ہیں۔نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن اور مردم شماری کے اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہوئے ورلڈ بینک کے تحقیق کاروں نے اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی۔مطالعے میں کہا گیا ہے کہ یہ خاصی تشویش کی بات ہے۔ایسے میں جب انڈیا اقتصادی نمو اور تیز تر ترقی کیلئے پر عزم ہے اسے یہ بات یقینی بنانی ہو گی کہ ان کی افرادی قوت میں خواتین بھی شامل ہوں۔انڈیا میں خواتین کے کام کرنے کے حوالے سے ریکارڈ بھی کچھ خاص اچھا نہیں ہے۔ اسے 2013میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے 131 ممالک میں 121ویں نمبر پر رکھا تھا۔
*****