- الإعلانات -

بھارت کا کشمیر پر68سالہ غاصبانہ قبضہ

جب ہندوستان کی تقسیم اور پاکستا ن کا قیام یقینی ہو گیا تو کانگریس اور مہاراجہ ہری سنگھ کو ریاست جموں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا خدشہ لاحق ہوگیا۔ریاست کشمیر کو ہاتھوں سے نکلنے سے بچانے کے لئے مہاراجہ نے ایک طرف پاکستان سے معاہدہ کیا اور دوسری طرف ریاست جموں کشمیرمیںبڑے پیمانے پر مسلمانوں کے قتل عام کی تیاریاں کی جانے لگیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنا اسلحہ چاہے وہ لائسنس یافتہ ہی کیوں نہ ہو بحق سرکار جمع کروادیں۔مہاراجہ کی ایما پر ہندو جنونی تنظیموںکے تقریباََ پچاس ہزار رضاکار ریاست پہنچے جنہوںنے جموں کو اپنا ہیڈکورٹر بناکر پوری ریاست میں کارروائیاں شروع کر دیں۔ مہاراجہ کی فوج کے افسران بلوائیوں، قاتلوں اور حملہ آوروں کوہتھیار بنانے اورچلانے، مسلمانوں کے قتل عام ،عصمتوں کی آبروریزی ا ٓگ لگانے اور املاک لوٹنے کی تربیت دینے لگے۔یوں سکھ اور ہندو بلوائیوں نے ہزاروں مسلمانوں کو شہیدکیا ،مسجدیں جلادیں، گھر لوٹ لئے، عفت ماٰب خواتین کی عصمت دری کی اوربچے ذبح کئے۔ دوسری طرف 27اکتوبر کو انگریز اور بھارتی فوج کا ریاست پر بھر پور حملہ تھا۔گویا مسلمانوں کے لئے دوہری افتاد تھی۔ وہ ریاست کے اندر محفوظ تھے اور نہ باہر ان کے لئے جائے پناہ تھی۔ڈوگرہ حکمران ہندو تھے ،اس لئے اسلام اور مسلمان دشمنی ان کی رگ رگ میں شامل تھی۔بھارت سرکار کی جانب سے اس کی فوج کی آمد کو اگرچہ مہاراجہ ہری سنگھ کی درخواست کے ساتھ جوڑا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت وہ آئینی طور پر ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے بے دخل ہوچکے تھے۔ لوگوں نے اس کے خلاف بغاوت کر رکھی تھی اور دوسرا یہ کہ ایک فردِ واحد کو کسی طرح بھی یہ حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ لاکھوں کشمیریوں کی تقدیر کا فیصلہ ان کی رائے جاننے کے بغیر ازخودکرتا اور ان کے حقِ خودارادیت کو کالعدم کرتا۔اس لئے بھارت کے اس فوجی قبضہ کا کوئی آئینی اور اخلاقی جواز نہیں تھا۔27 اکتوبر 1947 میں کئے جانے والے بھارتی فوجی قبضہ کے نتیجہ میں پانچ لاکھ سے زائد کشمیری شہید، ہزاروں خواتین بیوہ اور لاکھوں افراد زخمی و معذور ہو چکے ہیں۔اس دن کے بعد سے آج تک کشمیری عوام آٹھ لاکھ بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ ان کی عزتیں، جانیں اور املاک کچھ محفوظ نہیں ہے۔ آئے دن نہتے کشمیریوں پر مظالم کی نئی داستانیں رقم کی جارہی ہیں۔ 67 برس گزر چکے مگرغاصب بھارتی فوج کے ظلم و دہشت گردی میں ذرہ بھر کمی نہیں آئی۔بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قراردیتا ہے مگر کشمیریوں کیلئے وہ ایک ایسے جارح ملک کی حیثیت رکھتا ہے جس نے فوجی قوت کے بل بوتے پر کشمیریوں کے حقوق سلب کر رکھے ہیں اور انہیں آزادی سے جینے کا حق نہیں دیا جارہا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تقسیم ہند کے وقت اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ بنیں گے۔ اس طرح کشمیر جس کی واضح اکثریت مسلمانوں کی تھی ‘ اسے پاکستان میں شامل ہوتا تھامگر بھارت نے انگریز کی ملی بھگت سے اس پر فوجی قبضہ کیا بعد ازاں جب قائداعظم کے کہنے پر جنرل گریسی نے بھارتی فو ج کا غاصبانہ قبضہ ختم کیلئے پاکستانی فوج بھیجنے سے انکار کیاتو مولانا فضل الہٰی وزیر آبادی کی قیادت میں پاکستان کے قبائل اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کی بڑی تعداد نے کشمیرکار خ کرنا شروع کیا۔ اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کیلئے وہاں پہنچے ، قربانیوں و شہادتوں کی نئی تاریخ رقم کی گئی اور وہ سری نگر تک پہنچ چکے تھے کہ نہرو بھاگا ہوا اس مسئلہ کو اقوام متحدہ لے گیا اور دہائیاں دیں کہ کسی طرح ان مجاہدین کو روکا جائے وگرنہ ان کے بڑھتے ہوئے قدوںکو روکنا مشکل ہو گا اور یہ کشمیر کے بعد بھارت کیلئے سخت خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔یوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 21 اپریل 1948 میں کشمیر کے حوالے سے ایک تاریخی قرارداد منظور کی جس میںکشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا اورواضح طور پر کہا گیا کہ کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے گا۔ وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کریں گے کہ انہوںنے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا بھارت کے ساتھ۔یہ قرارداد پاس کر کے کشمیری و پاکستانی قوم سمیت پوری دنیا کو دھوکہ دیا گیا اورپھر لیاقت علی خاں کے کہنے پر مجاہدین کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے جس پر نہرو نے خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے یہ معاہدہ کر کے بھارت کو بچالیا ہے۔سزا و جفا کا یہ سلسلہ 67سال سے جاری ہے۔ اس کے باوجود اہل کشمیر کی پاکستان کے ساتھ محبت میں کمی واقع نہیں ہوئی اس لئے کہ اس محبت کی بنیاد دنیوی اغراض ومفادات پر نہیں بلکہ دین اسلام پر ہے۔کشمیری عوام بھارتی عزائم کی راہ میں چٹان بنے کھڑے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہے ہیں۔پاکستانی پرچم لہرارہے ہیں۔ سینوں پر گولیاں کھا رہے اور عہد وفا نبھا رہے ہیں۔ان اہل وفا کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ اب مقبوضہ جموں کشمیر کی ہائی کورٹ نے بھی فیصلہ دے دیا ہے کہ ریاست بھارت میں ضم نہیں ہوئی تھی۔