- الإعلانات -

بجٹ اور عوامی توقعات

آئندہ مالی سال2017-18ء کا47کھرب53ارب روپے حجم پرمشتمل 1480ارب روپے خسار ے کاوفاقی بجٹ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔جس کے تحت ایڈہاک الانس کو ضم کرکے سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں10 فیصداضافے،محنت کش کی کم سے کم اجرت ایک ہزارروپے اضافے کے ساتھ 14ہزار سے بڑھا کر 15ہزار روپے کرنے ،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی کامیابیوں کا اعتراف،چھوٹے کسانوں کو کم شرح سو د پر قرضوں کی فراہمی، امونیا کھاد کی قیمت میں کمی کا اعلان، جبکہ بجٹ کے تحت لگائے گئے نئے ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں اضافے کے نتیجے میں سیمنٹ ،سریا، در آمدی کپڑے، سگریٹ، پان، چھالیہ، چاکلیٹ، کاسمیٹکس، الیکٹرانکس مہنگی ہوگئیں۔ چھوٹی گاڑیاں، سمارٹ موبائل فون، فون کال، مرغی، شترمرغ ، ٹیکسٹائل، زرعی مشینری ، بے بی ڈائپرز، ہائبریڈکا ر، لبریکٹینگ آئل او ر ٹیوب ویل کے لئے بجلی سستی ہوگئی،85ہزارروپے سے زائد ماہانہ تنخواہ لینے والوں کو ایڈوانس ٹیکس دیناہوگا،1تا5گریڈ کے سرکاری ملازمین ہاس رینٹ الانس کٹوتی سے مستثنیٰ ہونگے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ مسلسل پانچواں بجٹ پیش کر رہے ہیں۔ یہ چیز مضبوط جمہوریت کی عکاسی کرتی ہیں جس پر پوری قوم فخر کر سکتی ہے۔ آج پاکستان تیز تر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اس سال جی ڈی پی میں اضافہ کی شرح 5.3 فیصد ہے جو کہ پچھلے سال میں ترقی کی بلند ترین شرح ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر مناسب سطح پر ہیں جو کہ چار ماہ کی برآمدات کے لئے کافی ہیں۔ گزشتہ 4 سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 81 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اوسطاً20 فیصد اضافہ ہے۔ 2013 سے اب تک پرائیویٹ سیکٹر کو قرضے کی فراہمی میں پانچ گنا سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ تقریبا 4.2 بہتر ہو گا۔ اس سال مشینری کی درامد میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ گیس کی فراہمی بہتر ہوئی ہے اور صنعت کیلئے لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے جبکہ تجارتی اور گھریلو صارفین کیلئے لوڈ شیڈنگ میں واضح کمی ہوئی ہے۔ اس سال جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.28 فیصد رہی جو کہ پچھلے دس برسوں کی بلند ترین شرح ہے۔ رواں سال عالمی معیشت میں 3.5 فیصد کی شرح سے اضافہ کی توقع ہے۔ پاکستان کی معاشی کارکردگی دنیاکے اکثر ممالک کی کارکردگی سے بہتر رہی ہے۔ معاشی ترقی کی بلند ترین شرح کے سبب پاکستان میں ہر لحاظ سے بہتری آئی ہے۔ پہلی دفعہ پاکستان کی معیشت کا حجم 300 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ ا ہمارا زرعی شعبہ اب بہتری کی راہ پر گامزن ہے ۔ حالیہ سال اس کی کارکردگی متاثر کن رہی ہے۔ تمام بڑی فصلوں بشمول گندم کپاس گنا اور مکئی کی پیداوار میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ انڈسٹریل سیکٹر میں 5.02 فی صد اضافہ ہوا ہے اور کاروبار میں روزگار کے نئے مواقع میسر آ رہے ہیں۔ سروسز سیکٹر میں 5.98 فیصد ترقی ہوئی ہے جس میں ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن بنکنگ اور ہاسنگ وغیرہ کے شعبہ جات شامل ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں فی کس آمدن 1.334 ڈالر سے بڑھ کر 1.629 ڈالر ہوئی ہے یعنی 22 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سال ٹیکس کا ٹارگٹ 3.521 ارب روپے ہے۔مالی سال 2017-18 میں مختلف مالیت کے دیگر رجسٹرڈ بانڈ بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ میں اب اس سلسلے میں اگلے سال کے چند اہم اہداف کا ذکر کروں گا۔ جی ڈی پی کی شرح میں 6 فیصد اضافہ انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی ریشو 17 فیصد 1.001 ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی اخرجات 6 فیصد سے کم افراط زر بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.1 فیصد اوری دگر شامل ہیں۔ حکومت 300 یونٹ ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے کم آمدن صارفین کے بجلی کے بلوں کی ادائیگی سبسڈی کی صورت میں جاری رکھے گی۔ بلوچستان کے کسانوں کے لئے زرعی ٹیوب ویلوں کے بجلی کے استعمال پر وفاقی حکومت سبسڈی جاری رکھے گی۔ جبکہ پورے ملک میں زرعی ٹیوب ویل کے لئے 5.35 روپے فی یونٹ آف پیک ریٹ آئندہ مالی سال میں بھی جاری رہے گا اس کا مقصد آئندہ کیلئے مالی سال کے بجٹ میں 118ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ شمسی توانائی سے چلنے والے آف گرڈنظام متعارف کروائے گی۔ اس اقدام میں بلوچستان پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ 2017سے زرعی ترقیاتی بنک اور نیشنل بنک آف پاکستان نئی سکیم کے تحت 12.5 ایکر اراضی رکھنے والے کسانوں کو 9.9 فیصد سالانہ کی کم شرح پر زرعی قرضے دیئے جائیں گے۔ سکیم کی دیگر خصوصیات کچھ یوں ہیں۔ 50 ہزار روپے فی کسان تک قرضہ فراہم کیاجائے گا۔ 20 لاکھ قرضے زرعی ترقیاتی بنک اور نیشنل بنک اور دیگر بنک مہیاکریں گے۔ کسانوں کی سہولت کیلئے سال 2017-18 میں قرضوں کا حجم پچھلے سال کے 700 ارب روپے سے بڑھا کر 1.001 ارب روپے کر دیا گیا ہے جوکہ قرضوں کے حجم میں 43 فیصد اضافہ ہے۔ ڈی اے پی پر دی جانے والی سبسڈی کی فراہمی میں آسانی کی خاطر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈی اے پی فکس سیلز ٹیکس لاگو کیاجائے گا جس کے نتیجے میں جی ایس ٹی 400 روپے سے کم ہو کر 100 روپے فی بوری کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2017-18میں ٹیکس میں کمی اور سبسڈی کے ذریعے یوریاکی زیادہ سے زیادہ فی بوری قیمت 1400 روپے پر برقرا ر رکھی جائے گی۔ہاؤسنگ کے شعبے کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور ہر سال گھر بنانے کیلئے 10 لاکھ روپے تک کے قرضے دئیے جائیں گے اور اس کیلئے 6 ارب روپے مختص کر دئیے گئے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حو الے سے بھی کئی اقعدامات کئے گئے ہیں نئی آئی ٹیز کمپنیز کو 3 سال تک ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی۔ اسلام آباد فاٹا اور گلگت میں آئی ٹی سروسز پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ موبائل کالز پر ود ہولڈنگ کالز کو 14 فیصد سے کم کر کے12.5 فیصد جبکہ ا یکسائز ڈیوٹی کو 18.5 فیصد سے کم کر کے 17 فیصد کیا جا رہا ہے اسی شرح سے موبائل کالز پر سیلز ٹیکس میں کمی کی جائے گی۔ مجموعی مالی محصولات کا تخمینہ 5310 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 4013 روپے ہے۔ کل آمدنی میں سے صوبائی حکومتوں کا حصہ 2384 ارب روپے بنتا ہے جو کہ 2016-17 کے نظر ثانی شدہ ہدف 2121ارب روپے کے مقابلے میں 12.4 فیصد زیادہ ہے ۔ یہ وسائل صوبائی حکومتیں انسانی ترقی اور لوگوں کی سیکیورٹی کے لئے خرچ کر یں گی ۔ دفاعی بجٹ کی مد میں نظر ثانی شدہ تخمینہ جات کے مطابق پچھلے سال کے 841 ارب روپے کی نسبت اس سال 920 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ پی ایس ڈی پی بجٹ رواں مالی سال کے نظر ثانی شدہ تخمینے 715 روپے کی نسبت 40 فیصد اضافے کے ساتھ 1001 ارب روپے رکھا گیا ہے ۔ معاشی نظرنامے کو بدلنے کیلئے ابھی حکومت کو بہت کچھ کرنا باقی تھا تاہم موجودہ بجٹ کو اطمینان بخش قراردیاجاسکتا ہے جب تک معاشی منظرنامہ تبدیل نہیں ہوگا خود کشیوں اور جرائم کونہیں روکا جاسکتا۔تعلیم اورصحت کے شعبے میں خطیررقم بجٹ میں رکھنے کی ضرورت تھی۔ حکومت خودکفالت اورخودانحصاری کی پالیسی اپناکرہی ملک کو معاشی ترقی کے راستے پرگامزن کرسکتی ہے۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے معیار زندگی کو بلند کرے اور ان کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے اور بیرونی قرضوں سے نجات کیلئے خودانحصاری سے کام لے اور براہ راست ٹیکسوں کی حکمت عملی اپنائے۔