- الإعلانات -

عدالتی فیصلے

ریلوے سٹیڈیم لاہور میں ٹرائل کیلئے کراچی کے چند کھلاڑیوں کو گونواز گوکے نعرے لگا دئیے پولیس لاہور ان پر ٹوٹ پڑی ۔ گرفتاری و ڈنڈابازی کے بعد وزیر اعظم کی مداخلت پر رہا ہوگئے ! لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر چودہری ذوالفقار علی نے اپنے ساتھیوں سمیت وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بچانے کیلئے تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے! ایک قومی روزنامے نے حکمرانوں کے تحفظ اور کامیابی کے مضامین خبریں شائع کرتے ہوئے کراچی کے کھلاڑیوں اور لاہور ہائی کورٹ بار نمائندؤں کی دو یک کالیمی خبریں بھی شائع کردیں۔ لاہور سعد رفیق اور طلال چودھریوں زغیم قادریوں کا شہر ہے کسی کراچی کے کھلاڑی کی کیا جرات کہ وہ لاہور میں گو نواز گو کا نعرہ لگا ئے ۔ اور سعدرفیقوں، طلال چودھریوں اور زغیم قادریوں کے قہر سے بچ نکلے ! پنجاب پولیس نے کراچی کے گونوازگو کے نعرے لگانے والے کھلاڑیوں پر ڈنڈے برسا کر حوالات میں بند کر کے سعد رفیقوں اور طلال چودھریوں کو بدنام ہونے سے بچالیا ہے ۔ یعنی پنجاب ان نعرہ بازوں پر حملہ آور ہو کر ان کو سبق نہ سکھاتی تو پھر رفیقوں ،۔ چودھریوں اور قادریوں کو اپنی جرات کا مظاہرہ کرنا ہوتا۔ اور بات بڑھ بھی سکتی تھی!کراچی کے کھلاڑیوں نے گونواز گو کے نعرے کیوں لگائے اور ان نعرے لگانے والوں نے کسی کے اشارے نعرے لگائے؟کیا اس نعرہ بازی میں عمران خان یا تحریک انصاف کی سازش تو شامل نہ تھی؟نوجوانوں اور کھلاڑیوں تو بڑے زندہ دل ہوتے ہیں۔ اگر انہوں نے جوش میں آکر نعرے لگابھی دئیے تھے تو پولیس تو تھوڑصبراور تدبر سے کام لینا چائے تھا! کیونکہ گونواز گو کے نعرے ملک کے کونے کونے میں لگ رہے ہیں اور ان نعروں کا میاں نواز شریف کی حکومت اور صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑرھا! حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز نے بھی میاں نواز شریف کو نااہل لکھا ہے ! تمام اپوزیشن سپریم کورٹ کے ججز کے ریمارکس پر وزیراعظم پر مستعفی ہونے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے !سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے مکمل جامعہ تلاشی کا حکم دیا ہے۔ جتی کہ سابق صدر جسے پرانے اتحادی نے بھی وزیر اعظم میاں نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے جب ان تما مقتدد اور معزز لوگوں کے مطالبات خطابات اور الزامات کاوزیر اعظم پاکستان پر کچھ اثر نہیں ہورھا تو کراچی کے چند کھلاڑیوں کو گو نوزاگو کے نعروں پر پنجاب پولیس کے ہاتھوں مالش کرانے کا ناٹک کیوں کھیلاگیا؟ کراچی کے کھلاڑی بچارے تو پنجاب سیر تفریح اور بہتر مستقبل کی خواہش پر آئے ہونگے ان کا خیال ہوگا کہ گراچی کی بدامنی ، دہشت گردی !چھینا، چھپٹی جیسا موحول وزیراعظم کے شہر کا نہیں ہوگا۔ اور انہوں نے لاہور کے ماحول کو پر امن پر سکون ۔اور دوستانہ تصور کرتے ہوئے دل کی بات زبان سے ادا کردی ہوگی! کیونکہ کراچی میں جو گھٹن اور دہشت گردی و غنڈہ گردی کار اج ہے ۔ اس سے نکل کر کراچی سے کھلاڑیوں نے آزادی کا اظہار کرتے ہوئے نعرہ لگایا ہوگا! حالانکہ کراچی میں الطاف حسین کے خلاف بھی بات کرنے والوں کو عقوبت خانوں میں رکھ کر ان سے حساب لیاجاتا تھا۔ مگر وہ ماحول اور وہ حالات اب نہیں رہے ۔ کیونکہ زبردستی کسی کو ہمیشہ کیلئے زبان بند نہیں کیا جاسکتا ! ایک وقت تھا جب الطاف حسین اور ایم کیوایم کے خلاف بات کرنے والوں کو زندگیوں سے بھی ہاتھ دھونے پر جاتے ۔ مگر اب الطاف حسین کا نام لینا بھی جرم بن گیا ہے۔ لاہور پولیس کو سمجھایا جائے کہ گونواز گو کے نعرے لگانے والوں کو ناجائز حراست میں رکھنے اور ان کو لتر پریڈ کرنے کی بجائے میاں نواز شریف کو مشورہ دیا جائے کہ ان پر کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کیلئے انکوائری ٹیم اپناکام کررہی ہے ۔ آج نہیں تو کل ضرور عدالتی فیصلے کے خلاف حکومت اور اپوزیشن دونوں میدان میں ہوں گے! تب نہ عدالت کی توقیر بچے گی اور نہ اقتدار والے محفوظ رہیں گے!