- الإعلانات -

اعمال پر توجہ دینے کی ضرورت

uzair-column

8اکتوبر 2005ءکا دن قیامت صغریٰ لے کر نمودار ہوا ۔اس دن ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے ۔پورے کے پورے خاندان موت کی وادی میں چلے گئے ۔مظفرآباد میں بہت زیادہ تباہی ہوئی ،راقم کو اچھی طرح یاد ہے کہ زلزلے کے دوسرے روز جب امدادی سامان لیکر وہاں پر پہنچا تو ایک نفسا نفسی کاعالم تھا ۔قیامت کا منظر آنکھوں کے سامنے تھے ۔نہ کھانے کیلئے کچھ تھا ،نہ پینے کیلئے ،جس گھر کا دروازہ کھٹکھٹاﺅ تو وہاں پر دو چار ،دوچار لوگ زلزلے کی نظر ہوچکے تھے ۔شہر ایک قبرستان کا منظر پیش کررہا تھا ۔اس سانحے کو آج تقریباً دس سال ہوچکے ہیں ۔اس دوران اگر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہم نے کیا کھویا اورکیا پایا ۔2005ءمیں زلزلے کی صورت میں جو نقصان برداشت کیا ۔جانی نقصان کا تو خیر کوئی متبادل ہی نہیں ،مالی نقصان کے بعد بھی آج تک ہم نے کچھ نہ سیکھا ۔غیرممالک نے مدد کی ،ان میں سعودی عرب پیش پیش رہا جو آج تک وہاں پر متاثرین کی بحالی کیلئے دن رات کوشاں ہے ۔تعلیمی میدان میں اس نے سکول بنوا کر دئیے ۔کتابیں تقسیم کیں ،ہسپتال قائم کیے ،ہم نے کیا کیا ۔دیکھنے اورسوچنے کی بات تو یہ ہے کہ آج دس سال گزرنے کے بعد بھی ہم وہاں کے وہاں ہی کھڑے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ زلزلہ ایک قدرتی آفات میں سے آفت ہے ۔اس کا قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کب ،کس وقت اور کہاں پر آئیگا لیکن ایک بات تو بالکل طے شدہ ہے کہ جب انسان کے اعمال خراب ہوجائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ آفات نازل ہوتی ہیں ۔آج ہر شخص کو اپنے گریبان میںجھانک کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ اللہ اوراس کے رسولﷺ کے احکامات پر کارفرما ہے اوراگر نہیں ہے توپھر وقت تقاضا کررہا ہے کہ ہر مسلمان کو اپنی زندگی قرآن اورسنت کے مطابق گزارنا ہوگی ۔یہ ضروری نہیں کہ جب زلزلہ آئے تب ہی ہر شخص کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھر سے باہر نکل آئے ۔کیا اس کو یقین ہے کہ گھر سے باہر نکل کر وہ زندہ بچ جائیگا ۔موت تو ایسی چیز ہے کہ جو کہیں بھی جائے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی ۔اس نے ہر جگہ پہنچنا ہے ہاں البتہ زندگی بچانے کیلئے اقدامات کرنا بہت ضروری ہے ۔گذشتہ روز جو زلزلہ آیا وہ پاکستان کی تاریخ ایک خطرناک ترین زلزلہ تھا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق ابھی اس کے آفٹرشاکس کی بھی پشین گوئی کی گئی ہے جبکہ کراچی میں سونامی کے پیدا ہونے کے بھی پشین گوئی کردی گئی ہے ۔اگرخدانخواستہ دوبارہ آفٹرشاکس آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے عذاب سے محفوظ رکھے ۔اس کے بہت خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔جیسے ہی زلزلہ آیا آرمی چیف نے فوری طور پر امدادی کاموں کیلئے احکامات صادر کردئیے جبکہ وزیراعظم نوازشریف نے بھی لندن کا دورہ مختصر کردیا ۔ہونا تویہ چاہیے کہ حکومت اس طرح کی پالیسی اپنائے کہ اگر خدانخواستہ کوئی ناگہانی آفت آجاتی ہے تو اس سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوںپر انتظامات ہونے چاہئیں ۔اس زلزلے سے قبل ناران،کاغان میں برفباری اوربرفانی تودوں کی وجہ سے سیاح پھنس گئے تھے جس کا حکومت نے نوٹس لیا اوراب اس زلزلے کے بعد مزید برفانی تودے راستے میں آن گرے ہیں جس کی وجہ سے اس علاقے کا دیگر ملک کے حصوں سے رابطہ کٹ چکا ہے ۔تاہم وہاں پرامدادی سرگرمیاں جاری ہیں ۔آخر کار یہ آئے دن آفات کیوں آتی رہتی ہیں ۔اس بارے میں ہمیں بیٹھ کر سوچنے کی ضرورت ہے ۔آخر ہم ایسے کون سے اعمال کررہے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے ۔چونکہ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور محسوس یوں ہورہا ہے کہ ہم سب نے یہاں پر ہمیشہ کیلئے دل لگا لیا ہے ۔جبکہ اس گزرگاہ سے ہر ایک نے ایک نہ ایک دن چلے ہی جانا ہے بس فرق اتنا ہے کہ کوئی پہلے چلا گیا تو کوئی بعد میں مگر حالت یہ ہے کہ زمین پر رہنے والے بونے ناخداﺅں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ شاید وہ قیامت کی بوریاں سمیٹ کر آئے ہیں لہذا وہ جس کی مرضی چاہیں حق تلفی کرلیں ،جس پر مرضی ہے جتنا ظلم ڈھالیں ۔کسی کا حق چھین لیں ،مگر شاید ان کو یہ علم نہیں کہ جس دن روز جزا اورسزا کا دن ہوگا یہی حق تلفیاں ان کی گردنوں میں طوق بن کر لٹک رہی ہوں گی ۔اس دن تو ہر شخص ایک ایک نیکی کو ترسے گا ،نہ ماں بیٹے کی ہوگی،نہ بیٹا ماں کا ہوگا ،نہ بھائی بہن کا ہوگا ،نہ بہن بھائی کی ہوگی ،نہ باپ بیٹے کا ہوگا،نہ بیٹا باپ کا ہوگا ۔اگر کوئی کسی سے کوئی ایک نیکی بھی مانگے گا تو وہ اسے نہیںدے گا۔مگر اے بے خبر انسان اس دنیا میں رہتے ہوئے ابھی تیرے پاس بہت سا وقت ہے ۔حقداروں کا حق مارنے کے بجائے ان کو ان کا حق دیا جائے ،راہ چلنے نیکیاں کی جائیں ،اللہ اوراس کے رسول پاکﷺ کو راضی رکھا جائے ۔جب اللہ تعالیٰ پانچ وقت پکارتا ہے کہ آﺅ بھلائی کی طرف،آﺅ بھلائی کی طرف مگر ہم اتنے بدقسمت مسلمان ہیں کہ ان دنیاوی دھندوں میں پھنسے رہتے ہیں ،دنیاوی ناخداﺅں کو راضی کرنے کے چکر میں مصروف رہتے ہیں یہ نہیں جانتے ہیں کہ جو اصل رازق ہے اس کے احکامات پر عمل نہیں کررہے جب ایسی صورتحال ہوگی تو پھر یقینی طور پر ایسی آفات تو نازل ہونگی ۔