- الإعلانات -

پاکستان مخالف پروپیگنڈے

امریکی میڈیا میں پھر سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا مہم شروع ہو گئی اب بھارتی میڈیا بھی پاکستان کے خلاف بولنا شروع ہو گیا۔ امریکی جریدے نے دعویٰ کیا کہ القاعدہ کا موجودہ سربراہ ایمن اظواہری پاکستان کے شہر کراچی میں موجود ہو سکتا ہے۔ امریکا میں پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان عابد سعید نے اس بے بنیاد پروپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی میڈیا کا ایک حصہ جان بوجھ کر پاکستان مخالف بے بنیاد خبریں پھیلاتا ہے۔ القاعدہ اور دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی افواج کارروائیوں کیں جس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق آفیسر بروس رائیڈل نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایس آئی نے ایمن الظواہری کو کراچی میں چھپا رکھا ہے۔ افغانستان سے القاعدہ کے خاتمے کے بعد آئی ایس آئی القاعدہ کے رہنماء ایمن الظواہری کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سابق آفیسر کا مزید کہنا ہے کہ جب امریکی افواج نے افغانستان سے القاعدہ کا صفایا کیا تو آئی ایس آئی ایمن الظواہری کو پاکستان لے گئی ہے اور اسے ممکنہ طور پر کراچی میں چھپا رکھا ہے جبکہ اس کی لوکیشن کے حوالے سے ہمارے پاس ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ایبٹ آباد میں اسامہ کو ہلاک کئے جانے والی جگہ سے ایمن الظواہری کے متعلق بہت سارے شواہد ملے ہیں۔2 مئی 2011ء کو شہر کراچی امریکی فوجیوں کیلئے اسامہ بن لادن کو پکڑنے اور کمانڈو آپریشن کرنے کیلئے بہت مشکل مقام ہو سکتا تھا کیونکہ اس شہر میں پولیس کی بھاری نفری موجود ہوتی ہے جہاں پاکستان کے بحری اور ہوائی اڈے بھی موجود ہیں جہاں فورسز فوری طور پر امریکی فوجیوں کی راہ میں حائل ہو سکتی تھیں۔سی آئی اے اس لئے بھی پاکستان پر الزام عائد کر رہی ہے کہ گزشتہ دنوں کراچی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے القاعدہ کے انتہائی مطلوب دہشت گرد عبدالرحمان سندھی کو گرفتار کرلیا۔ ملزم کا القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا ہے۔ سندھی مقتول امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہے۔ ملزم عبدالرحمان سندھی کا نام مطلوب افراد کی فہرست میں 2001ء میں اس وقت شامل کیا گیا جب امریکی صحافی ڈینیل پرل کو کراچی میں اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ سندھی اور سعود میمن پر شبہ ہے کہ انہوں نے اغوا کیلئے دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کی تھی۔ امریکی اہلکار سعود میمن کو جنوبی افریقہ سے گرفتار کرکے گوانتانامو بے منتقل کیا گیا ، جہاں سے رہائی کے بعد 2005 میں اس کا انتقال ہوگیا تھا جبکہ عبدالرحمان سندھی نہ تو امریکی اور نہ ہی پاکستانی اداروں کے ہاتھ آیا۔ عبدالرحمان سندھی کو گرفتاری کے فوری بعد حساس اداروں کے حوالے کردیا گیا جو اس سے مزید ساتھیوں اور مستقبل کے اہداف کے حوالے سے تفتیش کررہے ہیں۔مصری نژاد جنگجو رہنما اور اسامہ بن لادن کے جانشین ایمن الظواہری نے شام میں اپنے پیروکاروں اور تمام جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور طویل عرصے کے جہاد کے لیے تیار ہوجائیں۔حال ہی میں القاعدہ نے ان کا ایک آڈیو (صوتی) پیغام جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ پْرعزم رہیں اور گوریلا جنگ کے حربوں کو تبدیل کریں۔ ایک’’ بین الاقوامی شیطانی اتحاد‘‘ شام میں کبھی اسلام کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کرے گا۔ یہ جنگ صرف شامی قوم پرستوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ تمام مسلم قوم کی ایک مہم ہے جو اسلامی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے‘‘۔ پاکستان نے القاعدہ کے کئی اہم رہنما گرفتار کیے۔ ابھی بھی ڈو مور کا راگ الاپا جا رہا ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت ملکی دفاع کے حوالے سے الرٹ ہیں۔ پاکستان کے دفاع پر کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ ایبٹ آباد جیسا واقعہ دہرایا گیا تو نتائج تباہ کن ہوں گے۔ ایبٹ آباد آپریشن یکطرفہ تھا، پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ آپریشن کے دوران ہمارے ریڈار جام کر دیئے گئے تھے۔پاک فوج اور اداروں کو آپریشن کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔اگرامریکہ یا کسی اور ملک نے پاکستان میں ایبٹ آباد آپریشن کی طرز پر یکطرفہ کارروائی کا خیال بھی کیا تو یہ ایک بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ امریکہ نے ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی بارے کوئی قابل اعتماد معلومات فراہم نہیں کیں۔اگر امریکی حکومت کا کوئی شخص کوئٹہ یا کراچی شوریٰ بارے کچھ جانتا ہے تووہ معلومات کاتبادلہ کرے ۔ آئی ایس آئی نہایت پیشہ ور انٹیلی جنس ایجنسی ہے اس کیخلاف الزامات بے بنیاد ہیںیہ صرف یہودی لابی کا پروپیگنڈہ ہے۔
****