- الإعلانات -

نیویارک میں ایم کیو ایم کا احتجاج، مقاصد کیا تھے

ایک ایسے ماحول میںجب پاکستان کو مشرقی اور مغربی سرحدوں پر بھارتی سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑرہا ہے اوربین الاقوامی سطح پر ملکی ساکھ کی بحالی کیلئے ایک مشکل سفارتی جنگ درپیش ہے، اپنے ہی ملک کے خلاف کسی سازشی سرگرمی کا حصہ بننا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شجرسایہ دارکو اپنے ہی ہاتھوں کاٹنے کی حرکت کرے۔شجرسایہ دار کوکاٹنے کی ایسی ایک حرکت متحدہ قومی موومنٹ نے گزشتہ دنوں اس وقت کی جب وزیراعظم پاکستان وائٹ ہاﺅس میں صدر اوبامہ کے ساتھ نہایت اہم ملاقات کررہے تھے ۔ وائٹ ہاﺅس کے اندر وزیراعظم نواز شریف بھارتی سازشوں سے امریکی صدر کو آگاہ کررہے تھے تو باہر ایم کیو ایم بھارتی لابی کا آلہ کاربن کر وزیراعظم اور پاکستان کے خلاف نعرہ زن تھی ۔ قبل ازیں متحدہ کے اہم رہنما فاروق ستار نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام سے خصوصی ملاقات کرکے کراچی آپریشن پرشکایات کے انبار لگا دیئے۔ فاروق نے حکام کو بتایا کہ کراچی کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے اگر اس وقت کوئی قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ کسی بھی وقت بے قابو ہوسکتی ہے۔فاروق ستار سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے ملاقات کے بعد پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے سامنے بھی کراچی کا رونا دھونا کرتے رہے۔انہوں نے بتایا کہ غیر منصفانہ آپریشن سے کراچی میں امن قائم نہیںہوگا۔ فاروق ستار نے اسی انٹرویو میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہم پرامن محب وطن شہری ہیں جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں لیکن ایک ہفتے بعد دیار غیر میں اپنی حب الوطنی کا عملی مظاہرہ وزیراعظم پاکستان کے خلاف مظاہرہ کرکے کیا ۔ ایم کیو ایم نے بیچ چوراہے اپنے میلے کپڑے دھونے کی روایت برقرار رکھی اور حب الوطنی کے اپنے دعوﺅںکی نفی کی ۔ مٹھی بھر مانگے تانگے کے مظاہرین عالمی توجہ تو حاصل نہ کرسکے تاہم آمدہ اطلاعات یہ ہیں کہ اس مظاہرے کیلئے بھارتی سفارتکاروں نے بھرپور محنت کی۔مظاہرے میںجہاں بھارتی پشت پناہی واضح نظر آرہی تھی وہاں کئی بھارتی نژاد شہری بھی نمایاں طورپر دکھائی دئیے۔میڈیا نے جب مظاہرین سے کراچی کے بارے میں استفسار کیا تو وہ بغلیںجھانکنے لگے۔مظاہرے میںموجودخواتین کے ماتھے پر تلک کے نشان پس پردہ کرداروں کی چغلی کھارہے تھے ۔ ایک پاکستانی رپورٹرکے مطابق ماتھے پر تلک کا نشان سجائے خواتین کی جب تصاویر لینے کی کوشش کی جاتی تو وہ بینروں کے پیچھے چہرہ چھپالیتیں تھیں۔ ایم کیو ایم کا یہ مظاہرہ اس کے ڈبل سٹینڈر کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔بیرون ملک متحدہ نے جس ایشو پر وزیراعظم پاکستان کے خلاف احتجاج کیا ۔ اسی ایشو پر گزشتہ ہفتے ہی مرکزی حکومت کے ساتھ ایک مفاہمتی معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت ایک پانچ رکنی شکایت ازالہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کراچی میں آپریشن شروع ہونے کے بعد ایم کیو ایم کا کچا چٹھا کھلنے لگا تو اسکے ممبران قومی اسمبلی نے احتجاجاً استعفے دے دئیے ۔ گزشتہ دوتین ماہ سے حکومت انہیں اسمبلی میںواپس لانے کیلئے بات چیت کررہی تھی ،طویل بات چیت کے بعد ایک ازالہ کمیٹی بنائی گئی۔ متحدہ کے مطالبے پر تشکیل پانے والی کمیٹی کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوچکا ہے جس کے ارکان میں جسٹس(ر) ناصر اسلم زاہد،جسٹس (ر)خلیل الرحمن اور جسٹس(ر) اجمل میاں شامل ہیں۔ ایم کیو ایم کی طرف سے فروغ نسیم ایڈووکیٹ جبکہ حکومت کی طرف سے وفاقی سیکرٹری داخلہ کمیٹی کے رکن ہیں۔ اتنی بڑی پیش رفت کے باوجود متحدہ نے اپنی خواہش پر بنائی گئی کمیٹی میں جانے کی بجائے اپنے محسنین کی خوشنودی کوترجیح دی۔ ایم کیوایم کی طرف سے یہ کوئی پہلی بار عہد شکنی نہیںہوئی ہے اور نہ ہی پہلی باربیرون دنیا تماشہ لگایا گیا ہے۔ قبل ازیں کئی باراپنے مربیوں کو اعلانیہ مدد کے لئے پکارا گیا۔چند ماہ قبل متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ایم کیو ایم امریکا چیپٹر کے 19ویں سالانہ کنونشن سے خطاب کے دوارن کہا تھا کہ کارکن اقوام متحدہ اور نیٹو ہیڈ کوارٹرز جا کر ان سے کراچی میں فوج بھیجنے کا کہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کس نے قتل عام کیا اور کون کون اس کا ذمہ دار تھا۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ جب پاکستان سمیت دنیا بھر کے کارکنان گرین سگنل دیں تو وہ پھر باقاعدہ مطالبہ کریں گے کہ مہاجروں کے لئے الگ صوبہ بنایاجائے۔