- الإعلانات -

پاک افغان کشیدگی کی وجہ بھارت ہے

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن اور بحالی کے لئے بھرپور تعاون کررہا ہے لیکن کچھ عناصر پاک افغان تعلقات خراب کرنے کے در پے ہیں۔افغان قیادت کی جانب سے الزامات مایوس کن ہیں جنہیں پاکستان مسترد کرتا ہے۔ پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات امن مخالف اور مخصوص ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ افغانستان میں مختلف تنظیمیں طاقتور ہیں جو بدامنی کا باعث ہے اور دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ رہا ہے۔ بھارت دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ آخر میں نام پاکستان کا لگا دیا جا تا ہے۔
دہشتگردی کی خلاف جنگ میں شامل برطانوی فوجی افسر رابرٹ گیلی مور نے اپنے انکشافات میں خطے میں پاک افغان اور بھارت کشیدگی پر بھارت کو مورد الزام ٹھرایا ہے جبکہ افغان فوج اور خفیہ ایجنسی کے پاکستان مخالف رحجان پر تشویش کا بھی اظہار کیا ہے۔ افغان ملٹری اکیڈمی اور افغان خفیہ ایجنسی کے سابق انسٹرکٹر اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں شامل برطانوی فوجی افسر میجر رابرٹ گیلی مور نے خطے میں دہشتگردی کا ذمہ دار بھارت کو ٹہرا دیا۔ پاک بھارت تعلقات اور افغان مفاہمتی عمل سے متعلق میجر رابرٹ گیلی مور نے کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ کشیدگی اور پاک افغان تعلقات کی خرابی کی جڑ بھارت ہے نہ کہ پاکستان۔ پاکستان کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت اور الزام تراشی نے کشیدگی کو ہوا دی ہے۔ مغربی ممالک کے پالیسیاں بھی اس تمام تر صورتحال کی برابر شراکت دار ہیں۔میجر رابرٹ گیلی مور نے افغان فوج اور خفیہ ایجنسی کی جانب سے پاکستان مخالف رجحان کو انتہائی پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فوج اور خفیہ ایجنسی کا ہر واقعہ کا الزام پاکستان پر لگانا درست نہیں۔ پاکستان کا افغانستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ مغربی پالیسیوں اور بھارتی مداخلت سے ناصرف پاکستان کیساتھ کشیدگی بڑھی ہے بلکہ افغانستان مزید خطرناک خطہ بن گیا ہے۔ افغانستان میں بے جا بھارتی مداخلت امن کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کے قومی سلامتی کے مشیراجیت دوول بھی طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا بیان دے چکے ہیں۔ بھارتی قیادت کے بلوچستان کے بارے میں بیانات اور ایک وزیر کا عوامی سطح پر پاکستان میں دہشت گردی کرانے کا اعلان اس با ت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اورتخریب کاری کرانے میں بھارت کا ہاتھ ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت پاک۔افغان تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔افغانستان کے ساتھ پاکستان کے بہت ہی دیرینہ تعلقات ہیں اور بھارت چاہے کچھ بھی کر لے ہم اس کوشش کو کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بھارت نے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جس سے دنیا میں ایک منفی تاثر گیا جسے کانفرنس کے اراکین نے بھی محسوس کیا۔ ایک طرف افغانستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور دوسری جانب ہمیں ان ہی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیتا ہے، لہٰذا یہاں بیانات میں کافی تضاد پایا جاتا ہے۔ افغانستان کی جانب سے اس طرح کے بیانات کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ تو افغان حکومت کے اندرونی معاملات ہیں اور دوسرا داعش سمیت کئی دوسرے گروپس افغانستان میں منظم ہورہے ہیں، لہٰذا وہاں پر 9/11 کے بعد روایتی طور پر کچھ بھی ہوتا ہے تو نام پاکستان کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک اور وجہ امریکا کی مداخلت بھی ہے جو افغانستان میں اپنی ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے۔ ان تمام وجوہات کے باوجود پاکستان چاہتا ہے کہ وہ ہر مسئلے میں افغانستان کی ہر ممکن مدد کرے جس سے اسے خود ہی یہ احساس ہوگا کہ پاکستان خلوصِ نیت سے کام کرکے تعلقات کو بہتر کرنا چاہتا ہے۔پاکستان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ بھارت، پاکستان کے خلاف افغان زمین استعمال کررہا ہے۔ اگر افغانستان کی معاشی بہتری کے لیے کوئی ملک مدد کررہا ہے تو ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اگر کوئی ملک پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرتا ہے تو ہمیں حق ہے کہ ہم اس کے خلاف آواز بلند کریں۔ کچھ عرصہ قبل دہشت گردوں کی آمداورمنشیات کی سمگلنگ روکنے کے لیے پاکستان سرحد پر گیٹ تعمیر کرنے کا ارادہ کیا ، تاہم افغانستان کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ فائر بندی کے لئے کئے گئے حالیہ مذاکرات میں گیٹ کی دوبارہ تعمیرکا معاملہ زیر بحث نہیں آیا۔ افغانستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بارڈر مینجمنٹ صرف پاکستان کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کی جارہی ہے۔ طورخم بارڈر پر گیٹ کی تعمیرسے پاکستان کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کررہا۔دہشت گردی اور سمگلنگ روکنے کیلئے افغانستان کے ساتھ دیگر سرحدی گزرگاہوں کو بھی مستقبل قریب میں ریگولیٹ کیا جائے۔
*****