- الإعلانات -

اقبال کادیدہ ور

naveedkhan

چمکتی آنکھیں دمگتا چہرہ کشادہ پیشانی‘خوش گفتاروخوش لباس‘کردارکاغازی پاکستان وعالم اسلام کاچمکتا چہرہ جسے لوگ جنرل حمید گل کے نام سے جانتے ہیں ۔میری یہ خوش قسمتی ہے کہ مجھے اس عظیم انسان کوبہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اپناہویاغیرغریب ہویاامیرمیں نے ہمیشہ انہیں ہرایک کے ساتھ ملنساری‘محبت اوربھلائی کاسلوک کرتے دیکھا اسلام اورنظریہ پاکستان سے لازوال محبت ان میں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی اورپاکستانیت ان کی روح ووجود کاحصہ تھی سچے عاشق رسول اورنبی پاک کاسپاہی ہونے کی آرزو میں ہمہ وقت ہمہ تن گوش رہتے 79سالہ اس عظیم جرنیل کی عمرکااندازہ لوگوں کوانکی موت کی خبرسن کرہوا جس میں بتایاگیا کہ جنرل حمیدگل 79سال کی عمرمیں انتقال کرگئے وہ جوانوں سے زیادہ جوان‘توانا اورہشاش بشاش لگتے تھے جس کی وجہ ان کاکرداراوراللہ اوراس کے رسولﷺ پرغیرمتزلزل ایمان تھا میں نے کبھی ان کے چہرے پرتھکاوٹ کے اثارنہیں دیکھے کسی بھی حال میں انہیں کبھی مایوس نہیں دیکھا پاکستان کے مستقبل کے بارے میں ہمیشہ پرامیدرہتے۔ اسلام کے نفاذکے بارے میں ان کایقین کامل تھا کہ باطل نے مٹ جاناہے اورحق نے آناہے میری زندگی میں بہت ایسے مواقع آئے جب مجھے کوئی فیصلہ کرناہوتا توان سے ضرور رہنمائی لیتا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے انہیں اپنے کسی فیصلے سے آگاہ کیاتوانہوں نے اس سے اختلاف کیاہو بلکہ ہمیشہ میرے فیصلے کی تائیدکی اورکہااللہ تمہاراحامی وناصرہومیری دعائیں تمہاے ساتھ ہیں صرف ایک بات کا خیال رکھنا کہ ہرفیصلے میں ا للہ اوراس کے رسول کی اطاعت کومقدم رکھنا۔ نظریہ پاکستان اورقیام پاکستان کے مقاصد کے حصول کواولین ترجیح دینا ۔جنرل حمیدگل کبھی اپنے آپ کو ریٹائرجرنل نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہوں نے مجھے کئی دفعہ کہا بیٹادنیاوی جرنیل ریٹائرہوتے ہیں اسلامی جرنیل کبھی ریٹائرنہیںہوتے اورمیں اسلامی جرنیل ہوں جب پرویزمشرف نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کوغیرفعل اورگھروں میں قیدکیا توجنرل حمیدگل واحدجرنیل تھے جنہوں نے کھل کراس فیصلے کی مخالفت کی اوروکلاءکے ہمراہ اس وقت تک سڑکوں پررہے جب تک جج بحال نہ ہوئے وکلاءتحریک کے دوران صرف حمیدگل بلکہ ان کاتمام خاندان ان کے بیٹے عبداللہ گل‘عمرگل اوربیٹی عظمٰی گل اس تحریک میں ان کے ساتھ تھے سخت گرمی‘تپتی دھوپ بدترین تشدد کے سامنے یہ خاندان سیسہ پلائی دیوارکی مانندکھڑارہا۔ مجھے بھی ان کے شانہ بشانہ عدلیہ بحالی تحریک میں جنرل صاحب کوبہت قریب سے دیکھنے کاموقع ملاہم تھک جاتے بدھال ہوجاتے مگرجرنل حمید گل میں کبھی لرزش پانہ دیکھی پولیس والے سب پہ تشدد کرتے مگرجب جرنل صاحب کے سامنے آتے تو احترام سلوٹ کرتے اورباقیوں پرلاٹھیاں برساتے حالانکہ جرنل حمیدگل کیلئے پرویزمشرف کے سخت اقدامات تھے عدلیہ تحریک کے دوران اسلام آباد میں داخلہ منع تھا وکلاءودیگرلوگ چھپ چھپاکر‘چورراستوں سے ایک ایک کرکے سپریم کورٹ کے سامنے پہنچے تھے مگرجنرل حمید گل چکلالہ اپنے گھرسے مرکزی شاہراہ پرسے ہوتے ہوئے ہرناکے پرسلوٹ وصول کرتے ہوئے سپریم کورٹ پہنچتے تھے حالانکہ ان کیلئے احکامات باقیوں سے سخت تھے مگرڈیوٹی پرموجود پولیس والے ان سے اس قدرعشق اورعقیدت رکھتے تھے کہ انہیںروکنے کی جرات بھی نہ کرتے بلکہ اپنی نوکریاں داﺅ پرلگاتے ہوئے انہیں راستہ دیتے اس سلوک کی وجہ جرنل حمیدگل کی ملکی واسلامی خدمات تھیں جوڈیوٹی پرموجود پولیس والوں کواپنے افسران بالا کی حکم عدولی پرمجبورکردیتی تھیں۔عدلیہ تحریک کے دوران جرنل صاحب کوگرفتارکیاگیا اورانہیں اڈیالہ جیل میں رکھاگیا اوران کی گرفتاری پرویزمشرف کے براہ راست حکم پرہوئی جیل میں انہیں دوائیاں تک نہ دی گئیں جرنل صاحب نے اپنی ضمانت بھی نہ کروائی اوربلآخر انہیں بغیرضمانت جیل سے رہا کرناپڑا یہ بھی شاید پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ کوئی جیل گیاہو اوربغیرضمانت رہاگیاگیا ہو نہ کوئی مقدمہ نہ کوئی ضمانت یہ اللہ تعالیٰ کااپنے محبوب بندے پرانعام تھا کیونکہ جرنل حمیدگل اللہ کے سوا نہ کسی سے ڈرتے تھے اورنہ جھکتے تھے وطن عزیزپرجب امریکی جارحیت اورڈرون حملے شروع ہوئے تودفاع پاکستان کونسل تشکیل دی اورملک بھرکے علماءاورجہادیوں کواکٹھا کیا میرے لئے یہ بھی اعزازکی بات ہے کہ میری نومولود جماعت پاکستان مسلم لیگ(حقیقی)کوبھی دفاع پاکستان کونسل میں شامل کیا اورمجھے موقع فراہم کیا کہ میں بھی حق کی آوازمیں آوازملاکر امریکی جارحیت وبربریت میں اپنا حقہ ڈالوں۔دفاع پاکستان کونسل کے سربراہی اجلاسوں میں مجھے دعوت دے کر میری مذہبی وسیاسی تربیت کااہتمام کیاجس سے ان کی عظمت کااندازہ لگایاجاسکتا ہے ورنہ میری جرنل حمیدگل کے سامنے کیاحیثیت اورافادیت تھی جنرل صاحب دل چاہتا جس وقت چاہتا میں بغیرکسی اطلاع ان سے ملنے ان کے گھرچلاجاتا مگرکبھی ایسانہیں ہوا کہ مجھے کہاگیا ہوکہ وہ مصروف ہیں یاآپ پھرآجائیں اگران کے پاس کوئی مہمان بھی ہوتا توجرنل صاحب پھربھی مجھے بلالیتے اورمہمانوں سے میراتعارف بھی کرواتے جب کبھی فون کیاانہوں نے ہمیشہ اٹھایا اوراگرکبھی بوجہ مصروفیت فون نہ اٹھایا توواپس فون کرکے فون نہ اٹھانے کی وجہ بھی بتائی اورمعذرت بھی کی یہ ان کا بڑاپن تھا عظمت تھی ورنہ مجھ ناچیز سے ان کاکیا لینادینا جرنل حمیدگل Selflesnessکی انتہاپرتھے اگرکبھی میں ان کی عسکری خدمات یاافغان جنگ کے حوالے سے ان کی کردارکی