- الإعلانات -

پاکستان میں کرپشن کا شرطیہ اور تیر بہدف علاج

naseem e sehar

قارئین، آپ نے اگر کبھی بس یا ٹرین میں سفر کیا ہے تو بہت سے ظاہری اور پوشیدہ امراض کے شرطیہ اور سو فیصد ٹھیک علاج کے دعوے اتائی حکیموں کی زبانی سنے ہوں گے۔نہیں سُنے؟ تو چلئے کہیں نہ کہیں دیواروں پر تو ضرور ایسے اشتہار دیکھے ہوں گے، اخبارات میں بھی ایسے بیشمار اشتہارات خاص طور پراُن کے سنڈے میگزین میں شائع ہوتے ہی رہتے ہیں کہ فلاں بیماری،چاہے نفسیاتی ہو، جسمانی ہوں، ذہنی ہو، یا کسی اور قسم کی ہو، کا فوری اور شرطیہ علاج کروانا ہے تو ہمارے پاس آئیں۔آپ کو خوشخبری سنائیں کہ ہمارے پاس کرپشن کی بیماری کا ایسا علاج ہے جسے اختیار کرنے سے ایک دن کے اندر اندر ملک بھر سے کرپشن کا نام و نشان مِٹ جائے گا۔ شرط لگا لیں۔ یہ علاج کیوں ضروری ہے، اِس کا اندازہ لگانے کے لئے پہلے محض نمونے کے طور پر پاکستان میں ہونے والی کرپشن کی چند مثالیں پیش ِ خدمت ہیں۔ انہیں آپ کسی طویل ترین فلم کا مختصر ترین ٹریلر سمجھئے، اور آخر میں ہم نے اِس خوفناک کرپشن کے کینسر کا جو علاج تجویز کیا ہے وہ بھی غور سے پڑھئے گا اور سوچئے گا کہ کیا اب یہ علاج کرنے کا وقت آ نہیں گیا؟اس کرپشن کی کوئی ایک نہیں، بہت سی قسمیں ہیں اور بہت سی چالاکیاں ہیں جن کے ذریعے کرپشن کرنے والے بھی معصوم دکھائی دیتے ہیں اور کرپشن پکڑنے والے بھی۔ بڑے بڑے میگا پراجیکٹس میں اربوں کی رقم اندر ہی اندر پراجیکٹ کی جگہ یوں کہیں اور پہنچ جاتی ہے جیسے کوئی ڈاک کا لفافہ غلط پتے کی وجہ سے مکتوب الیہ کی بجائے کسی اور کو پہنچ جاتا ہے۔پھر پراجیکٹ کے ٹھیکیدار ، انجینئر، کنسلٹینٹ کی باری آتی ہے، نقشے بنانے میں، مال سپلائی کرنے میں، تعمیراتی عمل میں جس قدر بچت ہو سکتی ہے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کاغذوں میں جتنی لاگت دکھائی جاتی ہے اس سے کہیں کم میں تعمیراتی کام مکمل کیا جاتا ہے، سیمنٹ کی جگہ ریت بھی لگائی جا سکتی ہے۔اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے،میٹرو بس میں سفر کر کے تو یقیناً بڑا مزہ آتا ہے، مگر کسی دن جب بارش ہو رہی ہو تو ذرا اس کے نیچے سے بس، ویگن، کار ، بائک پر یا پیدل گزر کر دیکھئے، میٹرو پراجیکٹ کے جلد از جلد افتتاح کی خاطر اس پر بارش کے پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام نہیں کیا گیا، جو ٹریفک اس کے نیچے والی سروس روڈ سے گزرتی ہے بارش بند بھی ہو جائے تو پُل کے اوپر سے یکایک پانی کی تیز دھار آپ پر پڑ سکتی ہے، بائک والوں اور پیدل چلنے والوں کا تو بُرا حال ہوتا ہی ہے مگر کار ڈرائیور کے لئے بھی وہ مرحلہ بیحد خطرناک ہوتا ہے جب یکایک کار کی ونڈ سکرین پر پانی کی بوچھاڑ پڑے اور ڈرائیور کو کچھ نظر نہ آئے جبکہ ٹریفک کا بہاو¿ تیز ہو۔ابھی دو تین دن پہلے مریڑ پُل کے اُوپر بننے والے پُل سے ایک بڑا پتھر نیچے گر کر ایک معصوم بائک سوار کی ہلاکت کا سبب بن گیا، سبب یہی کہ پل کی اس جگہ پر مطلوبہ میٹیریل کی جگہ پتھر بھر دئیے گئے تھے۔ کرپشن کا مطلب کیا ہے، اگر ابھی تک آپ پر واضح نہیں ہو¿ا تو گذشتہ کچھ دنوں میں اخبارات میں شائع ہونے والی یہ خبریں پڑھ لیں کہ یہ سرطان پاکستان کو کس طرح اندر سے چھلنی کر رہا ہے۔ سندھ پولیس کے افسروں نے سپریم کورٹ میں اعتراف کیا کہہمارے ۰۰۴۳ سے زائد اہلکار جرائم میں ملوّث ہیں، جن مین سے۰۰۴۱ کے خلاف کارروائی ہوئی، اور ۰۰۸ اہلکار معطل کئے گئے“ ۔کرپشن کیا ہوتی ہے۔آپ کو یاد ہو گا کہ نیب نے کچھ عرصہ پہلے ایک سو پچاس مقدمات کی فہرست عدالت عظمی میں جمع کرائی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک ایک بااختیار اور بااثرفرد نے قومی خزانے اور اثاثوں کو دس دس بارہ بارہ ارب روپے کا ٹیکہ لگایا ہے، جبکہ یہ لوگ قومی اثاثوں، اداروں اور خزانے کے محافظ مقرر کئے گئے تھے۔جن میں دیگر کیسوں میں غیر قانونی ترقیاں، ملازمین کو غیر قانونی طریقے سے مستقل کرنا، اور متروکہ املاک کے ملازمین کو غیر قانونی پلاٹوں کی الاٹمنٹ شامل ہے۔ کرپشن کے ضمن میں نندی پور پاور پراجیکٹ اور قائد اعظم سولر پارک کے منصوبوں کے بارے میں اخبارات میں جو کچھ آتا رہتا ہے وہ بھی آپ نے پڑھا ہو گا۔ گزشتہ دنوں جب راولپنڈی اسلام آباد میں طوفانی بارشیں ہوئیں تو اخبارات میں موٹی موٹی سرخیوں کے ساتھ یہ خبریں شائع ہوئیں کہ اےکسپریس واے پراجیکٹ تالاب کا منظر پیش کرنے لگا۔ سی ڈی اے کی پلاننگ کا پول کھل گیا۔ جڑواں شہروں میں ہونے والی بارشوں کے باعث زیرو پوائنٹ تا روات سگنل فری اربوں روپے کی لاگت سے بنانے جانے والا پراجیکٹ تالاب کی شکل اختیار کر گیا۔ ایکسپریس وے کی ایک سائیڈ پوری طرح تالاب بن گئی۔انتظامیہ کی جانب سے گاڑیوں کو بچانے کے لئے ایکسپریس وے کے کناروں پر پلاسٹک کے ڈرم رکھ دئیے گئے۔ قارئین۔ ہم کوئی اتائی حکیم یا ڈاکٹر نہیں ہیں،آج کل چین سے دوستی اور چین کی پاکستان کے بڑے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کا بڑا چرچا ہے، چنانچہ ہم بھی اس سرطان کے علاج کے لئے وہ علاج لے کر آئے ہیں جو چین نے اپنے ملک سے کرپشن ختم کرنے کے لئے اختیار کیا تھا۔ یہ علاج بتانے سے پہلے ہم ایک سچا واقعہ بیان کرنا چاہتے ہیں جس کے بعدکرپشن کے علاج کے لئے شائد آپ کو مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔صدر ایوب خان کے دور ِ اقتدار میں واہ آرڈینینس کمپلیکس کی تعمیر کی گئی ۔ ہمارے دوست ملک (آجکل تو نواز شریف کی وجہ سے بہت ہی زیادہ دوست !) چین کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر آیا تو اس نے اس کمپلیکس کا دورہ بھی کیا۔اتفاق سے انہی دنوں بارشیں ہوئی تھیں۔ جب چینی وفد ایک کمرے میں داخل ہو¿ا تو اس کی چھت ٹپکتے دیکھ کر اس کے اراکین نے اوپر کی طرف دیکھا۔اس پر ان کے افسر مہمانداری نے معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا :معاف کیجئے گا، یہ عمارت ابھی نئی نئی بنی ہے اس لئے ٹپک رہی ہے۔ یہ عذر سُن کر وفد کے ایک رکن نے استہزائیہ انداز میں کہا : شروع شروع میں ہماری عمارتیں بھی ایسے ہی ٹپکا کرتی تھیں“۔ اِس پر پاکستانی افسر نے پوچھا: ”تو پھر آپ نے اِس مسئلے کا کیا حل نکالا؟“۔ چینی رکن نے جواب دیا: ”ہم نے بدعنوانی کے مرتکب ایک کنٹریکٹر کو سرِ عام گولی سے اُڑا دیا، اس دن کے بعد ہماری کوئی عمارت پُرانی ہو یا نئی، کبھی نہیں ٹپکی“۔
ہَے کوئی ہمارے ہاں چھتوں کے ٹپکنے کا علاج کرنے والا؟