- الإعلانات -

کلبھوشن کیس پر پاکستان کی کمزور حکمت عملی کیوں؟

پاکستانی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا سنائی تو بھارت کی پارلیمینٹ اور بھارتی وزیر خارجہ نے اس سزا کے خلاف کافی اودھم مچایا اور پھرعالمی عدالت انصاف جاپہنچے۔ آئی ایس پی آر نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی 6منٹ کی ویڈیو میڈیا کو جاری کی تھی جس میں کلبھوشن یادیو نے اپنے تمام جرائم قبول کیے ۔ کلبھوشن یادیو نے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ وہ 2013 کے آخر میں ’را‘ میں شامل کیا گیا، اس وقت سے بطور آفیسر بلوچستان اور کراچی میں دہشتگرد کارروائیاں کرواتا رہا ہے‘‘۔ بھارت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کی پھانسی کو روکے جانے کو ان کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے ۔ کلبھوشن پاکستان کامجرم ہے اسے سزا بھی آرمی ہی دے سکتی ہے۔ بلوچستان و کراچی میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی اس کا ذمہ دار کلبھوشن اور اس کا نیٹ ورک ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے اتنا ٹیکنیکل مسئلہ بنا دیا ہے کہ تمام معاملات پاکستان کے خلاف جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ سب سے بڑا فریق پاکستانی عوام ہیں۔پاکستان کلبھوشن کیس اسی دن ہار گیا تھا جس دن اس نے عالمی عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ پاکستان اس کیس میں ایک خط لکھ کر عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار کو مسترد کر سکتا تھا۔ عالمی عدالت انصاف صرف نام کی ہے یہ انصاف کی طرف نہیں جائے گی۔ یہاں عالمی سیاست و لابنگ ہے۔ جس میں پاکستان بہت کمزور ہے۔ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ہم اس میں پھنس چکے ہیں جو ہماری ناکامی ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کیس کے حوالے سے عجیب و غریب فیصلہ دیا ہے۔ پہلے اختیار سماعت حاصل ہونے کے حوالے سے مکمل فیصلہ دینا چاہئے اگر وہ اس پر تذبذب کا شکار ہیں تو کیس کو آگے نہیں چلانا چاہئے۔ ابھی انہوں نے اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ اختیار سماعت ہے یا نہیں۔ عالمی عدالت کے فیصلے سے لگتا ہے کہ اس کا جھکاؤ بھارت کی جانب ہے۔ اگر یہ لابنگ پر چلے گی تو اس کی اپنی ساکھ مجروح ہو گی۔ پاکستان نے بھی اس کے فیصلے کو نہیں مانا۔ فیصلہ متنازعہ ہے اس پر تحفظات ہیں۔ عالمی عدالت میں پاکستان کو کبھی انصاف نہیں ملا۔ بھارت نے کہیں یہ تسلیم نہیں کیا وہ کلبھوشن کو حسین مبارک پاٹیل کی حیثیت سے یا کلبھوشن یادیو نام سے اپنا شہری تسلیم کر رہا ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ کلبھوشن بھارتی نیوی کا افسر تھا یا ہے۔ وہ ’’را‘‘ کے نیٹ ورک کا آپریٹر تھا، پاکستان میں اس نے نہ صرف دہشت گردی کی بلکہ اعتراف جرم بھی کیا۔ کلبھوشن یادیو یا حسین مبارک پاٹیل جعلی نام تھے۔ جوائنٹ سیکرٹری ’’را‘‘ انیل کمار گپتا کی زیر نگرانی پاکستان میں تباہی جاری ہے۔ بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھارتی پالیمینٹ سے خطاب میں کلبھوشن یادیو کو ’’بھارت کا بیٹا‘‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان کو متنبہ کیا کہ اگر اس کی سزائے موت پرعمل کیا گیا تو یہ اقدام دو طرفہ تعلقات کیلئے نقصان دہ ہو گا۔ کیا بھارت کے کلبھوشن یادیو جیسے دہشتگرد بیٹے پاکستان کے بے گناہ شہریوں کا خون بہاتے ہیں؟۔ بھارت کا یہ دہشتگرد بیٹا اپنی زبان سینکڑوں پاکستانیوں کا قاتل ہونے کا اقرار کرچکا ہے، بھارت کا طرزعمل چوری اورسینہ زوری کے مترادف ہے۔
مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ہم کمزوری کیوں دکھاتے ہیں؟ مسلمان قوم کو اللہ پاک نے ہر دم تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ اپنے گھوڑے اور تلواریں ہر دم تازہ دم اور تیاررکھنے کا حکم ملا ۔مگر ہم اپنی کمزوری دکھا کر دوسروں کے الزامات کو خاموشی سے سن رہے ہوتے ہیں۔ کوئی جواب نہیں دیتے۔ اور اگر جواب دیتے بھی ہیں تو گھنٹوں گزرنے کے بعد۔ مخالف کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا، لیکن الزامات کے تیر وں کی برسات ایک دم سے کر دیتے ہیں گویا اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ سچ کا گمان ہونے لگتا ہے اور ہم سچے ہوتے ہوئے بھی خاموش رہ جاتے ہیں۔ کسی قسم کا کوئی ثبوت نہیں پیش کرتے۔ آخر کیوں؟
پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔اپوزیشن ارکان نے کلبھوشن کیس میں حکومت کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تنقید کی کہ کلبھوشن کا کیس کمزور طریقے سے لڑا گیا۔ کلبھوشن کیس کے معاملے پر عالمی عدالت انصاف میں کمزور قانونی ٹیم بھیجی گئی۔ کلبھوشن کیس میں پاکستان کو بروقت ایڈہاک جج کی تقرری پر زور دینا چاہیے تھا۔ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ سماعت پر پرزور دلائل دئیے جانے چاہئیں تھے۔حقیقت میں کلبھوشن کیس میں ہم تیار نہیں تھے جس وجہ سے بھارت اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔اب 8 جون کو اٹارنی جنرل کی سربراہی میں پاکستانی قانونی ٹیم عالمی عدالت انصاف میں پیش ہو گی۔ بعض ارکان نے کلبھوشن معاملے پر سوال اٹھائے کیونکہ ممبران چاہتے ہیں کہ عالمی عدالت میں پاکستان کی بہتر نمائندگی ہو۔ایک سینئر صحافی و تجزیہ کار نے کہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف میں شکست کھانے کا یہ پہلا موقع نہیں، اس سے پہلے بھی ریکوڈک و پانی کے مسئلے پر بھی ناکامی ہوئی تھی۔ تینوں معاملات میں پاکستان کا موقف مسترد جبکہ بھارت کا مان لیا گیا۔ حکومت پاکستان کو خصوصی توجہ دینی چاہئے کہ عالمی قوانین کے ماہر اور ہوتے ہیں۔ مقامی عدالتوں میں کام کرنے والے عام وکلا کوئی موثر کارکردگی نہیں دکھا سکتے نہ ہی آج تک دکھائی ہے۔ حکمت عملی میں تبدیلی نہ کی تو حتمی فیصلے میں بھی کامیابی نہیں ملے گی۔ ہماری رسائی عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے سلسلے میں صفر ہے۔ حکمت عملی تبدیل کر کے ایسے لوگوں کو ٹاسک دینا چاہئے جو مختلف ممالک کے پارلیمنٹ کے ارکان، دانشوروں اور میڈیا تک اپنا موقف پہنچا سکیں۔ جب تک اپنے موقف کو بھرپور طریقے سے عالمی عدالت انصاف کے اندر و باہر واضح طور پر پیش نہیں کیا جاتا اس وقت تک کامیابی کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ عالمی عدالت انصاف میں ماضی میں بھی ہمیں ناکامیوں کا سامنا رہا ہے۔ مسلسل ناکامیوں سے دوچار ہو رہے ہیں جس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور ہے۔ حکومت کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیرخارجہ کا نہ ہونا بھی ہماری ایک کمزوری ہے۔