تعریف کرتا تومسکراکرکہتے نہیں نہیں میں نے کچھ نہیں کیاحالانکہ انہوں نے جوکارنامے سرانجام دیئے وہ ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یادکئے جائیں گے میرے ان سے 20سالہ دیرینہ تعلق میں مجھے یادنہیں کبھی ایک باربھی انہوں نے یہ کہاہو”میں نے یہ کہامیں نے وہ کیا“لفظ ”میں“ان کی ڈکشنری میں نہیں تھا ہمیشہ کہتے میں توایک ”فرد“ہوں قائداعظم محمدعلی جناحؒ اورعلامہ اقبالؒ کیلئے بے پناہ عقیدت مند تھے پاکستان کواپنی ”لیلی“اوراپناعشق کہتے تھے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے بانیوں میں سے تھے اورجناب مجیدنظامی کے بہترین دوست‘ساتھی اوررفیق تھے بیماری کی حالت میں بھی نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی کسی تقریب کوکبھی MISSنہیں کرتے تھے ۔جرنل حمیدگل ایک نظریے کانام ہے اورنظریہ کبھی مرتا نہیں ان کے لاکھوں چاہنے والے اورآپ کے ہونہار فرزند عبداللہ گل‘عمرگل اورشیرنی بیٹی عظمٰی گل اس نظریئے کی آبیاری کرتے رہیں گے اقبالؒ نے ان ہی کی طرح لوگوں کودیدہ ورکہاایک دن میں نے جرنل صاحب سے سوال کیا کہ بینظیربھٹو نے کیوں آپ سے خطرہ محسوس کیااورکہا کہ مجھے اگرقتل کیاگیا توجنرل مشرف پرویزالہٰی اورجرنل حمیدگل اس کے ذمہ دار ہونگے جرنل حمید گل نے فوراً کہابیٹا بینظیربھٹو تو مجھے اپنے والد جیسا سمجھتی تھیں وہ مجھے اکثر تحفے تحائف اورکتب ارسال کرتی تھیں۔ محترمہ اپنے آخری ایام میں اسلام کے بہت قریب آچکی تھیں اورمجاہدین اورجہادی تنظیموں کو اسلام کا وارث سمجھتی تھیں محترمہ بینظیر بھٹو نے مجھے ڈاکٹر شاہدمسعود کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ جب وہ پاکستان آئیں گی تو مجھے ملنے میرے گھر آئیں گی ۔جب امریکیوں کو یہ پتہ چلا کہ محترمہ اسلام اور جرنل حمید گل کے قریب آچکی ہیں تو امریکیوں نے میرا نام دیگرناموں کے ساتھ شامل کردیا۔ جرنل حمید گل نے کہامحترمہ بینظیربھٹو لیاقت باغ جلسے کے بعد میرے گھرآناچاہتی تھیں اورانہیں اس لئے شہیدکردیا گیا کہ اگر وہ حمیدگل سے مل گئیں تو پھر جہاد اوراسلامی نظام کے نفاذ سے دنیا کی کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔ جرنل حمید گل نے مجھے بتایا کہ بینظیربھٹو اندر سے بالکل تبدیل ہوچکی تھیں اور وہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی داعی بن چکی تھیں ۔انہوں نے کہاکہ محترمہ بینظیربھٹو کے مجھے لکھے خطوط اورتحفے میرے پاس موجود ہیں۔ جرنل صاحب مرد مومن تھے اور ان کی نگاہ محترمہ بینظیربھٹو جیسی مغربی تعلیم یافتہ ماڈرن روشن خیال خاتون کو تبدیل کرچکی تھیں۔بقول اقبال
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جوہوذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں