- الإعلانات -

پانامہ کیس :جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ اور حکومتی رویہ

پانامہ کیس کی مزید تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اب تک ہونے والی پیش رفت کی رپورٹ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان کے عمل درآمد بینچ کے سامنے پیش کردی۔جس پر سپریم کورٹ نے اطمینان کا اظہار کیا۔جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ کے سامنے تین سربہمر لفافے پیش کیے گئے جس میں اب تک پاناما لیکس کے معاملے پر ہونے والی تحقیقات کی تفصیلات درج تھیں.اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے استدعا کی گئی کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو عام کیا جائے۔تاہم جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ مناسب وقت پر رپوٹ منظر عام پر لائی جائے گی۔سماعت کے دوران خصوصی بینچ کے رکن جسٹس عظمت سعید شیخ نے جے آئی ٹی کو واضح طور پر کہا کہ اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی صورت اضافی وقت نہیں دیا جائے گا۔جسٹس عظمت نے جے آئی ٹی ارکان سے یہ بھی کہا کہ اگر کسی ادارے سے کوئی مسئلہ ہے یا کوئی ادارہ تعاون نہیں کررہا تو بتایا جائے،عدالت اپنے حکم پر عمل درآمد کرانا جانتی ہے۔یہ بات خوش آئند اور عوام کے لیے حوصلہ افزا ہے کہ سپریم کورٹ نے جس عزم اور ارادے کا اظہار کیا تھا اس پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔ اب امید کی جا رہی ہے کہ اس کیس کو مقررہ وقت دو ماہ کے اندر مکمل کرلیا جائے گا۔گزشتہ ماہ 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے تاریخی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو دو ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، جبکہ جے آئی ٹی کو ہر دو ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔ چھ مئی کو سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے جے آئی ٹی میں شامل اراکین کے ناموں کا اعلان کیا تھا اور اسکا سربراہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کو مقرر کیا گیا جبکہ دیگر ارکان میں ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)کے بریگیڈیئر کامران خورشید، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)کے بریگیڈیئر نعمان سعید، قومی احتساب بیورو(نیب)کے گریڈ 20 کے افسرعرفان نعیم منگی، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)کے بلال رسول اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز شامل ہیں۔جے آئی ٹی کو جن سوالات کے جوابات تلاش کرنے ہیں ان کے مطابق 80 کی دہائی میں اسٹیل مل کیسے بنی ، فروخت کیوں کی گئی ، اس کے ذمے واجبات کا کیا ہوا ،فروخت کے معاملات کیسے مکمل ہوئے ، دبئی سے سرمایہ جدہ ، جدہ سے قطر اور پھر لندن کیسے پہنچا۔حسین نواز اور حسن نواز کم عمری کے باوجود کیسے اتنے وسائل کے مالک بنے کہ لندن کے فلیٹ خریدے۔قطری خطوط حقیقت ہیں یا افسانہ ، نیلسن اور نیسکول کا حقیقی مالک کون ہے۔ سرمایہ کہاں سے آیا جس سے حسن نواز نے کمپنیاں بنائیں،وہ رقم کہاں سے آتی ہے جس سے حسن نواز نے اپنے والد کو کروڑوں روپے کے تحائف دیئے۔یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب جے آئی ٹی نے تلاش کرنے ہیں۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنے قیام کے فوری بعد ہی کام شروع کردیا اورگزشتہ روز دو ہفتے گزرنے پراب تک ہونے والی پیشرفت کی رپورٹ جمع کرا کے ہر قسم کی منفی قیاس آرائیوں کا خاتمہ کردیا۔اس موقع پر پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عدالت کے تمام احکامات پر من وعن عمل درآمد کریں گے۔یہاں یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ سپریم کورٹ کے اس تین رکنی بینچ کے سربراہ نے جج جسٹس اعجاز افضل نے تحققیاتی ٹیم پر ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر انھیں محسوس ہو کہ تحقیقات میں کوئی سرکاری ادارہ ان سے تعاون نہیں کرر ہا تو اس بارے میں عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا جائے تاکہ سپریم کورٹ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کرسکے۔