- الإعلانات -

یو این سالگرہ، کشمیر اور پاکستان.

asghar-ali

چوبیس اکتوبر کو اقوام متحدہ اپنے قیام کے ستر سال مکمل ہونے پر اپنی ستر ویں سالگرہ منا رہی ہے کیونکہ 1945ءمیں اسی روز اس عالمی ادارے کا قیام عمل میں آیا تھا ۔ اس کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو اگرچہ اس کے کریڈٹ پر کافی اچھے کام بھی ہیں مگر بد قسمتی سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانا مسئلہ یعنی تنازعہ کشمیر تا حال حل طلب ہے اور اسی کی وجہ سے جنوبی ایشیاءمستقل کشیدگی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور بجا طور پر کشمیر کے مسئلے کو دنیا بھر میں ” نیو کلیئر فلیش پوائنٹ “ کے طور پر جانا جاتا ہے ۔
یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونے کی بنیادی وجہ ایک جانب بھارتی ہٹ دھرمی ہے تو دوسری طرف عالمی برادری کی موثر قوتوں کی بے حسی ۔ مگر اسے تاریخ کی ستم ظریفی ہی کہا جا سکتا ہے کہ دہلی سرکار کی جانب سے کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کی جتنی بھی کوششیں کی جا رہی ہے ، ان کے بر عکس یہ تنازعہ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی توجہ کا موکز بنتا جا رہا ہے ۔ گذشتہ ماہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران وزیر اعظم پاکستان نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیے بغیر علاقائی اور عالمی امن کسی صورت قائم نہیں ہو سکتا اور اسی امر کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز امریکہ کے دورے پر پہنچنے کے فوراً بعد بھی پاکستانی کمیونٹی سے اپنی گفتگو کے دوران کیا ۔
اسی کے ساتھ پچیس اکتوبر کو نیو یارک میں گرینڈ کشمیر مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں توقع ہے کہ پاکستانیوں ، کشمیریوں اور سکھوں کے علاوہ انصاف پسند عالمی شخصیات بہت بھارتی تعداد میں شرکت کریں گے ۔ اس کے علاوہ ستائیس اکتوبر کو کشمیر پر بھارتی قبضے کے حوالے سے یومِ سیاہ بھی منایا جائے گا ۔ ویسے بھی پچھلے کئی دنوں سے مقبوضہ ریاست میں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج اور مکمل ہڑتال جاری ہے ۔
اسی پس منظر میں انسان دوست حلقوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی امن کے قیام کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں بھر پور انداز میں ادا کی ہیں جس کا ثبوت اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل پاکستانی دستوں کی شاندار کارگردگی ہے ۔
مبصرین نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی فوج میں دنیا کے مختلف حصوں میں امن قائم کے حوالے سے پاکستان کا شمار پہلے نمبر پر کیا جاتا ہے جس کا اعتراف 13 اگست 2013 کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل ”بانکی مون “نے کیا جب وہ اسلام آباد اپنے دو روزہ دورے پر آئے اور ” Center For International Peace And Stability(CIPS) کا افتتاح کیا ۔واضح رہے کہ یہ تحقیقی مرکز NUST سے ملحقہ ہے اور اس کا اجراءاقوامِ متحدہ نے عالمی امن کے قیام میں پاک فوج کے کردار کے اعتراف کے طور پر کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق 1960ءسے اب تلک افواجِ پاکستان کے 151505 افسروں اور اہلکاروں نے 23 مختلف ممالک میں 41 مشن انجام دیئے ہیں اور اس وقت بھی 8247 پاک افواج کے افسر اور جوان 7 UN Missions میں3 مختلف براعظموں میں عالمی امن کے قیام کے لئے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
پاک افواج نے اس ضمن میں پہلا مشن 1960ءمیں کانگو میں انجام دیا تھا (اگست 1960ءتا مئی 1964 ئ)۔ کمبوڈیا (مارچ 1992 تانومبر1993ئ)،ایسٹ تیمور، انگولا(فروری1995ءتاجون 1997ئ)، ہیٹی(1993ءتا1996ء)، لائیبیریا(2003ءتا تاحال)،ایسٹرن سلووینیا (مئی 1996ءتا اگست 1997 ئ)،آئیوری کوسٹ،روانڈا(اکتوبر1993ءتا مارچ 1996ء)،صومالیہ(مارچ1992ءتا فروری1996ء)،سوڈان(2005 تا تاحال)،سیرا لیون (اکتوبر 1999 ءتا دسمبر 2005 ئ) ،کویت(دسمبر1991ءتا اکتوبر1993ء)،بوسنیا(مارچ 1992 ءتا فروری1996ء)،برونڈی (2004 ءتا تاحال)،کوٹے ڈی لورے(2004 ءتا تاحال)، نانمبیا(اپریل1989 تا مارچ 1990ئ)،ویسٹ نیو گیانا (اکتوبر 1962ءتا اپریل 1963ء)اور دیگر کئی ملکوں اور مختلف براعظموں میں پاک فوج عالمی امن کی بحالی کے لئے خدمات انجام دیتی رہی ہے،ان خدمات کے دوران136 اہلکار اور 22 افسر شہید بھی ہوئے۔
بہرکیف ایسے میں بجا طور پر توقع کی جا سکتی ہے کہ یو این اپنی ستر ویں سالگرہ کے موقع پر اس امر کا ادراک کرے گی تنازعہ کشمیر منصفانہ ڈھنگ سے حل کر کے اپنے قیام کا جواز ثابت کرے ۔