- الإعلانات -

بھارت خانہ جنگی کی راہ پر ۔۔۔؟

انیس اکتوبر کو ممبئی میں شیو سینا کے غنڈوں نے جس طرح بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر پر حملہ کر کے شہر یار خان اور ” منوہر ششانک “ کی ملاقات روکوائی ۔ اسی کے ساتھ ایمپائر ” علیم ڈار “ کو بائیس اور پچیس اکتوبر کو ہونے والے بھارت ساﺅتھ افریقہ میچوں سے ہٹوایا اور اس کے چند گھنٹوں بعد دہلی پریس کلب میں مقبوضہ کشمیر کٹھ پتلی اسمبلی کے رکن ” انجینئر رشید“ کے منہ پر سیاہی پھینکی اور کشمیر کے نو جوان ٹرک ڈرائیور ” زاہد رسول “ کو مار مار کر شہید کیا گیا ۔ اس کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ اس سے پہلے بارہ اکتوبر کو بھارتی صوبے مہا راشٹر کے دارالحکومت مممبئی میں شیو سینا کے رہنماﺅں نے جو اشتعال انگیز حرکت کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی ہندو جنون تھمنے میں نہیں آ رہا اور آگے چل کر جانے یہ کیا گل کھلائے گا ۔ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ ” خورشید محمود قصوری “ کی تصنیف ” Neither Hawk Nor Dove “ کی ممبئی میں ایک بھارتی NGO ” Observer Research Foundation “ کے زیر اہتمام ہونا طے پائی تھی ۔ اس ادارے کے منتظم ” سدھ ویندر کلکرنی “ کے چہرے پر سیاہی مل کر شیو سینا نے مسلم اور پاکستان دشمنی میں ایک بار پھر ہراول دستے کا کردار ادا کیا ۔ یہ عمل خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ شیو سینا محض سنگھ پریوار کا حصہ نہیں بلکہ بھارت کی مرکزی اور مہاراشٹر کی صوبائی حکومت کا اہم حصہ ہے ۔ مودی کابینہ میں اس کے تین وزیر اور مہا راشٹر کے وزیر اعلیٰ ” دویندر فرنویس “ کی صوبائی حکومت میں اس کے بارہ وزیر شامل ہیں ۔ یوں کلکرنی پر ہونے والا یہ حملہ دراصل بھارتی سرکار کا کارنامہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
اسی کے ساتھ ساتھ گﺅ رکھشا کے نام پر بھارت کے طول و عرض میں مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پرعرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے ۔ 28 ستمبر کے سانحہ دادری کے بعد 16 اکتوبر کو ہماچل پردیش کے ضلع ” سر مور “ میں گائے کے مسلمان بیو پاریوں کو اتنا مارا گیا کہ سہارن پور ( یو پی ) سے تعلق رکھنے والا بیس سالہ نعمان موقع پر جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کے چار ساتھی جان کنی کے عالم میں ہسپتال میں داخل ہیں ۔
ان نہتے مسلمانوں پر یہ الزام لگایاجا رہا ہے کہ وہ بھارتی پنجاب سے گائے خرید کر سمگلنگ کی غرض سے ہماچل پردیش لے جا رہے تھے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ ” منوہر لعل کھٹر “ نے پندرہ اکتوبر کو صاف الفاظ میں دھمکی دی کہ اگر مسلمانوں نے بھارت میں رہنا ہے تو ان کو بیف کھانا چھوڑنا ہو گا ۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ بھارت کے تمام فائیو سٹار ہوٹلوں میں اعلانیہ طور پر گاہکوں کو بیف فراہم کیا جاتا ہے مگر گائے کے نام پر بھارتی مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ” لوہانی “ نے اپنے فیصلے میں تحریری طور پر فرمایا تھا کہ ” بھارت کے لئے گائے کا گوبر کوہ نور ہیرے سے زیادہ قیمت ہے “ ۔
بھارت میں ہندو انتہا پسندی کے سر پرستِ اعلیٰ ” RSS “ کے ترجمان ہندی جریدے ” پنج جنیو “ نے اپنے تازہ ترین شمارے ( 18 اکتوبر ( میں لکھا ہے کہ” دادری میں گائے کی ہتیا کرنے والے محمد اخلاق کو مارنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری تھا کیونکہ ہندو دھرم کے مذہبی صحیفوں میں واضح طور پر لکھا ہے کہ گائے کو مارنے والے کو بطور سزا قتل کر دیا جائے “ ۔ یہ تحریر بعنوان ” اس اٹھا پٹھک کے اس پار “ شائع ہوئی ۔ اس کا مصنف ” طفیل چترویدی “ ہے ۔ اس کا اصل نام ” وِنے کرشنا چتر ویدی “ ہے جو طفیل چتر ویدی کے نام سے ” پنج جنیو “ کا مستقل لکھنے والا ہے ۔ اس نے اپنی تحریر کے حق میں بطور دلیل ہندوﺅں کی مذہبی کتاب ” یجر وید “ کے اشلوک نمبر30-18 کا حوالہ بھی دیا ہے۔
بھارت میں جاری ہندو جنون کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ ہندوستان میں تقریباً ایک ہزار سال مسلمانوں نے حکومت کی ۔ اگر وہ بھی اسی طرح کی اقلیت کش پالیسی اپناتے تو آج بھارت میں ہندو قوم اکثریت میں نہ ہوتی ۔ مگر بظاہر لگتا ہے کہ دہلی کے بالا دست طبقات اور جنونی حکمران تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں ۔ یوں آنے والے دنوں میں بھارت بدترین قسم کی خانہ جنگی کا شکار ہو کر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو بڑے خطرے سے دو چار کر سکتا ہے ۔
٭٭٭٭