- الإعلانات -

غنی حکومت امن کے دشمن اپنے ارد گرد تلاش کرے.

چند روز قبل امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک خبر شائع کی جس میں کہا گیاکہ امریکی خفیہ ایجنسی کو ایسے شواہد ملے تھے کہ قندوز میں غیر ملکی امدادی ادارے کا ہسپتال پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ’آپریٹیو‘ کے زیر استعمال تھا اور آئی ایس آئی اس ہسپتال کو طالبان سے رابطے کےلئے استعمال کرتی تھی۔اس الزام کو پاکستان نے یکسرمسترد کردیا ،یقیناپاکستان کو ایسا ہی کرنا چاہیے تھا کہ اسمیں اصل مجرم امریکہ کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے، جس نے انسانیت سوز حرکت کی اور ہسپتال کو نشانہ بنا ڈالا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے قندوز کے ہسپتال کے پاکستانی خفیہ ایجنسی کے زیر استعمال ہونے سے متعلق غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور پاکستان ایسے الزامات کی تردید کئی مرتبہ پہلے بھی کر چکا ہے۔پاکستان نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو افغانستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ قندوز پر طالبان کا قبضہ وہ ایشو ہے جسے ایک منصوبہ بندی کے ساتھ ہوا دی جا رہی ہے۔پاکستان کی مسلسل تردیدوں کے باوجود اس چنگاری کو شعلہ بنانے والوں میں بھارت نواز افغان لیڈر آگے آگے ہیں،جن کی قیادت سابق افغان صدر حامد کرزئی کررہے ہیں۔سابق افغان صدر حامد کرزئی کو نجانے پاکستان سے کیا خوف ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں ۔جب سے موصوف تخت کابل سے محروم ہوئے ہیں، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محرومی کے بعدکچھ زیادہ ہی ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہیں۔در اصل حامدکرزئی کابل سے سیاسی بے دخلی کے بعد بھی اپنا اثرورسوخ قائم رکھنا چاہتے تھے ۔اس کام کے لئے پہلے انہوں نے اپنے بھائی قیوم کرزئی کو میدان میں اتارا ،جب دال گلتی نظر نہ آئی تو زلمے رسول کے حق میں بٹھوا دیا ،مگر قسمت نے ڈاکٹر اشرف غنی کی ےاوری کی اور وہ اگلے صدر منتخب ہو گئے۔اقتدارسے محرومی ہی شاید اسے بے چین کئے رکھتی ہے کہ وہ اپنے محسن ملک پاکستان کے خلاف زہر اگلنے لگتے ہیں۔پاکستان ہی کی مہربانیوں سے انہیں پہلی بار اقتدار ملا تھا۔قندھار کے کرز نامی ایک گاو¿ں سے تعلق رکھنے والے حامد کرزئی کا تعلق پشتون قبیلے پوپلزئی سے ہے۔ ان کا خاندان 1982 میں افغانستان میں حالات کی خرابی کے باعث کوئٹہ منتقل ہوگیا۔ ابتدائی تعلیم کابل کے ایک اسکول میں مکمل کی اور اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کےلئے بھارت چلے گئے۔ان کی تعلیم ہندوستان کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں ہوئی شاید یہ اسی تعلیم کا اثر ہے وہ آج بھی بھارت کے گن گاتے ہیں۔ 1982 میںافغانستان لبریشن فرنٹ کے ڈائریکٹر آپریشنز کی حیثیت سے افغان جہاد میں حصہ لیا۔ انہیں پہلا سرکاری عہدہ پروفیسر صبغت اللہ مجددی کی سربراہی میں بننے والی عبوری حکومت میں بطور ڈائریکٹر جنرل تعلقات خارجہ ملا۔پھر جب طاللبان کو اقتدار ملا تو موصوف ان میں گھس بیٹھے،اور 1992 سے 1994 تک افغانستان کے نائب وزیر خارجہ رہے۔امریکہ نے جب افغانستان میں فوجی کارروائی شروع کی تو اس وقت پاکستان میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ کابل پر امریکی قبضے کے بعد انہیں حکومت کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ پھر اکتوبر 2004 میں ہونے والے انتخابات میں اپنے حریف یونس قانونی کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی اور افغانستان کے پہلے باقاعدہ منتخب صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ موصوف جتنا عرصہ اقتدار میں رہے پاکستان کے ساتھ انکے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے۔انکے خیال میں پاکستان ہی طالبان کی پشت پناہی کر تا ہے ۔ ابھی حالیہ دنوں میں قندوز پر حملہ ہوا تو انہو ں نے عبداللہ عبداللہ کے ساتھ ہم آواز ہو کراس کا الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا جبکہ یہ حقیقت آن ریکار ڈ ہے اس کارروائی میں خود موصوف ملوث ہیں کیونکہ جنہوں نے طالبان کا کام آسان کیا چند برس قبل وہ دو طالبان لیڈر پاکستان نے گرفتار کررکھے تھے لیکن حامد کرزئی نے اپنے دور میں انہوں نے انہیں رہائی دلوائی۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موصوف اقتدار سے علیحدگی کے بعد سے ڈاکٹر غنی سے جلے بھنے بیٹھے ہیں۔اب موصوف بھارت اورعبداللہ عبداللہ سے مل کر اشرف غنی کی حکومت کا تختہ الٹنے ےا انہیں ناکام صدر ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔سابق صدر کی سابق انتظامیہ بھی اس کام میں ان کی مدد کررہی ہے ۔ پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمودقصوری نے اپنی تازہ کتاب” نار اے ہاک نار اے ڈو“ میں سابق صدرافغانستان حامد کرزئی کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے کہ کس طرح اس وقت موصوف کی بولتی بند ہوگئی تھی جب اسے آئینہ دکھایا گیا۔وہ لکھتے ہیں کہ صدر حامد کرزئی کے ساتھ میری ون آن ون ملاقات جاری تھی کہ اچانک انہوں نے مجھ سے انتہائی ناراض لہجے میں پوچھا: تم سب پاکستانی افغانوں کو حقارت کی نظر سے کیوں دیکھتے ہو؟ لیکن بعدازاں جب پاکستان کے دورے پر اسلام آباد آئے تو صدرمشرف سے ان کی ملاقات میں انہیں ٹھوس ثبوت دکھائے گئے توان کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئیں۔ اس ملاقات میں افغان خفیہ ادارے کے چیف امراللہ صالح، لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید اور اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل کیانی بھی موجود تھے۔ جب امراللہ صالح اپنے فرسودہ الزامات دوہرا چکے تو اپنی باری پر ہم لوگوں نے ان کو آئینہ دکھایا تو وہ کھسیانی بلی بن گئے۔ ہمارے شواہد میں فون ٹیپنگ، اصل فوٹو اور پاکستان دشمنوں کو افغان حکومت کے جاری کردہ اوریجنل ڈاکومنٹس تھے۔ حامد کرزئی نے جب افغان وزارت دفاع کی وہ حساس دستاویزات دیکھیں تو پسینہ پسینہ ہوگئے۔ ان دستاویزات میں قبائلی علاقوں سے جڑے افغان علاقوں کے حکام کو حکم دیا گیا تھا کہ” بھارتی دوست آرہے ہیں انہیں تمام ضروری اورمطلوبہ سہولتیں فراہم کی جائیں“۔ قصوری صاحب لکھتے ہیں پاکستان کے ہاتھ اصل افغان دستاویزات دیکھ کر افغان صدرشرمندگی کی تصویر بن گئے۔ صدر پرویزمشرف نے جب حامد کرزئی سے سوال کیا کہ افغان علاقوں میں”را“ کے یہ کارندے کیا کررہے ہیں تو ان کے پاس آئیں بائیں شائیں کرنے کے علاوہ کوئی جواب نہ تھا۔ اسی طرح بلوچ عناصر کی افغانستان میں سرگرمیاں اور انہیں افغان حکام کی خصوصی پشت پناہی میں بھارت بھجوانے کے شواہد اور تصاویر دکھائی گئیں توموصوف نے چپ سادھ لی۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے خلاف جاری سازشیں تب سے اب تک جاری ہیں۔حالیہ دنوں میں لوگر ضلع کے پولیس چیف داود احمدی نے جس طرز کا الزام عائد کیا ہے اس سے واضع ہوتا کہ ان سب کی ڈوریاں کوئی ایک ہی طاقت ہلا رہی ہے۔قندوز واقعہ میں پاکستان کو ملوث کرنا اس منصوبہ بندی کا حصہ جس میں ڈاکٹر غنی اور پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔یہ الزام لگانا کہ افغان طالبان کے پیچھے پاکستان ہے،ایک لغو اور من گھڑت موقف ہے۔افغان طالبان افغانستان کے اندر کارروائیوں میں خود کفیل ہیں، اسلحہ اور افرادی قوت کی انکے ہاں کمی نہیں ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ افغان انتظامیہ کا اثرو رسوخ کابل اور چند دوسرے شہروں تک محدود ہے۔ دورد راز کے علاقے طالبان کا گڑھ ہیں، ا±نہیں جب بھی موقعہ ملتا ہے وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کر دیتے ہیں، قندوز میں بھی انہوں نے ایسا ہی کیا۔افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے تال میل کے باعث خود پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا رہتاہے۔پاکستان نے ان نجات کے لئے آپریشن ضربِ عضب شروع کررکھا ہے،دنیا بھر میں اس کارروائی کو سراہا گیا ہے، مریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے گزشتہ دنوںاعتراف کیاکہ پاک فوج اچھے اور ب±رے طالبان میں کوئی فرق نہیں کر رہی۔جنرل جان کیمبل نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان اپنے وعدوں کے مطابق بامقصد کارروائیاں کر رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لئے پاکستان کا کردار اہم ہے۔ویسے بھی سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو م±لک خود دہشت گردی کا شکار ہو وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی دوسرا ملک ایسی مشکل صورتِ حال سے دوچار ہو۔پھر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ افغانستان میں اگر کسی بھی وجہ سے حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا اثر براہِ راست پاکستان پر پڑتا ہے۔ پاکستان کی خواہش و کوشش یہ رہی ہے کہ وہاں جلد از جلدامن قائم ہو تاکہ پاکستان کا امن بھی لَوٹ آئے لیکن جو افغان رہنما بھارت کے زیر اثر ہیں وہ ماحول مکدر بنائے رکھتے ہیں۔بلاشبہ ڈاکٹر اشرف غنی پاکستان کے خلاف ایسی سوچ نہیںرکھتے ہیں،لیکن بھارت نواز سابق لابی نے انہیں گھیر رکھا ہے لہٰذاڈاکٹر غنی حکومت افغانستان کے امن کے دشمن اپنے ارد گرد تلاش کرے۔