- الإعلانات -

سکھ قوم کے رنج و الم کا دن

آج دربار صاحب امرتسر پر بھارتی فوج کی چڑھائی کو 33 سال ہوگئے سکھ قوم کے دل و دماغ اور روح پر لگے زخم آج بھی اسی طرح تر و تازہ ہیں جیسے 84 میں تھے اس خوف ناک دہشتگردی کی واقعے کی یاد اور لگے زخموں کی شمعیں اپنے دلوں میں جلائے سکھ آج بھی تڑپ اٹھتے ہیں کہ کس طرح بے دردی اور درندگی کے ساتھ ان کے پیاروں کا قتل عام کیا گیا بلکہ سکھوں کے مذہبی شعائر کی بدترین توہین کی گئی جس کی براہ راست ہدایات اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی دے رہی تھیں یہ خود اندرا گاندھی ہی تھیں جنہوں نے دانستہ بھنڈرانوالہ کو کانگریس یوتھ پنجاب کا صدر مقررکیاتھا اور اسے وہاں باقائدہ فنڈنگ اور منصوبہ بندی سے مقبول بنایا اس حد تک کہ بھنڈرانوالہ وہاں کی مختلف سکھ طلبا تنظیموں میں یکساں مقبول ہوگئے یہی وہ موقع جب کانگریسی سیاسی قیادت نے بھنڈرانوالہ سے بے انتہائی برتنی شروع کردی جس کے سبب بھنڈرانوالہ مقامی سکھ طلبا تنظیموں کی سرپرستی شروع کردی اور ان سے روابط بڑھانے شروع کردئے اور کانگریس سے دور ہوتے چلے گئے طلبا میں آزادی یا آزاد خالصتان کی آوازیں اٹھنے لگیں اور یہی اندرا گاندھی چاہتی تھیں یہ کلاسیکل ہندو سائیکی کا شاہ کار منصوبہ تھا جس کا مقصد سکھوں کی بہتر اقتصادی حالت کے خاتمے کے ساتھ عام سکھوں کی اس نفسیاتی برتری کاخاتمہ بھی تھا جو بزعم خود 1947 میں پنجاب میں ہونے والے سکھ مسلم فسادات میں سکھوں نے مسلمانوں کے قتل عام میں حاصل کی تھی اور خود کو ہندوستان کی سب سے بڑی مارشل ریس سمجھنے لگ گئے تھے جو کسی بھی متعصب ہندو کیلئے قابل برداشت نہیں ہو سکتا بھنڈرانوالہ کی ابتدائی سیاسی اصلاحات اور کچھ پانی کے مسائل پر مشتمل چند مسائل اور مطالبات تھے جنہیں بیک جنبش قلم ختم کیا جا سکتا تھا لیکن اندرا گاندھی نے ان مطالبات سے بھی دانستہ بے اعتنائی برتی تاکہ لوگوں کے جذبات میں مزید ہیجان آئے یوں علیحدگی کا نعرہ لگانے والے طلبا کی کم تعداد کے باوجود یہ نعرہ مقبولیت حاصل کرنے لگا اور معتدل ذہن رکھنے والے سکھ طلبا بھی آزادی کے نعروں کے ہمنوا ہوتے چلے گئے اور یوں ایک معمولی سیاسی مطالبات کی تحریک نے آزاد خالصتان کی تحریک کو جنم دیا معاملات کو ہندوستان کی سرکاری ایجنسیوں نے مزید خراب کیا ایجنسیوں کے لوگوں نے سکھ تنظیموں داخل ہو کر حالات کو اور زیادہ بگاڑا اور لوگوں کو بھڑکایا اسی موقع کا اندرا گاندھی کو انتظار تھا دانستہ معاملات کو اس نہج پر لے جایاگیا اور سکھوں کے خلاف پورے ہندوستان میں ایک ہسٹیریا پیدا کیا گیا ہندوستان بھر سے سکھوں کے خلاف فوجی آپریشن کے مطالبے ہونے لگے یوں سکھوں کے خلاف آپریشن کو مطلوبہ عوامی حمایت بھی میسر آگئی اور یوں بے رحمانہ آپریشن کا آغاز کردیا گیا جس میں ہزاروں نوجوان کام آئے سکھوں کی نفسیاتی برتری کو مزید کچلنے کے لئے ہفتہ بھر سے زیادہ عرصہ تک رفع حاجت کے لئے