- الإعلانات -

بلوچستان میں’ر ا انسپانسرڈ‘ مظاہروں کیخلاف ۔جائز فیصلہ

آج سے 19 برس قبل28 مئی1998 کی سہہ پہرکی وہ ’تاریخ ساز ساعتیں‘ پاکستانی قوم کبھی بھی فراموش تو کجا‘ ایک لمحہ کے لئے بھی بھول نہیں سکتیں، جب بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان ضلع چاغی میں یکے بعد دیگرے چھ ایٹمی کامیاب دھماکوں کا کا میاب تجربہ کرکے پاکستان نے دنیا پر یہ حقائق آشکار کردئیے تھے کہ ’پاکستان قائم رہنے کے لئے وجود میں آیا ہے، کوئی کسی غلطی فہمی میں نہ رہے موجودہ پاکستان کسی بھی سامراجی عزائم رکھنے والے طالع آزما کے لئے اب ترنوالہ نہیں رہا، بلکہ برابری کی سطح پر طاقت کے توازن کا حامل ایک اہم ذمہ دار ملک بن چکا ہے، ساتھ ہی پاکستان نے28 مئی1998 سے اب تک اپنے ایٹمی ڈیٹرنس کی اعلیٰ جدید ترین سائنسی ضروریات کے حساس ہمہ گیر پہلوؤں پر بڑی گہری وعمیق سخت نگرانی کے انتظام پر ایک لمحہ کے لئے بھی کوئی ’کمپرومائز‘ نہ کرنے کا عہد کرلیا ہے اور جبکہ دوسری جانب بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں اور ایٹمی مواد کی خود دیش کی منڈیوں میں اور عالمی منڈیوں میں بھی کھلے عام چوری چکاریوں کے واقعات عالمی میڈیا میں رپورٹ ہو رہے ہیں، اِس تمہیدی گفتگو کا ذکر یہاں اِس وجوہ کی بناء پر کیا گیا کہ رواں برس میں مئی کے آخری ہفتے میں 28 مئی کا دن عنقریب ہے قومی طبقات ہر سال کی طرح اِس بار بھی اِس تاریخ سازدن کو ’اپنی قومی آزادی کے تحفظ کے نام پر اپنی پوری طاقت پرور جھنکار کے ساتھ منانے کی بھرپور تیاریاں یقیناًکررہے ہیں اور جو متعصب حلقے ملک کے لئے اپنے دل ودماغ میں پنپنے والی مختلف اقسام کی بیماریاں جوں کی توں رکھنے پر بضد ہیں جن کی نہ قیامِ پاکستان کے وقت کوئی کمی تھی نہ ہی آج ہمیں اُن حلقوں میں کوئی کمی دکھائی دے رہی ہے افسوس تو یہ ہے کہ ملکی آئین کا حلف لے کر پاکستان کی پارلیمنٹس میں براجمان کچھ ایسی قوتیں جو ’پاکستانیت‘ کی سوچ پر یقین ہی نہیں رکھتیں اِسی پر بس نہیں بلکہ اگر کہیں اُن کے سامنے کوئی پاکستانی دفاعی معاملہ پر کوئی بات کرنے بیٹھ جائے تو وہ یکایک آگ بگولا ہوکر حالت جنونیت میں چیخنے چلانے لگتے ہیں ایسے چند قوم پرستی کے لبادے اور چادریں اڑھ کر نہ کل باز آئے نہ ہی آج اُنہیں کچھ’حیا‘ ہوتی ہے پاکستا ن کے دفاعی اقدامات کے حساس مسئلے پر اکثر وبیشتر ایسے’ آئین شکن‘ گروہ ’استہزائی قہقہوں‘ میں پاکستان کے دفاعی مسئلوں سے کنی کتراجاتا ہے نجانے یہ کون لوگ ہیں جو پاکستان کو بحیثیتِ مضبوط ملک نہیں دیکھنا چاہتے ایسی افسوسناک اور لائقِ نفریں صورتحال میں پاکستان کی قومی یکجہتی اور فکری ونظری اتحاد پر ایسی پارلیمنٹس سے قوم کیا توقع رکھے ؟ بحیثیتِ قوم اب ہرایک فرد کو خود انقلا بی بن کر باہرنکلنا ہی پڑے گا، بات ہورہی تھی کہ ’یومِ تکبیر‘ تحفظِ پاکستان کا قومی دن 28 مئی کو منانے کی ‘ یہ کس قدر حیرت اور افسوس ناک تعجب کا مقام ہے لسانی قوم پرستی کے نام پر اپنی اپنی الگ سیاسی دکانیں چمکانے والے چند پیشہ ور سیاست دانوں جن کی آستینوں پر اُن کی اپنی ہی محروم ومجبور اور انتہائی بے بسی کی افلاس زدہ زندگی بسر کرنے والوں کے خون دھبے لگے ہوئے ہوں وہ قوم کی رہنمائی خاک کریں گے؟ رواں ہفتے کے آخری دنوں بعد پاکستان بھر میں 28 مئی کو ’یوم تکبیر‘ منایا جائے گا اور پوری قوم’ احساسِ تفاخر‘ کے منظم اور جاندار جذبات سے سرشار ہوگی‘ اِس موقع پر’ ایسوں‘ کو قوم کے سامنے بے نقاب کیوں نہ کیا جائے جنہیں کبھی قوم نے نہ تو14 ؍گست پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر کسی سرکاری تقریب میں شریک دیکھا نہ کسی اور قومی تہوار کی منعقدہ تقاریب میں یہ’ گروہِ ناشکرا‘ یا اِس ’گروہِ ناشکرے‘ کا کوئی اہم نمائندہ کہیں دیکھا گیا، ہاں مگر ہمارا قیاس کہتا ہے پاکستان دشمنی کی مختلف چادروں اور لبادوں میں لپٹے ہوئے چند گنے چنے یہ ’افراد‘پاکستان کو زک پہنچانے ‘پاکستانی افواج پر طعن ولعن کرنے ‘ پاکستان کی دفاعی قوتوں کو دنیا میں بدنام کرنے کی اپنی سی مذموم سرگرمیوں بڑھ چڑ ھ کر اپنا اپنا حصہ ڈالتے ضرور نظر آتے ہیں یہ امر حکومتِ وقت کے لئے بھی لائق تشویش ہونا چاہیئے یہاں ہم بلوچستان کی صوبائی حکومت کے اِ س فیصلہ کو حق پر مبنی جائز فیصلہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں جیسا کہ صوبائی حکومت نے نام نہاد قوم پرست بلوچی تنظیموں کے 28 ؍مئی ’یومِ تکبیر‘ کے موقع پر ممکنہ ہڑتالوں کی کال دے کر پاکستان کے محبِ وطن بلوچی عوام کو گمراہ کرنے کا اعلان کرکے بھارتی خفیہ ’ایجنسی را‘کے ساتھ اپنی وابستگی عملاً ظاہر کر دی ہے یادرہے ’بلوچستان قوم پر ست نام نہاد تنظیمیں‘ جن کا اپر بلوچستان میں کوئی اثروروسوخ نام کو بھی نہیں ہے کوئٹہ‘ زیارت ویلی سے لورالائی تک اور ادھر سندہ کے بلوچستان سے ملتے بلوچ علاقوں تک نام نہاد بلوچ قوم پرست تنظیمیں اپنا حلقہ نہیں رکھتیں ماضی میں بھی دیکھا گیا کہ ہرسال28 ؍مئی ’یومِ تکبیر‘ کے موقع پر ’را‘ کی انسپانسرڈ شدہ ہڑتالوں کی ایسی ’کالز‘ دی جاتی رہیں مگر یہ ’کالز‘ ہمیشہ بہت بُری طرح سے ناکام ہی رہی ہیں اور اب ناکام رہیں گی افواجِ پاکستان کے حساس سیکورٹی ادارے آئی ایس آئی نے کلبھوشن جادیو نیٹ ورک کو ایران اور پاکستان سے ملنے والی سرحدوں پر جڑ بیخ سمیت اکھاڑنے میں ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے جسے پاکستانی قوم نے بے حد سراہا یہاں وہ بے مقصد اور لایعنی سا ایک محدود پیمانے پر سرگرم گروہ اپنی سی لاکھ کوششیں کرئے قوم نے اُس گروہ کو کل بھی مسترد کیا تھا آج بھی قوم کی نظروں میں اُن کی کوئی اہمیت وافادیت نہیں جو سوشل میڈیا پر وقتاً فوقتاً پاکستان کی نظریاتی تشخص کو مجروح کرنے جیسی گھٹیا حرکات میں ملوث ہے ہم یہاں وفاقی حکومت سمیت دیگر اہم مواصلاتی اداروں کی توجہ اَس جانب مبذول کرانا اپنا قومی فرض سمجھتے ہیں کہ اُن سماج دشمن عناصر کے گرد جتنا جلد ہوسکے قانون کی گرفت کو یقینی بنائے تاکہ پاکستان کے دشمنوں تک یہ پیغام واضح طور پر پہنچ جائے کہ پاکستان جاگ رہا ہے اور پاکستانی قوم اپنے نظریاتی ‘اپنے اخلاقی اور اپنے دفاعی اداروں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کا ہر قیمت پر پیچھا ضرور کرئے گی خاص کر بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے اُن ایجنٹس پر جو بلوچستان اور پاک افغان سرحد پر اپنی مذموم اور ناپاک سازشوں کے ذریعے سے ’مقامی جنونی جذباتیت‘ کو اکسا کر اپنے عزائم کے نتائج دیکھنے کے آروزمند ہیں اُنہیں کلبھوشن یادیو کے عبرتناک انجام سے سبق سیکھنا ہوگا یہی پیغام اُن کے کافی وشافی ہوتو یہ اُن کے اپنے حق میں بہتر ہے ۔