- الإعلانات -

ثقافتی اتھل پتھل کاشاخشانہ

بھارت میں آر ایس ایس جیسی قدیم متشدد جنونی تنظیم کے تانے بانے کہاں تک نہیں پھیلے ہوئے دیش کا کوئی ایسا کونہ باقی رہ گیا ہے جہاں فکری و نظری پاگل پن جنونیت کی عفریت نما حیوانیت جس کا تہذیب وتمدن اور رواداری سے دور قریب کا کوئی واسطہ نہ ہو جو وحشت وبربریت کی انتہا پسندی کے زہریلے نفرت کے لیبل اپنے چہروں پر چسپاں کیئے پورے بھارت کو تقریباً آجکل اپنا یرغمال بنا چکے ہیں دنیا بھر کے متمدن میڈیا والے اپنے نظریں بھارت کے اندر لگائے ایک انوکھا ‘انہونا کھیل دیکھ رہے ہیں اب ہماری سمجھ میں یہ بات آگئی اِس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ’بی جے پی نے جس شاونت ازم اور انتہاپسندی کی جنونیت کو عروج پر پہنچا نے میں پہل کی تھی ذرا تھم کر غور کیجئے اِس کا آغاز اصل میں کانگریس نے کیا تھا لگ بھگ 40 برس کانگریس نے نئی دہلی پر ڈھیلی ڈھالی اور آفت کی پرکالی اپنی نام نہاد سیکولر ازم کی جیسی حکومت کی اُس کا ایک نہ ایک روز یہ ہی بُرا نتیجہ بھارت کے ساتھ دنیا کو دیکھنا تھا، سو یہ دنیا نے دیکھ لیا، بھارتی اقلیتوں جن میں ایک بہت بڑی واضح اکثریت مسلمانوں کی ہے، وہ تو ’ہندو ‘ نہ ہونے کی وجہ سے اِن جنونی اور ا نتہا پسند غنڈوں کے ظلم وستم اور جبرو سفاکیت کا نشانہ تو اپنی جگہ بن رہے ہیں، لیکن، کروڑوں کی تعداد میں چھوٹی ذات کے ’ہندو دلتوں ‘پر بھارتی براہمنوں اور دیگر بڑی ذات کے پنڈتوں کے یہ ’دلال ‘ قصاب نما جنونی انتہا پسند کیسے کیسے ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، اُس کی کھلی داستاتیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ‘ اچانک اور یکایک یہ کیا ہوا ہے کیوں بھارت تباہی کے اِس ڈگر پر چل نکلا پل بھر کو نریندرا مودی پر خاموشی کا ایسا فالج گرا اُس کی زبان ہی بند ہوگئی جب بھارت میں صرف اِس شک کی بناءپر کہ ایک مسلمان محمد اخلاق نے گائے کا گوشت کھایا ہے اُسے جنونی ہندوو¿ں کی تنظیم بجرنگ دَل کے غنڈوں نے قتل کردیا بھارت بھر میں زور وشور سے احتجاج ہورہا تھا جبکہ وزیر اعظم مودی خلاو¿ں میں پلکیں جھپکائے بغیر منہ کھولے یوں لگا جیسے اُسے فالج ہوگیا ہو؟ عدم رواداری‘ عدم برداشت اور صبرو استقامت جیسی لافانی انسانی احساسات کو بالائے طاق رکھ کر نہ کسی قوم کی قیادت کی جاسکتی ہے نہ کسی ملک کی انتظامیہ کو چلایا جاسکتا ہے، بھارت کی جہاں تک بات ہے وہاں پر یقینا ایک قوم نہیں بلکہ یہ ملک بھارت کئی قوموں کی جدا جدا اور علیحدہ علیحدہ سماجی ومعاشرتی رہن سہن کی صدیوں پر محیط آبائی سرزمین ہے ، انگریزوں نے برصغیر کو چھوڑتے وقت جنوبی ایشیا کے اِس بڑے خطہ میں ہندوو¿ں پر ’خصوصی مہربانیوں ‘ کا جوہاتھ رکھا اور جاتے ہوئے مسلمانوں کو ہمہ وقت اپنے سازشی حربوں کے تیر ِ ہدف کا نشانہ بنائے رکھنے کا جو وعدہ لیا تھا چاہے وہ کانگریس کے ہندو رہنما ہوں یا بی جے پی جیسی متشدد سیاسی جماعت کے مسلمان دشمن قائدین ہوں اصل میں یہی وعدہ نبھا یا جارہا ہے بر طانیہ کی اِس وقت خاموشی اپنی جگہ ،اُس کی ایک تلخ تاریخی حقیقت ہے مگر، مغرب اور امریکا کی طرف سے بھارت کو وقتاً فوقتاًاب زیادہ شدومد سے ”شٹ اَپ“ کالیں ملنا شروع ہو گئی ہیں چونکہ بھارت کی موثر سول سوسائٹی اب متحرک ہوگئی ہے بھارت بھر میں عدم برداشت اور عدم رواداری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف عالمی شہر ت ِ یافتہ بھارتی ادیبوں کی آوازیںدنیا نے بڑی حیرت سے سنیں بھارتی مصنفوں ‘ شاعروں ‘ ادیبوں ‘ فنکاروں اور آرٹ کی دنیا سے وابستہ نامور شخصیات نے صرف احتجاج ہی نہیں کیا بلکہ یہ واضح کھلا اعلان کیا ہے کہ ’ گوتم بدھ اور گورونانک کی سرزمین پر سکھوں اور مسلمانوں کے خلاف آئے روز کی سفاکانہ زیادتیاں انتہائی شرمناک ہیں‘یہ ہی نہیں بہت