- الإعلانات -

وزیر اعظم کا دورہِ امریکہ اور ہمارے ’ اہلِ دانش‘

Asif-Mehmood

وزیرِ اعظم کے دورہِ امریکہ پر اردو صحافت میں، اِ لّا ماشا ءاللہ، جو کچھ لکھا اور بولاگیا اسے پڑھ اور سن کر اوّل خوف آیا ، پھر ایک سوال نے جنم لیا: نیم خواندہ سماج جن حضرات کے نام ’ صاحبِ دانش‘ کی تہمت دھرتا ہے ان کا علمی، فکری اور سماجی پس ِ منظر کیا ہے؟یہ سماج کب تک اس غیر سنجیدہ اور مضحکہ خیز ’ دانش‘ کے ہاتھوں یرغمال رہے گا؟
پاکستان کا وزیر ِ اعظم امریکہ کے دورے پر جا رہا تھا۔ایسے میں ایک طالبِ علم کے طور پر میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس دورے میں’ کامیابی‘ کی باٹم لائن کیا ہے؟امریکی صدر، ظاہر ہے کہ ،وزیر اعظم کے سامنے کچھ مطالبات رکھنے والے تھے، میں سمجھنا چاہتا تھا کہ وہ مطالبات کیا ہو سکتے ہیں اور کس حد تک انہیں مانا جا سکتا ہے؟کون سا امریکی مطالبہ وزیر اعظم کو نہیں ماننا چاہیے اور نہیں ماننا چاہیے تو انکار کس پیرائے میں ہونا چاہیے، واضح انکار ہونا چاہیے یا مبہم سی بات کر کے آگے بڑھ جانا چاہیے۔پاکستان کے پاس کھیلنے کو کوئی کارڈ موجود ہے کہ نہیں؟ کہنے کو کچھ بچا ہے یا نہیں؟ ہم امریکہ کو کیا دے سکتے ہیں اور کیا لے سکتے ہیں؟۔۔۔۔۔ان سوالات کی تفہیم کے لیے جب جب میڈیا سے رجوع کیا ، مایوسی ہوئی۔اہتمام کے ساتھ کی جانے والی گفتگو میں طنز، جگت بازی،تمسخر اور نفرت جیسے عوامل غالب نظر آئے۔احباب کسی سنجیدہ تجزیے کے ذوق ہی سے محروم نہیں پائے گئے،اہلیت بھی واضح طور پر سوال بنی کھڑی رہی۔زیادہ تر وقت ان سوالات پر صرف کیا گیا کہ وزیر اعظم کے ہاتھ میں چٹ کیوں تھی، انہوں نے اوباما جیسی ٹائی کہاں سے لی اور لینے میں انہیں کتنی مشکل پیش آ ئی ہو گی، ان کی باڈی لینگوئج کا مذاق اڑایا گیا، ایوب خان مرحوم کے حوالے دیے گئے کہ وہ کس شان بے نیازی سے امریکی صدر کا گال تھپتھپا رہے تھے اور نواز شریف کیسے مرعوب کھڑے پائے گئے،امریکی صدر کے دورہ بھارت کی ایک تصویر دکھائی گئی جس میں مودی انہیں خوش آمدید کہہ رہے ہیں اور کہا گیا دیکھ لیجیے مودی کو تو اوبامہ نے خود ریسیو کیا لیکن نواز شریف کو لینے معمولی سے اہلکار آ گئے،طنزیہ لہجوں نے گرہ لگائی : چھوڑیں جی یہ دورہ تو بس ’ فِل ان دی بلینک ‘ ہے اصل دورہ تو جنرل راحیل شریف کریں گے سب کچھ اسی میں طے ہو گا وزیر اعظم بے چارہ تو بس ایسے ہی فوٹو سیشن کروا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔سوالات اور تجزیوں کا یہ معیار میرے جیسے طالب علم کے لیے باعثِ تشویش تھا۔سوچتا ہوں،تھوڑا ساذوقِ مطالعہ اور تزویراتی اور سفارتی امور سے کچھ آگہی ہوتی تو احباب کے سامنے سنجیدہ سوالات کا دفتر کھُلا ہوتا۔
کسی بھی ملک کا وزیر اعظم جب بیرونی دورے پر جاتا ہے تو اس کے ساتھ میزبان جو معاملہ کرتا ہے اس کا تعلق مہمان کے شخصی اوصاف سے نہیں ہوتا ۔میزبان ریاست یہ نہیں دیکھتی کہ مہمان کی وجاہت کا عالم کیا ہے، اسے انگریزی میں اظہارِ رائے پر کتنی دسترس ہے،اس کے ہاتھ میں چِٹ ہے یا نہیںبلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ مہمان کے ملک کی حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ ایک طاقتور معیشت، ایک متحرک سماج اور ایک تزویراتی اہمیت کی حامل مضبوط عسکری قوت ہے؟۔۔۔۔اب ہماری جو حالت ہے وہ کسی سے چھپی نہیں۔ہم بطور قوم زوال کا شکار ہیں۔دنیا نواز شریف کو اتنی ہی اہمیت دے گی جتنی اس کی نظر میں ہم سب کی بطور قوم اہمیت ہے۔یہ اہمیت ہماری توقعات سے کم ہے تو ہمیں اس کے اسباب پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔نواز شریف کا تمسخر اڑانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ہم اجتماعی زوال کا شکار ہیں۔