اسی خطاب میںالطاف حسین نے کہاکہ انہوں نے مسلح افواج کو سلام اور سیلوٹ پیش کر کے بڑی غلطی کی تھی۔ ہندوستان کوبزدل اور ڈرپوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسمیں غیرت ہوتی تو پاکستان کی سرزمین پر مہاجروں کا خون نہیں ہونے دیتا۔انہوں نے یہ پھل جھڑی بھی چھوڑی کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں آر ہی ہیں، گریٹر بلوچستان بنے گا، گریٹر پختونستان بھی بنے گا اور گریٹر پنجاب بھی ہو گا جس کا ہیڈ کوارٹر کراچی ہوگا۔ الطاف حسین نے 12 جولائی کو اسی طرح کے ایک خطاب میں رینجرز کو سیاسی جماعت قرار دیتے ہوئے آرمی چیف سے مطالبہ کیا تھا کہ فوج کے ”اندے انڈوں“کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ جب الطاف حسین نے فوج پر تنقید کا معمول بنا لیا تو پھر ملک بھر میں انکے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج ہونے لگے۔ اسی طرح جب رواں سال مارچ میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے چھاپہ مار کر نیٹو کا اسلحہ برآمد کیا تو الطاف حسین بھڑک اُٹھے تھے اور رینجرز کے افسران کو دھمکی دی تھی کہ وہ” ہیں اور اب تھے ہو جائیں گے“۔
الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی جانب سے پاکستان کے اندرونی سیاسی و انتظامی معاملات میں بیرونی مداخلت کےلئے فرضی اعداد و شمار کے ذریعے ڈِس انفارمیشن کو ہوا دیتے ہوئے مغربی ممالک بشمول بھارتی اداروں کو خطوط لکھنے کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ اِسی سلسلے میں ایک خط اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کو بھی بھیجا گیا ۔ الطاف حسین یہ بھی کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کےساتھ کی جانے والی زیادتیوںکےخلاف شواہد لےکر اقوام متحدہ میں جائینگے مگریہ کوشش انکی جماعت گزشتہ ماہ یواین او کے سالانہ اجلاس کے موقع پر کرچکی ہے ۔وہاں شنوائی نہ ہوئی تواب نیوےارک میں اپنی نام نہاد حب الوطنی کا مظاہرہ کیا ہے، اگر ایم کیوایم کے پاس معتبر شواہد ہیں تو بیچ چوراہے شور مچانے کی بجائے عدالت عظمیٰ کے دروازے پر دستک دی جائے ےا جو ازالہ کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں جائیں ،انہیں کس نے روکا ہے۔یہاں دوسری طرف سیاسی جماعتوں اور حکومتوں نے الطاف حسین کے مذموم عزائم کو نہ کبھی سمجھا اور نہ کبھی سمجھنے کی کوشش کی۔الطاف حسین اور ا±نکے حواریوں کیخلاف سینکڑوں مقدمے درج ہونے کے باوجود مصلحت سے کام لیا گیا،جس سے ایم کیوایم کے پس پردہ عزائم پرگرد جمی رہی ۔اب کی بار ایک بار پھر مسلم لیگ نون کی حکومت نے ملکی وقار کو پس پشت ڈالتے ہوئے استعفوں کے معاملے میں ایم کیوایم کے ساتھ سیاسی مصلحت کا مظاہرہ کیا ہے مگر وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ” جس کی فطرت میں ہو ڈسنا وہ ڈسا کرتے ہیں“ کے مصداق وزیراعظم کے دورہ نیورےاک کے موقع پر ایم کیوایم نے اپنی فطر ت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔اس مظاہرے کی تفصیل جیسے کہ اوپرلکھا گیا ہے کہ بھارتی لابی نے کس طرح وزیراعظم کے اس دورے کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔بھارت لابی نے صرف متحدہ کی پشت پناہی نہیں کی،ایک نام نہاد بلوچ کو اکسایاگیا۔ جب وزیراعظم پاکستان ”یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس“ سے خطاب کر رہے تھے تواس دوران احمر مستی خان بلوچ نامی شخص نے نعرے بازی کرکے تقریب میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے نعرے بازی شروع کر دی اور ہاتھ میں پکڑا ہوا کتبہ لہرانے کی کوشش کی۔ تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے اسے باہر نکال دیا۔ مذکورہ شخص کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے اور دیگر لابیوں سے اس کے گہرے مراسم ہیںاور شعبہ صحافت سے وابستہ ہے۔ اس طرح کی بھونڈی کوششوں سے چہرے ہی بے نقاب ہوتے ہیں پاکستان کا کچھ نہیں ہونا یہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے ۔ایم کیو ایم کے احتجاج کی کڑیاں ملائی جائیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کھیل کے پیچھے بھارت اورامریکہ کا گٹھ جوڑ ہے جو ایم کیوایم کا کندھا استعمال کررہے ہیں۔