- الإعلانات -

بھارتی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ.

نریندر مودی وزیر اعظم منتخب ہونے سے پہلے بھی مسلمانوں پر تشدد اور قتل و غارت کے بہت بڑے حامی تھے تاہم مودی سرکار آتے ہی مسلمانوں پر ظلم و جبر انتہا کو پہنچ گیا۔ سیکولرازم کا نقاب اوڑھے بھارت کا اصل چہرہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ہے۔ جہاں دادری کے علاقے میں ایک مسلمان نوجوان کو مندر سے پھیلنے والے اس افواہ کی پاداش میں قتل کردیا گیا کہ اس نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔ جبکہ بھارتی وزیراعظم تمام تر صورتحال میں خاموشی سے اس تشدد سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ انڈین ایکسپریس نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈسٹرکٹ دادری کے گاو¿ں بسارا میں یہ افواہیں پھیل گئیں کہ محمد اخلاق نے اپنے گھر میں نہ صرف گائے کا گوشت ذخیرہ کررکھا ہے بلکہ ان کا خاندان گوشت کو استعمال بھی کررہا ہے۔ مقامی مندر میں اس اعلان کے بعد کہ محمد اخلاق کے خاندان نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔ ان کے گھر پر ایک ہجوم نے حملہ کردیا اور تشدد کرکے خاندان کے سربراہ 50 سالہ محمد اخلاق کو ہلاک جبکہ ان کے بیٹے دانش کو شدید زخمی کردیا۔ہماچل پردیش میں بھی ایک مسلم نوجوان کو ہجوم نے ایک ٹرک میں گائے لے جانےکی پاداش میں مار مار کر ہلاک کردیا۔ گائے اور بھینس ایک جگہ سے دوسری جگہ خرید وفرخت کے لیے ٹرکوں سی ہی بھیجی جاتی ہیں۔ لیکن بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد مویشیوں کی نقل و حمل ایک انتہائی پر خطر مہم میں تبدیل ہو چکا ہے۔دادری کے واقعے سے پہلے ملک کے مختلف علاقوں میں مویشیوں کے ٹرک لے جانے والوں پر حملے اور مویشیوں کو لوٹنے کے درجنوں بڑے واقعات ہو چکے ہیں۔ تعصب اور انتہا پسندی میں ڈوبے ہندو موجودہ بھارتی حکومت کے دور میں کھل کے سامنے آنے لگے ہیں۔مودی سرکار کی جانب سے اس اندوہناک معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے جانے پر اترپردیش کے وزیر برائے اقلیتی بہبود اور سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما محمد اعظم خان نے میدان میں آنے کی ٹھانی، جنہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو خط لکھ کر بھارت میں اقلیتوں کی حالت زار کا معاملہ اٹھایا ۔اعظم خان نے داری میں مسلمان نوجوان کے قتل کے واقعے کو بابری مسجد کے بعد بڑی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس ملک کو ہندو ریاست بنانا چاہتی ہے۔ پانچ صفحات پر مشتمل اپنے خط میں انھوں نے بھارت میں مسلمانوں پر ہندوو¿ں کے مظالم کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔دوسری جانب اعظم خان کے اس جرات مندانہ اقدام سے اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھنے والے ہندو انتہاپسندوں کو آگ لگ گئی اور انھوں نے پارٹی کی قیادت سے اعظم خان کی فوری برطرفی کا مطالبہ کردیا ۔ گزشتہ دنوں ہندوستان کی ریاست گجرات، راجستان، چھتیس گڑھ ، مہاراشٹر اور ہریانہ میں جین میلے کے موقع پر عوامی جذ بات کے مجروح ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مویشیوں کے ذبح اور گوشت کی فروخت پر پابندی لگائی گئی تھی، جبکہ ایسی ہی پابندی ممبئی میں بھی لگائی گئی جس کے باعث ایک بڑا تنازع شروع ہوگیا۔رواں سال مارچ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے مہاراشٹر میں جانوروں کی حفاظت کا ترمیمی ایکٹ پاس کیا تھا جس کے تحت گائے کے ذبح، گوشت کی فروخت پر پابندی لگا گئی تاہم اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا تھا۔بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہندو¿وں کے جذبات کے احترام میں گائے کا گوشت کھانا ترک کر دیں۔کھٹر کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب بھارت میں یہ معاملہ سنگینی اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جمعے کے دن ہی ہندوو¿ں نے ہماچل پردیش میں گائے اور بیلوں کی چوری کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک اور مسلمان کو ہلاک کر دیا۔ اس سے قبل بھی ایک مسلمان کی ہلاکت کی تقریباایسی ہی ایک واردات عمل میں آ چکی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے علاوہ مسیحی برادری بھی گائے کا گوشت کھاتی ہے۔اگرچہ بھارت میں ہندو گائے کو مقدس قرار دیتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ملک میں گائے کو ذبح نہ کیا جائے تاہم دوسری طرف بھارت گائے کا گوشت برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ بھارتی پولیس بھی مسلمانوں پر مظالم ڈھانے میں انتہا پسند ہندوو¿ں سے پیچھے نہیں۔ ممبئی میں پولیس نے دو مسلمان نوجوانوں آصف شیخ اور دانش شیخ کو پکڑ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ دونوں نوجوانوں کو پولیس اہلکاروں نے الٹی میٹم دیتے ہوئے بھارت چھوڑنے اور پاکستان جانے کا کہا۔ تشدد کے نتیجے میں زخموں سے چ±ور دونوں نوجوانوں کو ہسپتال بھی جانے نہیں دیا گیا۔اس واقعے کے خلاف شہریوں نے پولیس سٹیشن کے باہر احتجاج کیا تو یہ خبر میڈیا پر آگئی جس پر پولیس کے اعلیٰ حکام فوری ایکشن میں آئے اور واقعے کی انکوائری شروع کردی- بھار ت کا مکرو چہرہ کھل کر سامنے آگیا اورپاکستانی ہونا گناہ بن گیا۔ بھارتی انتہا پسندوں نے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے بھارت جانے والے مسلمان پاکستانی خاندان کو ممبئی کے ہوٹلوں میں ٹھہرانے سے انکار کردیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والا خاندان حاجی علی درگاہ کی زیارت کرنے کی غرض سے بھارت پہنچا تھا جس نے جودھپور میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں رہائش اختیار کی۔بعد ازاں پاکستانی خاندان جس میں تین خواتین اور ایک لڑکا شامل تھاکے افراد درگاہ کی زیارت کرنے ممبئی آگئے جہاں سے واپسی پر جب انھوں نے ممبئی شہر کے ہوٹل میں رات گزارنا چاہی تو کسی بھی ہوٹل نے انھیں پاکستانی شناخت کرکے ٹھہرانے کی جگہ نہیں دی جس پر سخت سردی میں پاکستانی فیملی کو رات فٹ پاتھ کر گزرنا پڑی۔حقیقت یہ ہے کہ انتہا پسند بھارت میں مسلمانوں اور پاکستانیوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔چند روز قبل ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا نے پاکستانی گلوکار غلام علی کو ممبئی میں شو کرنے سے روک دیا تھا اور سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کے منتظم کو تشد د کا نشانہ بنایا اور انکے چہرے پر سیاہی پھینک دی۔وزیر اعظم مودی نے بذات خود گائے ذبح تنازعے کے نتیجے میں مشتعل ہندوو¿ں کی طرف سے ایک مسلمان کی ہلاکت کو افسوناک قرار دیا تھا کہ اب ایک اور مسلمان اسی طرح ہلاک کر دیا گیا ہے۔ کئی ہفتوں کی خاموشی کے بعد رواں ہفتے ہی مودی نے اس پہلے قتل کو ایک ناخوشگوار واقعہ قرار دیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں گائے کے گوشت پر پابندی لگانے کے نعروں کی وجہ سے اس ہندو اکثریتی ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے ووٹ بینک کو مضبوط بنا سکتی ہے۔