- الإعلانات -

’’یومِ تکبیر‘‘۔ آزادیِ کشمیر کیلئے موجبِ اُ میّد

بھارتی زیر انتظام کشمیرمیں ابھی اصل فتح وشکست کا فیصلہ نہیں ہوا ہے’ہم بھی دیکھ رہے ہیں، دنیا کی نگاہیں بھی اِسی پرمرکوز ہیں کہ بھارتی غاصب سیکورٹی فورسنزسے نبردآزما آزادیِ ِ کشمیر کی اُبھرتی مزاحمتی قوتیں وقت کے ساتھ ساتھ اپنے میں پیدا ہونے والی آزادی کی بید ار ہوتی روحوں کی پرورشِ لوح وقلم کے مراحل میں ایک متفقہ عمل پر باہم یکسو ہوتی جارہی ہیں، دوروز پیشتر پاکستانی قوم 28 مئی کو جب اپنی قومی آزادی کے تحفظ اوردفاع کا تاریخی دن ‘یومِ تکبیر’منانے کی تیاریوں میں تھی ‘عین اْن لمحات میں 27 اور28 مئی کی شب بھارتی سیکیورٹی فورسنز نے ماضی کی اپنی حسد اورمتکبرانہ جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے جنوبی قصبے ترال میں بے رحمانہ طویل محاصرے سے اُکتا کر نئی دہلی کی ایماء پر تحریکِ آزادیِ کشمیر کے ایک اور عوامی مقبولیت کی حامل‘ نئی مزاحمتی لہر کے اُبھرتے روحِ رواں سبزار بھٹ سمیت 12 حریّت پسندوں کوموقع پر بڑی بیدردی سے شہید کرکے اِس تحریک میں ایک بار پھر تازہ اور نئی روح پیدا کردی’یومِ تکبیر’پاکستانیوں کا ہی تحفظ اور دفاع کا قومی دن نہیں بلکہ ‘یومِ تکبیر’ جنوبی ایشیا ئی عوام کے لئے امن وسلامتی کی نوید کا دن ہے‘ یہ تاریخی دن اہلِ کشمیر کے لئے بھی اْتنا ہی اہمیت وافادیت کا دن ہے جتنا کسی بھی پاکستانی کے لئے لائق صد افتخار ہے ،یقیناًمقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جنگ کشمیر کے محکوم و مقہور عوام اور نئی دہلی کی غاصب فو ج کے مابین آمنے سامنے لڑتے لڑتے اب اْس مقام پر آپہنچی ہے جس کے نتائج دیکھ کر ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ بھارت چاہے دنیا کی کوئی قوت کشمیری جراّت پسند دلیروں کے مقابل لا کھڑی کرئے وہ اہلِ کشمیر کے بپھرتے ہوئے جوانوں کے جذبوں کو شکست نہیں دے سکتی’بھارت کی باطل پرست غیرمرئی طاقتیں بھی اگرآسمان کی بجلیاں بن جائیں ‘ہمالیہ کی چٹانیں اْن کے عزائم کے مابین حائل ہوجائیں تو بھی کشمیر کے اِن نڈر’بے خوف اورہمہ وقت جن کے سروں پر مو ت کے خطرات کے سائے منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں موت کے یہ بھارتی اندھیرے اْن کشمیریوں کو ایک قدم بھی پیچھے ہٹانے میں اب کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے’اہلِ کشمیر کے دلوں میں آزادی کی شمعیں روزبروز روشن سے روشن تر ہوتی جارہی ہیں، 8 جولائی 2016 کو جب بھارتی سیکورٹی فورسنز نے ‘مظفراحمد وانی’ کو دھوکہ دہی سے گھیر کر شہید کیا تو یہی وہ تاریخ ساز لمحہ تھا جب کشمیری مسلمان نوجوانوں نے اپنی متفقہ آواز میں پہلی بار اپنی پہلی ‘فتح مندی’ کا معرکتہ الاآرا اعلان کیا ،وہ دن ہے اور آج کے یہ فیصلہ کن کٹھن لمحات‘ جوکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں رونما ہونے والی خونریز چھڑپوں کے پے درپے واقعات کا تسلسل کشمیر کی تحریکِ آزادی کا جزولاینفک بنتے جارہے ہیں ، تازہ ترین واقعہ جو27 اور28 مئی کی شب ترال قصبے کی سرزمین پر شہید سبزار بھٹ اور اْن کے دلیر’نڈر اور شہادت کے آرزومندوں نے اپنے لہو سے رقم کیا اِس قابل صد افتخار واقعہ سے کشمیر کی جاری آزادی کی جدوجہد کو اب اور تیز تر جلا ملنے کے سبب کشمیری نوجوانوں میں آتشیں جذبے بھڑکنے لگے ہیں، اہلِ پاکستان اپنے قیام سے آج تک بلا کسی تردد اور فکر ی و نظری شک وشبہ کے کھلے دوٹوک انداز میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہیں، آج سے 19 برس قبل 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بھارتی تکبر وغرور کے بتوں کو ہمیشہ کے لئے پاش پاش کرنے کے لئے اپنا حتمی فیصلہ کیا اور5 کامیاب ایٹمی دھماکے کیئے تھے اْس وقت بھارت نوازمغربی ممالک نے امریکا کی سرپرستی میں پاکستان پر بڑا سخت عالمی دباؤ ڈلوایا تاکہ پاکستان بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا