- الإعلانات -

نوازاوبامہ ملاقات،اقوام متحدہ اور قیام امن

syed-rasool-tagovi

آج 23اکتوبر ہے ،اور آج ہی وزیراعظم میاں نواز شریف امریکی صدر اوبامہ سے ملاقات کرنے جارہے ہیں۔پاکستان کے جوہری پروگرام کے پس منظر میں یہ ملاقات نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔پاکستان پر دباو¿ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ بھارت کا انتظارکئے بغیر سی ٹی بی ٹی پر دستخط کر دے۔پاکستان اس حوالے سے کیا کرتا ہے،ایک دو دن میں واضح ہو جائے گا،تاہم سیاسی قیادت پر عزم ہے کہ پاکستان کے مفادت کا سودا نہیں کیا جائے گا۔اوبامہ نواز ملاقات ایک ایسے ماحول میں ہو رہی جب پاکستان خطے میں قیام امن کےلئے کوشاں ہے توبھارت سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ہوا دی جا رہی ہے جبکہ خود اس کے اندر بھی انتہاپسندی عروج پر ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کے منشور پر عمل پیرا ہے تو بھارت میں اقلیتوںکا جینا حرام ہوچکا ہے۔پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایک سخت گیر آپریشن لانچ کر رکھا ہے تو بھارت آ ر ایس ایس جیسی متشد دہندو سوچ کے غلبے کے لئے ایسے عناصر کو شاباشیاں دے رہا ہے ۔مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے باعث سیکولر حلقوں میں بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔اس خطرناک رجحان کے باعث جہاں اندرون بھارت عدم تحفظ کا احساس بڑھ چکا ہے وہاں خطے کے ممالک میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ماہرین کی یہ متفقہ رائے ہے کہ اگر بھارت میں انتہاپسندی کی صورتحال بے قابو ہوئی کہ جس کے امکانات آئے روز بڑھ رہے ہیںتوبھارت کے پڑوسی ممالک بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔یہ ایک بین الاقوامی نوعیت کا معاملہ ہے جس پر اقوام متحدہ کو مداخلت کرنی چاہیے۔ چونکہ کل 24اکتوبر ہے اور اقوام متحدہ اپنا عالمی دن(یونائٹڈ نیشن ڈے) منارہی ہے،تو ضروری ہے کہ وہ بھارت میں جڑ پکڑتی دہشت گردی کا نوٹس لے۔اگر مودی سرکارکی طرف سے غنڈہ گردی کی سر پرستی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو گجرات جیسے واقعات پھر رونما ہوسکتے ہیں۔تب مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو اتنا خون ِ مسلم بہا گیا تھااب خیر سے موصوف ملک کے وزیراعظم ہیں نجانے مسلمانوں پر کیا قیامت ٹوٹ پڑے۔بھارت کی بگڑتی صورتحال سے خطے کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی عدم تحفظ کا شکار ہے۔اگر مودی مزید دو سال بھارت کا وزیراعظم رہ گیا تو پھر حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اسکا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔آج اوبامہ انتظامیہ پاکستان سے جو کچھ منوانا چاہ رہی ہے اگر بھارت کے خطرناک جارحانہ عزائم نہ ہوتے تو وہ کب کا دستخط کرچکا ہوتا۔لہذا دنیا میں قیام امن کا خواب دیکھنے والی اقوام متحدہ نے اس معاملے میں پہلو تہی کی تو پھراس کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ اقوام متحدہ کا قیام عالمی سطح پر امن اور بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے ہے۔ اس مقصد کے لئے اب تک امن مشنوں میں رکن ممالک ہزاروں اہلکاروں نے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے ہیں،ایسا نہ ہو کہ ایک بھارت کی وجہ سے سب کوششوں پرپانی پھر جائے۔ جبکہ دوسری طرف قیام امن کی کوششوں میں پاکستان اقوام متحدہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ پاک فوج سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی کے افراد امن مشن میں شریک ہیں۔دوسری جانب عالمی سطح پر طاقت کے زور پر حقوق پامال کرنے والے نام نہادجمہوریت پسندوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ اسرائیل اور بھارت اقوام متحدہ میں پاس کی گئی قرار دادوں کے برعکس فلسطین اور کشمیر میں ریاستی دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہیں۔1947ء میں ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ہر سال 24 اکتوبر کو (یونائٹڈ نیشن ڈے) اقوام متحدہ کا دن عالمی طور پر منانے کا اعلان کیا تھا تا کہ لوگ اس ادارے کا مقصد ،اسکی سرگرمیوں اور کامیابیوں کے بارے میں جان سکیں۔ اقوام متحدہ جس کے چھ بنیادی ادارے ہیں جن میں جنرل اسمبلی،سلامتی کونسل ، اقتصادی اور سماجی کونسل،ٹرسٹی شپ کونسل،بین الاقوامی عدالت انصاف اور سیکرٹریٹ شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے بنائے گئے اصولوں میں سے دو اہم ترین یہ ہیں۔ ایک یہ کہ تمام ارکان بین الاقوامی تنازعات پرامن طور پر حل کریں گے تا کہ عالمی امن و سلامتی اور انصاف کے لئے کوئی خطرہ پیدا نہ ہو۔جبکہ دوسرا یہ کہ تمام رکن ممالک اپنے بین الاقوامی تعلقات کے سلسلے میں کسی ریاست کی علاقائی سا لمیت یا آزادی کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے یا اسے دھمکی دینے سے گریز کریں گے۔ان دونوں بنیادی نکات کی بھارت دھجیاں بکھیر رہا ہے۔قیام امن میں پاکستان کے کردارکو سراہا جاتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یو این کے امن منشورپر عمل درآمد ہے۔گزشتہ پچپن برس سے افواج پاکستان یواین امن مشن میں ہراول دستے کا کردارادا کررہی ہیں۔پاکستان یواین امن مشن کا حصہ 1960 میں بنا تھا اب تک 41امن مشن کا حصہ بن چکا ہے۔اس وقت بھی آٹھ ہزار سے زائد اہلکار سات امن مشن میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔بین الاقوامی سطح پراس بات کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ پاک فوج دنیا کی دس بہترین افواج میں بھی سر فہرست ہے۔امریکی ویب سائٹ دی ٹاپ ٹین کے مطابق دنیا کی بہترین افواج میں پاکستان پہلے،امریکا دوسرے،بھارت تیسرے نمبر پر ہے۔ پاکستانی فوج امریکا سے بھی بہتر ہے اور یہاں تک کہ برطانیہ سے بھی جنگی گیمز جیتے ہیں۔پاک فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک نمبر پر کیوں ہے اور وہ کیسے بھارت کو شکست د ے سکتی ہے ویب سائٹ نے اس کی دس وجوہات بتائیں ہیں۔ پاکستان آرمی کمانڈوز اس کرہ ارض پر سب سے سخت ترین فورس تصور کیے جاتے ہیں۔ پہلے نمبر پر امریکی،دوسرے پر برطانوی اور تیسرے پر پاکستانی کمانڈوز ہیں۔ پاک کمانڈوز سائز بہت خاص حیثیت کا حامل ہے ،پاک فوج نے بہادری کے کئی تمغے حاصل کیے ہیں۔یواین مشن میں ابھی چند ماہ قبل پاکستان کو خصوصی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔یہ بات دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں پیش کرچکا ہے۔خود پاک فوج کا ان قربانیوں میںایک بڑا حصہ ہے اور بے مثال کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔خصوصاً آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عسکری قیادت پر عزم ہے۔