- الإعلانات -

وزیراعظم کاساہیوال کو ل پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ساہیوال کول پاور پلانٹ کے پہلے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاں سیاسی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا وہاں ان کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ سیاست میں تناؤ اور تنقید برائے تنقید اور الزام برائے الزام کا رجحان آئے دن بڑھتا چلا جارہا ہے ۔ ایک طرف اپوزیشن حکومت کو حرف تنقید بنا رہی ہے تو دوسری طرف حکومت ان پر تنقید کے تیر چلاتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کیفیت نے سیاسی اُفق کو گرد آلود بنا رکھا ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ مخالفین مجھے نہیں پاکستان کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ‘ ان کے منفی روئیے سے ہم رکنے والے نہیں ‘ الزامات کی سیاست دھری کی دھری رہ جائے گی‘ مستقبل میں ہمارا کام بولے گا ‘ ہمارے پاس تو الزامات کی سیاست کا جواب دینے کا وقت بھی نہیں ہے،ہمیں ترقی میں ایشین ٹائیگر بننے سے کوئی روک نہیں سکتا، آپریشن کر کے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ،آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا، ہم انشاء اللہ معاشی ترقی میں بھی 5.3 فیصد شرح نمو کا ہدف اور اگلے سال معاشی ترقی کا 6 فیصد ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، ساہیوال کو ل پاور پلانٹ 22 ماہ کی قلیل ترین مدت میں مکمل کیا گیا ہے ‘ ہماری حکومت کرپٹ ہوتی تو یہ منصوبہ اتنے کم وقت میں مکمل نہ ہوتے، سی پیک پر عمل درآمد یقینی بنانے میں چینی سفیر کا کردار قابل تعریف ہے،منصوبے پر کام کرنے والے چینی اورپاکستانی انجینئرز کی کارکردگی قابل تعریف ہے،ساہیوال منصوبے کے تمام ورکرز کو ایک مہینے کا بونس انعام میں دیا جائے گا،2018ء کے اوائل تک 10 ہزار میگا واٹ بجلی نظام میں شامل ہو گی۔ بجلی کی وافر دستیابی سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی اور 2018ء کے بعد سے ملک میں کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی۔ اس منصوبے سے مجموعی طو رپر 1320 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی۔ سی پیک کے تحت 56 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور یہ سرمایہ کاری 63 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ خیبر پختونخوا میں بھی مسلم لیگ(ن) کی حکومت موٹر وے اور شاہراہیں تعمیر کر رہی ہے۔ سی پیک کے تحت 2019 تا 2600 کلو میٹر شاہرات کی تعمیر مکمل ہو جائے گی۔ لاہور سے ملتان موٹر وے اگلے سال تک مکمل ہو جائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عوام خود دیکھے کہ ساہیوال کول پاور پلانٹ منصوبہ صرف 22 مہینوں میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ 2015ء میں جب سنگ بنیاد رکھنے آیا تھا تو یہاں بالکل چٹیل میدان تھا۔ لاہور سے اب موٹر وے کراچی کی طرف تعمیر کی جا رہی ہے۔ حکومت ہوتی ہے تو وہ منصوبے دل دیتی ہے یا ختم کر دیتی ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ کوئی ان سے پوچھے کہ ملک میں سڑکوں کی تعمیر کیوں نہ کی گئی؟۔ بجلی کا بحران کیوں پیدا کیا گیا؟۔ محمد نواز شریف نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں سے کوئی پوچھے کہ پاکستان انڈسٹری کیوں بند ہو گئی۔ آج بہتان بازی والے لوگ بیٹھے ہم پر بہتان بازی کر رہے ہیں۔ اگر ہماری حکومت کرپٹ ہوتی تو 22 مہینے کی قلیل مد ت میں اس طرح منصوبے مکمل نہ ہو رہے ہوتے۔ ان منصوبوں کا پاکستان کے عوام کو فائدہ ہو گا۔ کسانوں اور مزدوروں کو فائدہ ہو گا۔ حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لیکر چلے اور ان کے تحفظات دور کرے ۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کا رجحان جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں۔ سیاسی بصیرت سے کام لیتے ہوئے مل جل کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کی ضرورت ہے اس وقت ملک کو کئی مسائل کا سامنا ہے اور مکار دشمن کی پاکستان کو کمزور کرنے کے تاک میں بیٹھا ہے ان حالات میں سیاسی محاذ آرائی سے گریز کرنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔ حکومت اپنی کارکردگی سے سیاسی مخالفین کے منہ بند کرسکتی ہے ۔ اس وقت عوام کو مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی کا سامنا ہے اور لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔ ان مسائل سے عوام کو نکالنا حکومت کا فرض ہے اور حکومت ان فرائض سے عہدہ برآ اس وقت ہوسکتی ہے جب ملک میں سیاسی استحکام ہو ۔ اس وقت جو صورتحال ہے یہ ملک و قوم کیلئے نیک شگون نہیں۔ حکومت برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دے ۔
اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو رکوائے
ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو بدنام کرنے کیلئے داعش بنا رہا ہے اور مظلوم کشمیریوں پر اپنے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لئے ایل او سی پرتناؤ بڑھا رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بجا فرمایا بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہے اور معصوم کشمیریوں کو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کیا جارہاہے جو قابل مذمت ہے، وادی میں مسلمانوں کو مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے سری نگر کی جامع مسجد کے باہر ہر جمعہ کو بھارتی افواج تعینات کی جاتی ہیں، کلبھوشن کا بیان پاکستان میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا ثبوت ہے، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کرنے کی ضرورت ہے۔بھارتی قابض فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا بزدلانہ عمل ہے‘ یہ انسانیت کے خلاف ظلم ہے‘ بھارت کشمیریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کررہا ہے‘ لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے‘ بچوں پر تشدد کیا جارہا ہے‘ خواتین کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔ عالمی برادری کو فوری طور پر ایکشن لینا چاہئے۔ بھارتی بلا اشتعال فائرنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور کے دورے کے دوران بھارت نے سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کی۔ اقوام متحدہ کو بھارتی جارحیت اشتعال انگیزی کا نوٹس لینا چاہیے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تناظر میں مسئلہ کشمیر حل کروانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔
بجلی کی قیمت میں کمی
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کی مد میں بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ 96 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی۔چیئرمین طارق سدوزئی کی سربراہی میں نیپرا میں بجلی کے ٹیرف میں ردو بدل کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے ایک روپیہ 75 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست کی تاہم سماعت کے دوران نیپرا نے مزید 21 پیسوں کا ریلیف دیتے ہوئے ایک روپیہ 96 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دیدی۔ بجلی کے نرخوں میں یہ کمی اپریل کے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ۔ قیمت میں کمی سے صارفین کو ساڑھے 14 ارب روپے کا ریلیف ملے گا۔ تاہم نرخوں میں اس کمی کا اطلاق کے الیکٹرک اور300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پرنہیں ہوگا۔ بجلی کی قیمت میں کمی ایک مستحسن اقدام ہے حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے یہی وقت کی ضرورت ہے۔