- الإعلانات -

بھارت کیلئے واضح پیغام

uzair-column

اب توپورے سیکولربھارت کا منہ کالا سیاہ ہوچکا ہے مودی نے جو حرکتیں شروع کررکھی ہیں اس کے بعد تو اس کو غرقاب ہی ہوجانا چاہیے ۔پوری دنیا میں اس پر تھوتھو ہورہی ہے ۔کوئی بھی قوم اس وقت نام نہاد سیکولر بھارت میں محفوظ نہیں ہے ۔جہاں دیکھو وہیں پر ظلم ہے انتہا تو یہ تک ہے کہ اس گندے ملک میں اڑھائی سال کی بچی تک محفوظ نہیں ۔پھر بھلا مودی ان ہندوﺅں کو کیا دے گا ۔جب سے مودی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ہی شیوسینا نے انتہا کردی ہے ۔بھارت میں عنان اقتدار دراصل شیوسینا ہی چلا رہی ہے اسے مودی کا مکمل طورپرآشیرباد حاصل ہے ۔پاکستان تو اس کی آنکھوں میں شہتیر کی طرح چبھتا ہے ۔گذشتہ روز جب نوازشریف امریکی دورے پر پہنچے تو اس سے قبل سیکرٹری خارجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح طور پر بتادیا کہ پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار تیار کرلیے ہیں اور یہ ہتھیار بھارتی جارحیت کو روکنے کیلئے تیار کیے ہیں ۔اب بھارت کو سمجھ جانا چاہیے کہ وہ کسی خام خیالی میں نہ رہے اگر ذرا سی بھی اس نے کوئی ایسی حرکت کی تو اس کو پاکستان صفحہ ہستی سے نیست ونابود کردے گا اورشاید مودی اسی وجہ سے اقتدار میں آیا ہے کہ اب بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا وقت آن پہنچا ہے ۔امریکہ کو بھی سیکرٹری خارجہ نے واضح کردیا ہے کہ نیوکلیئر سپلائر گروپ میں پاکستان کے حوالے سے تفریق کرنا مناسب نہیں ۔پاکستان کاایٹمی پروگرام انتہائی محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔جبکہ بھارتی ایٹمی ریکٹر میں حادثات پیش آچکے ہیں ۔چونکہ بھارت ایک شیطان ملک ہے اور اس نے ہمیشہ پاکستان میں خلفشار پیدا کرنے کی کوششیں کی ہیں ۔راءمیں باقاعدہ جو ڈیسک قائم ہے وہ پاکستان کیخلاف ہر وقت برسرپیکار رہتا ہے اس کیلئے بھارتی حکومت خصوصی فنڈز مختص کرتی ہے تو پھر بھلا پاکستان کیونکر آنکھیں بند رکھ سکتا ہے ۔شاید مودی 1965ءکی جنگ کو بھول چکا ہے وہ اس کے اب بھی نیندوں میں ڈراﺅنے خواب کی طرح موجود ہوگی کہ بھارتی گیڈروں کو پاکستانی شیروں نے کس کس طرح روند روند کر مارا بزدل ہندوﺅں کی پینٹیں گیلی ہوتی رہیں وہ پاک فوج کے جری جوانوں کا مقابلہ نہ کرپائے اور پھر وہ سکھایا کہ آج تک بھارت ماتھے پر ہاتھ رکھ کر رو رہا ہے ۔اب وہ یہ سوچتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان میں انارکی پھیلائی جائے ،دہشتگردی کی وارداتیں کرائی جائیں ،اپنے جاسوسوں کے ذریعے دھماکے کرائے جائیں لیکن شاید اس کو یہ معلوم نہیں کہ اس وقت پاکستان میں پوری قوم فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوئی ہے ۔پھر وزیراعظم نوازشریف نے بھی بھارت کو کئی دفعہ دو ٹوک لفظوں میں بتا دیا ہے کہ اگر پاکستان کی جانب کسی نے بھی میلی آنکھ سے دیکھا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا ۔راحیل شریف کی زیر قیادت پاک فوج نے دنیا بھر میں تاریخی نام پیدا کیا ہے ۔ملک میں امن وامان قائم کرنے کے سلسلے میں بھی وزیراعظم اورآرمی چیف کا کردار سنہرا ہے ۔جہاں تک سرحدوں کی حفاظت کے تعلق کا معاملہ ہے تو پاک فوج ہردم تیار ہے جب بھی بھارت نے کوئی ایسا اقدام اٹھایا تو پاک فوج نے اس کو بھرپور جواب دیا ۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ منہ توڑ جواب دیا ۔کچھ مسئلہ اس طرح ہے کہ بزرگ کہتے ہیں کہ جب گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف آجاتا ہے اب اسی طرح مودی کے برے حالات آئے تو وہ اقتدار میں آگیا اورساتھ ہی اس نے شیوسینا کو کھلی چھٹی دیدی ۔اس رنگ برنگے رنگیلے کی وجہ سے خطے کا امن تباہ حال ہے ۔وہ شاید یہ سوچ رہا ہے کہ پاکستان کو زیردست کرکے خطے میں کوئی بڑی قوت بن جائیگا تو یہ اس کی خام خیالی ہے ۔پاکستان اس کو ناکوں چنے چبوا دے گا ۔مودی اب یہ جان چکا ہے کہ جہاں تک ایٹمی صلاحیت کا معاملہ ہے تو اس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔وزیراعظم نوازشریف نے بھی واضح کردیا ہے کہ اس پر کسی قسم کاسمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ۔ملکی مفاد کو مقدم رکھا جارہا ہے ۔جبکہ بھارت نے دہشتگردی پھیلانے پر کمر باندھ رکھی ہے ۔ابھی تو آنے والے دنوں میں بھارت کے اندر خالصتان کی تحریک زور پکڑے گی اور یہی سکھ اپنے کرپانوں سے ہندوﺅں کو ذبح کریں گے ۔چونکہ ہندو بنیاءبنیادی طور پر بزدل واقع ہوا ہے وہ سامنے کھڑا ہوکر کبھی بھی مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے ہمیشہ بھارت نے پیچھے ہی سے وار کیا ہے اور پھر اس کو کھٹی ہی کھانا پڑی ۔مگر چونکہ مودی کے ہاتھ میں اقتدار چڑھا ہے اس لیے وہ بندر کی مانند ادرک کا سوا ستیاناس کررہا ہے ۔اس کے دور میں بھارت کو جتنا نقصان پہنچا وہ شاید کسی اور ہندو حکمران نے نہ پہنچایا ہو۔حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ کرکٹ کے حوالے سے خود ہی پہلے پاکستان کے متعلقہ حکام کو مدعو کیا اور پھر ساتھ ہی سازش کے تحت شیوسینا سے حملہ کرا دیا ۔ہمارے کرکٹ کے ارباب اختیار کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کیا اگر وہ بھارت کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیلیں گے تو کیا کرکٹ ہی ختم ہوجائیگی ۔اب آئندہ سے یہ فیصلہ کرلیں کہ بھارت جائے بھاڑ میں اس کے ساتھ قطعی طور پر کبھی بھی کرکٹ کا میچ نہیں کھیلنا ۔اگر وہاں کوئی ذاتی طور پر پھر بات کرنے کیلئے جانا چاہتا ہے تو اسے ذاتی حیثیت میں جانے دینا چاہیے ۔ملکی سطح پر اجازت نہیں دینا چاہیے ۔