اب دیکھ لیجیے اس ملک میں کتنے صاحبان ِ دانش ایک عالم کی رعونتیں اوڑھے ادارتی صفحات اور ٹی وی سکرینوں پر وعظ فرما رہے ہوتے ہیں۔دنیا جہان کے موضوعات پر یہ یدِ طولی رکھتے ہیں۔لیکن ہمارے ان عالی مرتبت کالم نگاروں اور اینکر پرسنوں میں سے کوئی ایک ہے جس کی بین الاقوامی سطح پر کوئی حیثیت ہو؟دنیا کے بڑے دانشوروں میں اس کا شمار ہو؟جو نام چامسکی، رابرٹ فسک وغیرہ کی صف میں نہ سہی ان سے بہت پیچھے کہیں صفِ نعلین میں بھی کھڑا نظر آتا ہو؟جس کی رائے کا بین الاقوامی علمی حلقوں میں کوئی اعتبار ہو؟کسی ایک نے کوئی ایسی کتاب لکھ ماری ہو جو دنیا کی جامعات میں ایک معتبر حوالہ تصورکی جاتی ہو؟یہ احباب کسی بین الاقوامی علمی مجالس میں جائیں تو ان کی اور نام چامسکی کی آﺅ بھگت میں اس سے کئی گنا زیادہ فرق ہو گا جتنا فرق عالمی فورمز پر پاکستان کے وزیر اعظم اور چین کے وزیر اعظم کی آﺅ بھگت میں ہو تا ہے۔لہذا اس حوالے سے وزیر اعظم پر تنقید کا دلیل کی دنیا میں کوئی اعتبار نہیں۔
ہمارے وزیر اعظم پر دنیا جو سوال اٹھاتی ہے ، کیا وہ نواز شریف کا نامہِ اعمال ہے؟دنیا شعوری طور پر عسکریت کی ہر نجی شکل کی نفی کر رہی ہے۔ایسے میں لشکرِ طیبہ یا کچھ اور سوالات اٹھتے ہیں تو اس میں نواز شریف کا کیا قصور؟محض جگتیں مار کر ریٹنگ حاصل کرنا مقصود ہے تو لگے رہیے لیکن اگر سنجیدگی کی کوئی رمق باقی ہے تو پھر ہمیں بطور قوم اس الجھن کا حل نکالنا ہے کہ ہمیں دنیا کو کیسے مطمئن کرنا ہے۔کیا ہماری ماضی کی پرائیویٹ جہاد کی پالیسی ٹھیک تھی؟ کیا ہمیں مکمل طور پر اس سے رجوع کرنا ہے یا اس کی باقیات کو کسی نہ کسی شکل میں برقرار رکھنا ہے؟کیا ہم اس کو کسی شکل میں بر قرار رکھ کر دنیا کے ساتھ چل سکیں گے؟عالمی برادری کے تحفظات کو کیا ہم مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟وزیر اعظم سے جب حقانی گروپ یا لشکر کا سوال اٹھے تو انہیں کیا کہنا چاہیے؟۔۔۔اور یہ کہ کیا اس باب میں ہمارا وزیر اعظم کوئی فیصلہ کرنا چاہے تو کر بھی سکتا ہے ؟۔۔۔۔اس طرح کے ڈھیروں سوالات ہماری توجہ کے طالب ہیں لیکن یہاں ’ دانش دانوں ‘ کی سوئی نواز شریف کے ہاتھ میں پکڑی ایک چٹ پر اٹک گئی ہے۔پرویز مشرف کے ہاتھ میں تو کوئی چٹ نہیں ہوتی تھی، وہ تو فر فر بولا کرتے تھے۔لیکن ان کی خارجہ پالیسی نے اس ملک کو کیا دیا؟ہاتھ میں پکڑی چٹ اتنی اہم نہیں ہوتی ، دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ آخری تجزیے میں آپ نے کیا کھویا کیا پایا۔وزیر اعظم کے دورے سے پہلے واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائم میں اہتمام سے ہماری ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے سوال اٹھا کر ایک ماحول بنایا گیاتا کہ پاکستان پہلے ہی سے دفاعی پوزیشن میں آ جائے۔لیکن ہوا کیا؟وزیر اعظم کے دورے سے پہلے ہی آپ کے ترجمان میں امریکہ میں باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے یہ اعلان کر دیا کہ بھارت کی کولڈ سٹارٹ پالیسی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا لیے ہیں۔یہ بات پاکستان نے پہلی دفعہ کہی اور وہ بھی امریکی سرزمین پر کھڑے ہو کر۔پاکستان میں ایک شور مچا تھا کہ نواز شریف تو ایٹمی پالیسی کا سودا کرنے والے ہیں۔حیرت ہے بھٹو سے لے کر نواز شریف تک ہمارے ’ اہلِ دانش‘ کسی منتخب وزیر اعظم کی حب الوطنی کا اعتبار کرنے کو تیار ہی نہیں۔سوال وہی ہے: نیم خواندہ سماج جن حضرات کے نام ’ صاحبِ دانش‘ کی تہمت دھرتا ہے ان کا علمی، فکری اور سماجی پس ِ منظر کیا ہے؟یہ سماج کب تک اس غیر سنجیدہ اور مضحکہ خیز ’ دانش‘ کے ہاتھوں یرغمال رہے گا؟