- الإعلانات -

کراچی میں اعلانیہ اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ

آج کراچی شہر کو اندھیروں میں ڈبونے والی کے الیکٹرک نے عدالتی حکم کو ہوا میں اُڑادیااور وفاق کی رسی پکڑ کر ہٹ دھرمی کی تمام حدیں عبورکرلی ہیں،جبکہ پارلیمانی کمیٹی برائے کے الیکٹرک کا اجلاس جوجاوید ناگوری کی صدارت میں ہوا بلانے کے باوجودکے الیکٹرک کے سی ای اُو اجلاس میں شریک نہیں ہوئے کراچی میں کے الیکٹرک نے وفاق کو خوش کرنے کے خاطر بجلی بحران کو بے لگام کرکے الیکٹرک کوبھی بے قابو کردیاہے۔ یقیناًکے الیکٹرک کے کی ہٹ دھرمی کے باعث شہر کراچی میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتِ حال پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اَب گلے پھاڑ پھاڑ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’ کے الیکٹرک کو حکومتی تحویل میں دیاجائے، کے الیکٹرک اپنا قبلہ درست کرے، ورنہ مجبوراََ سندھ حکومت کو کے الیکٹرک کے خلاف عوامی توقعات کے مطابق اقدامات اُٹھانے چا ہئیں اور اگر وفاق کا سا یہ کے الیکٹرک پر قا ئم رہا وفاق اور کے الیکٹرک نے اپنا قبلہ درست نہ کیا اور اگلے دِنوں وفاق کا آسیب کے الیکٹرک سے نہ نکلاتوپھر ہر صورت میں سندھ حکومت سڑکوں پر آنے والے کے الیکٹرک کے ڈسے کراچی کے شہریوں کوبھی شائد حکومتی مشینری نہ روک سکے۔ جہاں یہ امر قابل غورہے تو ساتھ ہی باعثِ افسوس بھی ہے کہ گزشتہ نو دس سالوں سے پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی حب شہر کراچی کو اندھیروں میں ڈبو کر صارفین سے جائز وناجائز چوری اور گنڈے کے اووربلنگ کی مد میں ماہانہ کروڑوں اور سالانہ اربوں روپے کمانے کی دھن میں نجی کے الیکٹرک کی انتظامیہ مگن ہے تووہیں خود سے ایک یونٹ بھی بجلی پیدانہ کرکے اپنے ایسے ہی سیاہ کرتوں کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے والی کے الیکٹرک کی نا اہل انتظامیہ کی جانب سے امسال بھی پہلے ہی روزے کی پہلی ہی سحری اور افطاری سے اہلیان کراچی کے حصے میں جو اندھیرے آئے تھے ابھی جب یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں توآج بھی بدقسمتی سے کے الیکٹرک کی جانب سے اندھیروں کا عذاب پہلے ہی روز کی طرح کراچی والوں پر نازل ہے اَب بھی شہرِ کراچی کے بیشتر علاقے کے الیکٹرک کی نا اہل انتظامیہ کی ناقص اور فرسودہ حکمتِ عملی کی وجہ سے سحر وافطار کے اوقا ت میں اندھیروں میں غرق ہیں اور وہاں کے مکین اِس قیامت خیز گرمی میں بغیر بجلی کے ،کے الیکٹرک کا عذاب جھیل رہے ہیں ، ایسے میں لا محالہ روزے داروں کی برداشت کی حد ختم نہیں ہوگی تو پھراور کیا ہوگی؟ اور وہ کے الیکٹرک کے علاقا ئی دفاتر پر توڑپھوڑ کرکے اور سڑکوں پر ٹائر جلا کر جیسا چاہیں اپنا احتجاج ریکار ڈ نہیں کرائیں گے توپھرآپ خودہی بتائیں کہ یہ بیچارے اور کیا کریں گے؟ کیونکہ وفاق سے لے کر صوبے سندھ تک حکمرانوں اور سیاستدانوں کی کھینچا تانی اور ایک دوسرے پر سبقت لے جا نے اوراپنے مخالفین کو نیچادکھانے کی لڑائی میں اہلیانِ کراچی اور شہرِ کراچی کے روزے دار ہی تو پس رہے ہیں اورپاور پرپاوررکھنے والے وفاق کے بڑے سیاسی بھینسوں کی سیاسی اور اقتدار کی اِس لڑائی میں بیچا رے کراچی کے باسیوں اور کراچی کے ہی روزے داروں کی چٹنی بن رہی ہے جبکہ وفاق اور صوبوں کی طرف سے توانا ئی منصوبوں کی تکمیل پر اشتہاری مہم کے لئے ماہانہ کروڑوں اور سالانہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بھی سسٹم میں توانا ئی کا خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ۔
اَب ایسے میں یقیناًکراچی کے روزے داروں کی حدِ برداشت ختم ہوگئی ہے اور حدِ برداشت ختم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ایک طرف تو آگ برساتا سورج ہے تو اُوپر سے گرمی کابڑھتاہوا پارا ہے تووہیں دوسری طرف کے الیکٹرک کے بے لگام ہوتی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ پہلے ، دوسرے اور تیسرے روزوں کے دوران ہوامیں بڑھتی نمی کی وجہ سے جیسکو کی ایکسٹراہائی ٹینشن لائن 500کے وی کے ٹرپ ہونے کے باعث( پچھلے تین سالوں کے دوران چھٹا اور ماہِ رواں کا پندہ روان) بڑابریک ڈاون ہے جس کے بعد کراچی والوں کے حصے میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ لوڈمینجمنٹ کے اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کے الیکٹرک والوں نے شہرِ کراچی کے باسیوں پراندھیروں اور گرمی کا عذاب بھی نازل کرنے میں ذرابھی رعایت نہیں برتی ہے۔
آج جہاں کے الیکٹرک کی کراچی شہر میں اعلانیہ اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی مدمیں شہریوں اور اپنے صارفین پر اعلانیہ اور غیر اعلانیہ غنڈہ گردی جاری ہے تو وہیں حکمران جماعت بھی کے الیکٹرک کو بے لگام کرنے میں صوبہ سندھ سے پاورپر پاور کا استعمال کررہی ہے جس کی وجہ سے سندھ حکومت میں بہت سے خدشات اور تحفظات جنم لے چکے ہیں اورآج سندھ حکومت کا قوی خیال یہ ہے وفاق کی جانب سے کے الیکٹرک کو بے لگام لوڈشیڈنگ پر بے لگام چھوڑے رکھنا اور کے الیکٹرک کی انتظامیہ کے خلاف دیدہ دانستہ انضباتی کارروائی نہ کرنا،یہ صاف ظاہرکرتا ہے کہ وفاق کے الیکٹرک کوشہرکراچی کو اندھیرے میں ڈبونے کافری ہنڈ دے کر کے الیکٹرک کوسیاسی مقاصدکیلئے استعمال کررہاہے تاکہ شہرِ کراچی معاشی اور اقتصادی طور پر غیرمستحکم رہے اور اِس کا وقار مجروح ہو۔اگرچہ پچھلے کئی سالوں سے نیپراجو کہ وفاقی ادارہ ہے وہ بھی رواں حکومت کے ایماء پر کے الیکٹرک کے سیاہ کرتوتوں کے خلاف ایکشن لینے سے قاصر رہاہے اَب جبکہ کہ سندھ ہا ئی کورٹ نے نیپراکو کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیاہے دیکھتے ہیں کہ نیپراکے الیکٹرک کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لاتا بھی کہ نہیں یا پہلے کی طرح کے الیکٹرک کے سیاہ کرتوتوں پر آنکھیں بند کرکے بیٹھ جاتا ہے اور سب اچھا اور ٹھیک ہے کی رپورٹ دے کر کے الیکٹرک کو فری ہنڈ دے دیتا ہے ۔