کوئی جواب نہ دے، مگر قوم ذہنی اور فکری طور پر بھارت کو ‘کرارا’ جواب دینے کے لئے ناامیدی ہر قسم کے لالچ کو ٹھکرا کر اور خوف کے ہر ممکنہ اندیشے کو بالائے طاق رکھ کر یک زبان ہوچکی تھی کہ پاکستان کو بھی اب اپنے اْس ایٹمی ڈیٹرنس کی طاقت دنیا کو دکھا دینی چاہیئے پاکستانی قوم نے جس ایٹمی طاقت کو عملی شکل دینے کیلئے کئی دہائیوں سے بڑی سخت مالی قربانیاں خود برداشت کی ہیں یہاں قوم آج نئی نسل کو یہ باور کرانا بھی ضروری سمجھتی ہے پاکستانی ایٹمی پروگرام کے تصور کے اصل بانی کون تھے؟ آج کی پاکستانی نئی نسل کو علم ہونا چاہیئے کہ شہید ذوالفقارعلی بھٹو وہ قائد تھے جن کی قائدانہ صلاحیت وبصیرت کو سلامِ عقیدت پیش کرنے کا یہی موقع ہے، جنہوں نے سقوطِ مشرقی پاکستان کے عظیم سانحہ کے موقع پر تاریخ ساز جملہ کہا تھا کہ’ پاکستان ہزارسال تک اپنے ازلی دشمنوں سے جنگ کرنے کے لئے اب اگلی منزلوں میں اپنی تیاریا ں خود کریگا’ اْنہوں نے بحیثیتِ پاکستانی قائد محسنِ پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیرخان اور اْن کے عظیم اور قابلِ اعتماد سائنس دان ساتھیوں سے ‘تحفظِ پاکستان’ کا وہ تاریخ ساز کام لینے کا بیڑا اُٹھایا جو70 کی دہائیوں سے قبل کسی ایک بھی پاکستانی کے ذہن میں نہیں تھا، ڈاکٹر اے کیو خان اور اْن کے رفقاء سائنسدان پاکستانی قوم کیلئے اب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے لائقِ احترام رہیں گے 28 مئی 1998 کی سہہ پہر کو جب بلوچستان کے علاقہ چاغی کے پہاڑوں کے دامن میں پاکستانیوں کے دلی آرزؤں اور خواہشات نے اپنی ایٹمی دھماکہ خیز گونجدار دھاڑوں سے دنیا کے دلوں کو دہلا ہی دیا تو پھر بھارت سمیت دنیا نے تسلیم کرلیا اب پاکستان دنیا کے کسی ملک کے لئے ترنوالہ نہیں رہا اور نہ ہی بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر پر تادیر اپنا غیر اخلاقی اور غیر سفارتی قبضہ جمائے رکھ سکتا ہے، اب جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن ایک پلڑے میں سما چکا ہے کاش! دنیا کی عالمی طاقتوں کی سمجھ میں یہ نکتہ سماسکے پاکستان کے ایٹمی ہتھیارپاکستان کی دفاعی قوت کے مظاہرہی نہیں ‘ خطہ میں بڑھتے ہوئے بھارتی بالادستی کے مذموم عزائم کی راہ میں یقینی رکاوٹ ضرورسمجھے جائیں اِس لکھے کو دنیا نوشتہِ دیوار سمجھے‘ جو یہ نہیں سمجھتے کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان ہی واحد مسلمانوں کا مرکزہے ،فی الحقیقت دنیا کے ہرایک صاحب الرائے کو اپنی چشمِ بصیرت کی عمیق بصائرسے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اگر کوئی ‘احمق’ پاکستان کومغربی’امریکی یا بھارتی عزائم کی راہ کا کوئی’روڑا’ سمجھ کراْڑانے میں کامیاب ہوجائے گا؟ وہ نادان غلطی پر ہے اور یہ اتنی آسان اور سادہ بات نہیں ہے ، اگر کسی نے ‘پاکستانی بارود کے پہاڑوں کے فلیتے’کو ماچس کی تیلی دکھانے کی کوئی ذرا سی جسارت بھی کی تو پھر جنوبی ایشیا کا امن ہی نہیں ‘بلکہ ایشیا سمیت پوری دنیا کا امن تہہ وبالا ہوسکتا ہے ‘احمقوں کی بڑ’ اب گزرے زمانوں کی بات جانیئے ،بھارت کے ساتھ جڑے پاکستان کے سبھی حل طلب سنگین مسائل بشمول اوّلین مسئلہِ کشمیر‘ بھارتی تکبر اور غرور سے حل ہونے سے تو رہابھارت کو مہذب اقوام کی پیروی کرنی ہوگی پُرامن پڑوسی ملکوں کا پُرامن طریقہ اپنا نا ہی پڑے گا اب تو خود کشمیر کے علاوہ بھارت کے اندر سے بھی ایسی آوازیں اُٹھنا شروع ہوچکیں جن سے وقتی طور پر بھارت جتنا بھی بھاگنا چاہے بھاگ لے بالاآخر تھک ہار کر اُسے خطہ میں امن کی راہ آنا ہی پڑے گا، پاکستان کے ایٹمی اثاثے اہلِ کشمیر کے ایٹمی اثاثے ہیں، کل بھی پاکستان کشمیریوں کی آواز دنیا کے ہرفورم پر اُٹھاتا رہا آج بھی پاکستان کشمیریوں کی توانا آواز ہے ائے اہلِ کشمیر اب نہ رکو! بلکہ اپنے قدم آگے بڑھاتے رہو کشمیر کی آزادی کی منزل اب زیادہ دور نہیں ہے ۔