فوجیوں کو دربار صاحب کی تباہ شدہ عمارتوں کو استعمال کرنے کا حکم دیاگیا اورزخمیوں کو جانے والی طبی سہولیات روک لی گئیں اور معمولی زخمی بھی ہلاک ہو گئے لاشوں کے انخلا کا کام بھی دانستہ سست روی کا شکار رہا تاکہ زیادہ سے زیادہ تعفن پھیل سکے اس سارے کھیل میں نام نہاد ہندوستانی جیمزباند اجیت دوول کا کردار نہایت کلیدی رہا یہ شخص پورے آپریشن کے دوران خود ساختہ پاکستانی ایجنٹ بن کر دربار صاحب کے اندر ہی رہا اور باہر موجود ہندوستانی فوجیوں کو ٹھیک نشانے کیلئے رہنمائی فراہم کرتا رہا تاکہ دربار صاحب کی زیادہ سے زیادہ تباہی ہو سکے یہ دراصل ایک متعصب ہندو کی عمومی ذہنی ساخت ہے اور ہندو دنیا بھر میں سب سے زیادہ کینہ پرور ہوتا ہے سانپ کی سی فطرت کاحامل ہندو کہیں نہ کہیں آپ کو موقع پاتے ہی ڈس لیگا اس کے ڈنک سے کوئی بھی غیر ہندو کبھی خود کو محفوظ تصور نہ کرے ہر دفعہ چالیں بدل بدل کر آتا ہے آج ہندوستان میں 17 بڑی اور 50 کے قریب چھوٹی تحریکیں ہندوستان بھر میں برپا ہیں 7 جنوب مشرقی ریاستیں جو سیون سنٹرز بھی کہلاتی ہیں وہاں ہندوستان کی کوئی رٹ نہیں بلکہ اس علاقے میں جانے والی فوج بھی ٹرکوں میں بیٹھ کر دن کے وقت کبھی کبھار سڑکوں پر سے گزر کر یہ بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ ہندوستان کی حکومت کا کوئی تعلق اسی علاقے سے ضرور ہے لیکن زمین پر قدم رکھنے کی جرات نہیں ہوتی آسام سے آگے جانے کی جرات ہندوستانی افواج کم ہی کر پاتی ہیں پنجاب میں آزاد خالصتان کی تحریک میں بہت جان پڑ چکی ہے اور عملی طور پر یہ ریاست نہایت مستحکم اور متمول اور خوشحال ریاست ہوگی اس کی مستقبل کی قیادت پڑوسیوں سے بہترین تعلقات کیلئے پر عزم ہے اور یہ پاکستان کیلئے نہایت خوش آئند امر ہے عام سکھوں کے ذہن یکسر بدل چکے ہیں خصوصا نوجوان عشق کی حد تک خالصتان کے نظریے سے محبت کرتے ہیں جس کیلئے نوجوان سکھ دنیا بھر میں متحرک بھی ہیں بیرون ملک سکھ برادری پوری دنیا میں اپنی آزادی اور اپنے درست موقف کو تسلیم کروا چکی ہے اور اس سلسلے میں استصواب رائے کیلئے 2020 کا ہدف مقرر ہے دنیا بھر میں رائے عامہ سکھوں کے حق میں بہت زیادہ ہموار ہو چکی ہے ترقی یافتہ اور طاقتور قوموں کی سیاسی قیادت سکھ برادری کے مطالبات کو درست سمجھتے ہوئے ان کی حمایت پر آمادہ ہے ڈاکٹر امرجیت سنگھ اس سلسلے میں نہایت متحرک ہیں ان کی لگن اور ولولے اور خالصتان تحریک کی عمومی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے کہاجاسکتا ہے کہ آزاد خالصتان کی منزل زیادہ دور نہیں ہمارا اور پاکستانی عوام کا مطالبہ ہے کہ پاکستان سکھوں کے اس منصفانہ مطالبے کی سیاسی اخلاقی مدد کرے جو ہمارے مستقبل کی نہایت پرامن پڑوسی ریاست ہو گی ہمیں بہترین اور محفوظ پڑوسیوں کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی اللہ پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین
*****