جبکہ کے الیکٹرک کی نااہل انتظامیہ کی ناقص حکمتِ عملی کے باعث شہرکراچی میں بڑھتی ہوئی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کے بڑھتے احتجاجوں کے سلسلے پرسندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ وفاق رمضان میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا وعدہ پوراکرے، لوگوں کو روک نہیں سکتے ، نہیں چاہتے کہ سندھ میں بھی گرڈاسٹیشنوں پر حملے ہوں،‘‘وفاق اور اہلیان اقتدارایک لمحے کے لئے مرادعلی شاہ کے اِس بیان کے تناظر میں سوچیں اور دیکھیں تو یہ وفا ق کے لئے ڈھکے چھپے الفاظ میں ایک ایسا عندیہ ہے کہ جو یہ ظاہر کررہاہے کہ اَب اگر وفاق اور برسرِاقتدار ن لیگ والوں نے سندھ میں کے الیکٹرک کی پست پناہ بند نہ کی اور اِسے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے باز نہ رکھا تو عوامی احتجاجوں کے سامنے سندھ حکومت بے بس ہوجا ئے گی اور پھر اگر سندھ اور کراچی کے عوام نے بھی کے پی کے والوں کی طرح گرڈاسٹیشنوں پر حملے کئے تو اِس کا ذمہ در صرف اور صرف وفاق اور خود کے الیکٹرک کی انتظامیہ ہوگی۔
بہرحال ،اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو یہ بات سب کو آج تسلیم کرنی پڑی گی کہ ہمارے یہاں جیسے جیسے الیکشن 2018ء کے دن قریب آتے جا رہے ہیں، مُلک کی برسراقتدارجماعت سمیت اپوزیشن کی جماعتیں بھی مُلک میں بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں سے باہمی شیر و شکر ہوکر کراچی تا کشمورتک بجلی کی طویل اعلانیہ اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھوانے کی ذمہ دار ہیں بات یہیں ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ فنی خرابوں کا بہانہ بنواکرکراچی سمیت پورے مُلک میں بجلی کا مصنوعی بحران بھی پیداکرارہی ہیں تاکہ یہ عوام کو توانا ئی باا لخصوص بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرانے کا جھانسہ دے کر ایک مرتبہ پھر عوام کو اپنا گرویدہ بنائیں اور اِن سے پھر سے ووٹ حا صل کریں جیسا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نوازشریف والوں نے 2013ء میں کیا تھا اور یہی وہ حربہ ء الیکشن اور حربہ ووٹ تھا جس کے سہارے ن لیگ نے ووٹ حاصل کئے اوریہ برسراقتدار آئی ۔یقیناًآج ایک مرتبہ پھر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے اُسی سیاسی ہٹ دھرمی کا مل کر مظاہر ہ کرنا شروع کردیاہے اور سب کی سب اِسی حکمتِ عملی پر سختی سے کاربند ہیں آج جس طرح بھی پاکستان مسلم لیگ ن ،جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ، ، پاکستان تحریکِ انصاف ، متحدہ موومنٹ پاکستان ، اور جماعتِ اسلامی پاکستان والوں کا جہاں جیسا بس چل رہاہے سب اپنا اپنا اُلو سیدھا کررہے ہیں، یہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ جیسا کہ یہ تمام کی تمام سیا سی جماعتیں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی فرسودہ کارکردگی پر توپہلے ہی آنکھ بند کئے بیٹھی ہیں۔(جاری ہے)
سوال درسوال۔۔۔ شوق موسوی
یہ مال و دولتِ دنیا کہاں سے آئی ہے
کدھر کو جاتے کدھر سے یہ مال اٹھتے ہیں
بُلاتی رہتی ہے تفتیشی ٹیم روز اُنہیں
ہر اِک جواب پہ سو سو سوال اٹھتے ہیں