- الإعلانات -

بھارت میں کرکٹ اور مسلمانوں کا مستقبل تاریک

riaz-ahmed

 بھارت میں ہندو انتہاپسند تنظیم شیوسینا نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان کی موجودگی میںممبئی میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور پاکستان سے کرکٹ تعلقات نہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ بھارتی کرکٹ بورڈکے حکام نے انتہاءپسندوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اور خوف زدہ ہوکر بی سی سی آئی کے صدرکی پی سی بی کے چیئرمین کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کردی۔ دفتر پرحملے کے بعدگرفتارکئے گئے 10انتہا پسندوں کوکچھ ہی دیر بعد ضمانت پر رہا کردیاگیا۔ آئی سی سی کے صدر اور سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس نے کہا ہے کہ ’بی سی سی آئی کے دفتر پر حملہ قابل مذمت ہے لیکن آئی سی سی اس حملے کا نوٹس نہیں لے سکتی۔‘ ’اگر پاکستان بھارت کرکٹ سیریز منسوخ ہوتی ہے تو اس کے نتائج انتہائی خراب ہوں گے۔‘ یہی حالات رہے تو پاکستانی ٹیم کس طرح بھارت میں کھیلے گی۔ آئی پی ایل کے کمشنر راجیو شکلا نے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاک کے درمیان جب بھی کوئی سیریز ہوتی ہے تو حکومت سے صلاح مشورہ کیا جاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے کرکٹ بورڈوں کے درمیان بات چیت چلتی ہی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ جب بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہت خراب تھے تب بھی پاکستانی کرکٹ بورڈ ہمیشہ بھارتی بورڈ کے ساتھ کھڑا رہا۔یہ کہاں کی جمہوریت ہے کہ وزیراعظم آفس تک نہیں جا سکتے۔ اس دھاوا نے مذکرات سبوتاژ کر دئیے۔ شیو سینا کے غنڈے مرکزی گیٹ توڑ کر کرکٹ ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہوئے،”شہر یار واپس جاو¿“ اور پاکستان مخالف نعرے لگائے۔ بھارتی بورڈ کے صدر شاشانک منوہر کو گھیرے میں لے کر ہلڑ بازی،دفتر میں توڑ پھوڑ کی۔بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری انوراگ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ رواں سال دسمبر میں پاکستان بھارت سیریز سے متعلق چیئرمین پی سی بی کو دورے کی دعوت دی گئی تھی۔ پی سی بی کا کہنا تھا کہ بھارت نے 8 سال کے دوران 6 دوطرفہ سیریز کا وعدہ کر رکھا ہے جس کے تحت رواں سال دسمبر میں پاکستان بھارت سیریز ہونا تھی جسے حتمی شکل دینے کے لئے بھارتی دعوت پر چیئرمین پی سی بی بھارت گئے تھے۔ انتہا پسند ہندوں کے دھاوے کے بعد خطرے کے پیش نظر پاکستان، بھارت کرکٹ سربراہوں کے درمیان ملاقات منسوخ کی گئی۔ شیو سینا کے بی سی سی آئی ہیڈکوارٹرز پر دھاوے سے بھارتی کرکٹ بورڈ کے ہیڈکوارٹر کی سکیورٹی کا پول بھی کھل گیا مہمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویئے سے بھارت میں تیزی سے پھیلتی انتہا پسندی بھی ایک بار پھر سامنے آگئی۔ بھارتی انتہاپسند تنظیم شیوسینا کی جان سے مار دینے کی دھمکیوں کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایلیٹ امپائر علیم ڈار کو جنوبی افریقہ اور بھارت کے درمیان جاری کرکٹ سیریز کے بقیہ میچوں میں امپائرنگ کے فرائص انجام دینے سے روکدیا ہے۔ امپائر علیم ڈار سیریز کے پہلے تین ایک روزہ کرکٹ میچوں میں امپائرنگ کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ انہیں چنائی اور ممبئی میں ہونے والے چوتھے اور پانچویں میچوں میں بھی امپائرنگ کرنا تھی۔آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے علیم ڈار کو بقیہ میچوں سے دستبردار کروانے کا فیصلہ ممبئی میں انتہاپسندوں کی جانب سے انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کے دفاتر پر حملے کے بعد کیا گیا ہے۔ ان مظاہرین نے دھمکی دی تھی کہ وہ پاکستانی امپائر کو اتوار کو ممبئی میں ہونے والے پانچویں ایک روزہ کرکٹ میچ میں امپائرنگ نہیں کرنے دیں گے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں علیم ڈار سے بھارت سے دبئی چلے گئے ہیں۔ شیوسینا نے علیم ڈار کو بھی نہ بخشا اور کہا کہ انہیں واپس پاکستان بھیجا جائے۔ علیم ڈار کو جان کا خطرہ ہے۔ اسی لئے وسیم اکرم اور شعیب اختر بھارت اور جنوبی افریقہ کے پانچویں ون ڈے میں کمنٹری نہیں کریں گے بلکہ دونوں پاکستانی کمنٹیٹر 22 اکتوبر کو ہونے والے چوتھے ون ڈے میں کمنٹری کے بعد وطن واپس آجائیں گے۔ وسیم اکرم اور شعیب اختر کو حفظ ماتقدم کے طور پر واپس بلایا گیا ہے۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے شیوسینا کے حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہئے۔ بھارت میں پے در پے انتہا پسندی کے واقعات سے آئندہ برس ہونے والے ورلڈ ٹی ٹونٹی کے انعقاد پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ مہاراشٹر حکومت نے ٹی 20 میچز میں پاکستانی ٹیم کو ناگ پور اور ممبئی میں نہ کھلانے کی تجویز دے دی ہے۔ بھارتی انتہا پسندوں اورکرکٹ مخالف غنڈوں کی وجہ سے بھارتی سرزمین کھیل اور کھلاڑیوں کیلئے تنگ ہوگئی۔ پہلے مہمان جنوبی افریقہ کا کھیلنا دوبھرکیا، اب پاکستان بھارت کرکٹ سیریز کے حوالے سے ملاقات کے بھی مخالف بن گئے۔ 11مارچ سے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا انعقاد بھی بھارتی سرز مین پر ہوگا جس میں پاکستان سمیت دنیا کی 16ٹیمیں بھارت آئیں گی۔ اس حوالے سے آئی سی سی کے صدر ظہیر عباس کا کہناہے کہ یہی حالات رہے تو پاکستانی ٹیم کس طرح بھار ت میں کھیلے گی۔بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے انتہا پسندی کے پہ در پہ واقعات پر ایکشن نہ لیے جانے کا ذمہ دار بی جے پی کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی میں ہونے والی شیوسینا کی غنڈہ گردی کو حکمران جماعت کی آشیر باد حاصل ہے۔شیو سینا کے غنڈے آئے دن پاکستان کو لے کر ممبئی میں ادھم مچا رہے ہیں ، نہ صرف پاکستانیوں بلکہ ان سے ہاتھ ملانے والے بھارتیوں کو بھی نہیں بخشا جارہا، اس پر سینہ ٹھوک کر کہتے ہیں کہ پاکستان دشمنی میں سب جائز ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگرس کی جانب سے بھی شیو سینا کے حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مہاراشٹرا میں امن و امان مکمل طور پر مفلوج ہوکررہ گیا ہے۔ غلام علی، خورشید محمود قصوری اور اب شہریار خان کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ افسوسناک ہے۔ کیا مہمانوں کے ساتھ اس طرح پیش آیا جاتا ہے۔ بھارت میں انتہاپسندی کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔ انتہاپسند ہندوﺅں نے نئی دہلی میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن انجینئر رشید پر حملہ کر کے انکے چہرے پر سیاہی پھینک دی اور ان پر تشدد بھی کیا گیا۔انتہا پسند ہندوﺅں نے گائے کے ذبیحہ پر پابندی اٹھانے کی قرارداد پیش کرنے سے روکنے کیلئے انجینئر رشید پراسمبلی کے اندر تشدد کیا تھا۔ بقول انجینئر رشید کہ یہ مودی کا ہندوستان ہے گاندھی کا نہیں جو مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے۔ پاکستان پر طالبانائزیشن کا الزام لگانے والے دیکھیں بھارت میں کیا ہو رہا ہے۔ بھارت میں مسلمان ہونا جرم بن گیا ہے۔ بھارت اپنے آپ کو جمہوریت اور سیکولر ملک ہونے کا دعویدار سمجھتا ہے لیکن یہاں مسلمان، اقلیتیں، سیاح، اداکار، کھلاڑی اور صحافی محفوظ نہیں۔ نریندر مودی کی حکومت کے آ نے کے بعد شیوسیناکی غنڈہ گردی بڑھتی جا رہی ہے۔ بھارت اگر اپنی انتہا پسند تنظیم کو ایسی حرکتوں سے باز نہیں کرتا تو حکومت کو بھی چاہئے کہ اگلے سال بھارت میں منعقد ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کو نہ بھجوانے کا اعلان کیا جائے۔