سی بڑی بھارتی شخصیات نے احتجاجاً اپنے سرکاری اعزازات حکومت کو واپس لوٹا دئیے، سرکاری اعزازارت واپس کرنے والے سرکردہ ادیبوں کی فہرست میں اب مصنفہ’ دلیپ کور توانا‘ کا نام بھی شامل ہوگیا جو پنجابی زبان میں لکھتی ہیں ‘ انھوں نے یہ کہتے ہوئے ملک کا چوتھا سب سے بڑا شہری اعزاز ’پدم شری‘ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے ’افسوس! ہم نے سوچا بھی نہ تھا کہ ہمیں دیش میں یہ دن دیکھنا بھی پڑیں گے جب دیش کی اعلیٰ قیادت ایسوں کی سرپرستی کھلے عام کرنا شروع کرد ے گی جن کے ہاتھ بے گناہوں اور معصوم انسانوں کے خون سے رنگے ہونگے ‘ ایک کے بعد ایک بھارتی نامور لکھاری مجسم احتجاج کی صورت بنا اپنے آپ کو معصوم انسانیت کے سامنے جوابدہ سمجھنے لگاہے کچھ نہ کچھ تو ازالہ ہونا ہی تھا جو اِس انداز میں دنیا نے دیکھا کہ بھارت میں آئے روز کی اس بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے خلاف اب تک کم از کم 41سے زائد ایسے ادیب شامل ہوگئے ہیں اس کی ابتدا ادے پرکاش اور نین تارا سہگل نے کی تھی اور اس کے بعد یہ کارواں بڑھتا چلا گیا’ ادے پرکاش ‘کا کہنا ہے ’ستمبر میں جب میں نے اپنا” ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ“ واپس کرنے کا فیصلہ کیا تو چاروں طرف خاموشی تھی، اُس وقت لگا کہ شائد کچھ غلط ہو گیا؟لیکن اب مجھ سے بھی بہت بڑے بڑے ادیب و دانشور بھارتی متشدد تنظیموں کی انسانیت کش سرگرمیوں کے خلاف اس تحریک میں شامل ہوگئے ہیں، اب لگتا ہے کہ سب کے دل میں یہ بات تھی جو دیش میں ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہو رہا ‘ غیر ملکی اور کسی حد تک غیر جانبدار میڈیا کے مطابق، بھارت میں گذشتہ چند مہینوں میں کئی مفکروں اور ادیبوں کو بھی نشانہ بنایا گیا کچھ کو صرف ڈرا دھمکا کر خاموش کر دیا گیا لیکن” نریندر دابھولکر اور گووند پنسارے“ کو اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑ ے ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ’ جنونیت کی انتہا پسندی اور توہم پرستی‘ کے خلاف ٹھوک بجاکر موثر آواز یں اٹھا رہے تھے جن بھارتی مصنفین نے اپنے اعزازات واپس کیئے ہیں، وہ اس بات پر ناراض ہیں کہ دیش کے سب سے بڑے ادبی ادارے” ساہتیہ اکیڈمی “نے جنونی انتہا پسند کارکنوں کے ہاتھوں قتل ہوجانے والے دانشوروں کی حمایت میں ایک بیان تک جاری نہیں کیا کسی قسم کی مذمت بھی نہیں کی ادے پرکاش کا یہ بھی کہنا تھا ’ شیوسینا کے کار سیوک غلام علی کو روکتے ہیں، وہ غزل کو روک رہے ہیں، قوالی کو روک رہے ہیں نظم کو روک رہے ہیں کیا وہ دیش میں صدیوں سے قائم اسلامی کلچر کے امتزاج سے یہاں تک نفرت کریں گے جو دنیا بھر میں دیش کے ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل کرچکی ہیںکیا یہ شیو سینا کے مورکھ اب تاج محل کو بھی توڑ دیں گے؟ پھر بات کہاں جا کر رکے گی؟ یقینا نریندرا مودی نے بھارت کو ایک ایسے کٹھن موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں یہ کہنا قرین ِ قیاس ہوگا کہ اُن کے متعصبانہ اقدامات نے سنگھ پریوار‘ کی جنونیت کی انتہا کی اُس عروج پر پہنچا کر فرقہ واریت کے مسئلہ کو بہت زیادہ پیچیدہ کردیا ،جو بھارتی روشن خیال اعتدال پسند ادیبوں اور لکھاریوں کے نزدیک اتنا ناقابل ِ قبول ہوچکا ہے یعنی اب یہ کہا جائے کہ یہ بھارتی متشدد تنظیمیں اپنی جنونیت کے پاگل پن میں اِتنی آگے بڑھ چکی ہیں کہ وہ دیش کے کروڑوں عوام کی زندگیوں کو ہمہ وقت خوف ودہشت زدگی کے ماحول کا عادی بناکر اُنہیں مسلسل مایوسی ‘ بے سکونی اور محرومی کے شدید کرب کے دباو¿ میں کسنے کا خواب دیکھنے لگی ہیں اب یقین کرلیجئے کہ بھارت کے اندر ’نئی روشنی ‘ اور ’پرانی روشنی کے ایک نئے سماجی ومعاشرتی اور ثقافتی تنازعہ نے سر اُٹھا نا شروع کردیا ہے ۔