عدالت کے یہ ریمارکس یقینا”مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو حوصلہ دیں گے اور وہ آزادانہ اور بغیر کسی دباو میں آئے اپنا کام پوری دیانتداری انجام دے گی۔عام آدمی بھی اس حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہے کہ ایک ایسے ماحول میں جب وزیراعظم عہدے پر براجمان ہیں شفاف طریقے سے تحقیقات کا عمل کیسے آگے بڑھے گا لیکن سپریم کورٹ کا عزم واضح کرتا ہے کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔یہاں تمام سیاسی جماعتوں اور میڈیا سمیت ہر فریق پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تحقیقاتی کام کے عمل کو متنازعہ بنانے کی بجائے آگے بڑھنے میں مثبت پہلوؤں کو اجاگر کریں۔گزشتہ روز حکومتی رہنماوں کا لب و لہجہ نامناسب تھا جس سے اس خدشے کا امکان ہے کہ وہ تحقیقاتی عمل میں استحقاق کی آڑ میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں اگر ایسا ہو تو یہ معاملہ طول پکڑ سکتا ہے۔
انسانیت سوز حرکت پر بھارتی فوجی کیلئے ایوارڈ
انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے لیے یہ ڈوب مرنے والی بات ہے کہ کشمیری نوجوان کو جیپ سے باندھ کر ڈھال بنانے والے بھارتی فوج کے میجر نیتن گوگوئی کو سراہتے ہوئے خصوصی سرٹیفکیٹ سے نواز دیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف نے انہیں اس خصوصی ایوارڈ سے نوازا۔گزشتہ ماہ 9 اپریل کو سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں ایک کشمیری نوجوان کو بھارتی فوج کی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر گشت کیا جارہا تھا۔اس واقعے کی دنیا بھر میں شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز واقعہ قرار دیا گیا تھا جس کے بعد بھارتی فوج نے معاملے کی تحقیقات کا اعلان کیا۔جبکہ مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے اس حوالے سے اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ اس معاملے کی بیرواہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے لیکن اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ الٹا ایسی حرکت کرنے والے اہلکار کو شاباش دی گئی ہے۔ایوارڈ سے نوازنا اس سے بھی زیادہ انسانیت کی تذلیل ہے اس پر یہاں انسانی حقوق کی دعویدار تنظیموں کو ڈوب مرنے کا مشورہ اور مودی سرکار پر تف ہی کہی جا سکتی ہے۔مودی کو یہ بات بقول بھارتی مصنفہ و سماجی کارکن اروندھتی رائے کے ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ وہ بھارت کشمیر میں 7 کے بجائے 70 لاکھ فوج بھی تعینات کر دے، تب بھی اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتا۔
کیا قومی ایئر لائن کا کوئی والی وارث نہیں
ابھی گزشتہ ہفتے والے واقعہ کی گونج تھمی نہیں تھی کہ پی آئی اے کی اسلام آباد سے لندن جانے والی ایک پرواز سے 20 کلوگرام ہیروئین برآمد ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ہے تو یہ قومی ائیر لائن کے والی وارثوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام کہ اس قسم کے واقعات تسلسل سے ہو رہے ہیں.گذشتہ سال اگست سے پی آئی اے کی کم از کم تین پروازوں سے منشیات برآمد ہونے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔گذشتہ دنوں بھی لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے پر پی آئی اے کے اسی طیارے سے ہیروئین برآمد ہوئی تھی۔ 15 مئی کو پی آئی اے کی پرواز پی کے 785 اسلام آباد سے لندن پہنچی تھی جہاں برطانوی حکام نے طیارے کی تلاشی لی اور منشیات برآمد کر لیں.قوم کا سوال تو بنتا ہے کہ وہ کونسا نیٹ ورک ہے جس پر ہاتھ ڈالنے سے حکومت کے پر جلتے ہیں.کیا یہ سب کچھ سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیا جارہا ہے تاکہ اس سونے کے انڈے دینی والی مرغی کو کسی کو گفٹ کی جاسکے.ایسے واقعات پر قوم تو سبکی محسوس کررہی ہے مگر شاید پی آئی اے کے اعلی عہدیدران اس لطیف حس سے عاری ہیں کہ وہ قومی ورثے کی تباہی پر کچھ محسوس نہیں کرپاتے۔