- الإعلانات -

دھرنا سیاست سے کچھ حاصل نہ ہوگا

uzair-column

این اے 122کے انتخابات ہوئے اس میں پاکستان تحریک انصاف اورن لیگ نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ۔ملکی تاریخ کا مہنگا ترین الیکشن ہوا۔آخرکار ہوا وہی جو ہونا تھا پی ٹی آئی کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا اور ن لیگ نے میدان مار لیا ۔اس حلقے کے انتخاب میںعمران خان کے تمام مطالبات تسلیم کرلیے گئے تھے اور کپتان نے کہا تھا کہ میں جو بھی نتیجہ نکلے گا اس کو قبول کروں گا۔مگر بھلا کوئی کیسے مانے کہ یوٹرن کا بادشاہ مستقل مزاجی دکھا سکتا ہے ۔گو کہ شکست نزدیک نزدیک ہوئی ڈھاک کے وہی تین پات نکلے کہ پی ٹی آئی نے شور مچانا شروع کردیا کہ دھاندلی ہوئی ہے ،دھاندلی ہوئی ہے،ثبوت اکٹھے کرنا شروع کردئیے ۔اب این اے 154میں دوبارہ انتخابات ہونے جارہے ہیں وہاں پر بھی یہ کہتے ہیں کہ جنون ”ن“ کو لے ڈوبے گا مگر شاید اس وقت کچھ اور فیصلے کرتا جارہا ہے ۔سپریم کورٹ بار کے انتخابات ہوئے اس میں عاصمہ جہانگیر گروپ کے صدر نے فتح حاصل کرلی اور حامد خان کا صدر شکست سے دوچار ہوگیا ۔یہ بھی ایک نوشتہ دیوار ہے اب بلدیاتی انتخابات آرہے ہیں ان انتخابات میں بھی عمران خان نے کہا ہے کہ اس بار پنجاب میں ہماری باری ہوگی ۔لہذا دھاندلی سے بچنے کیلئے پولنگ اسٹیشنوں میں فوج اوررینجرز کو تعینات کیا جائے ۔سول انتظامیہ نے فوج کو طلب کرلیا ہے مگر یہ بات واضح ہے کہ ضابطہ اخلاق پر عمل کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔عمران خان بس ایک رٹ پر قائم ہیں کہ میں نہ مانوں،میںنہ مانوں ۔خدارا اب مان جائیں اگر حلقہ این اے 122میں فتح یاب ہوجاتے تو پھر شاید ان کا سیاسی گراف بلندہوجاتا لیکن اس وقت وزیراعظم نوازشریف کی سیاسی حکمت عملی بہترین جارہی ہے ۔جیت چاہے ایک ووٹ سے ہو یا ایک لاکھ ووٹ سے ۔وہ جیت جیت ہوتی ہے ۔کپتان کویہ جان لینا چاہیے کہ یہ کوئی پاک بھارت میچ نہیں یہ سیاست کا میدان ہے ۔بھارت کیخلاف میچ میں پوری قوم کی دعائیں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوتی ہیں اوراس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فتح یاب کرتا ہے مگر جب سیاسی میدان میں سیاسی کھلاڑی اترتا ہے تو قوم تمام تر معاملات دیکھ رہی ہوتی ہے کہ گذشتہ عرصے میں کس کس نے قوم کیلئے کیا کیا کِیا ۔خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں پر ابھی تک تو دودھ کی دودھ کی نہریں نہ بہہ سکیں ۔اب کپتان کی نظر پنجاب پر ہے اور کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں بھی اب ہماری باری ہے پھر تو یہ کوئی ملک اور قوم کے مفاد کی سیاست نہ ہوئی یہ تو باریوں کی سیاست ہے ۔تو مسٹر کپتان آپ بھی باری لگا کر چلے جائیں گے ۔اس قوم کا کیا ہوگا۔ہاں اگر البتہ پی ٹی آئی مستقل مزاجی کی سیاست کرتی رہتی تو پھر شاید کچھ اورنتائج برآمد ہوتے ۔کبھی ڈرون حملوں کیخلاف دھرنے ،کبھی حکومت کیخلاف دھرنا ،کبھی آئی جی کیخلاف دھرنے کی دھمکی،شاید ایک وقت یہ آجائیگا کہ کپتان صاحب کہیں گے کہ میں ایک کلرک کیخلاف بھی دھرنا دوں گا تو عمران صاحب عوام کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ لمحے لمحے پر دھرنا دے ۔اس وقت دو وقت کی روٹی کیلئے قوم تگ ودو کررہی ہے پھر سڑکوں پر کیونکر نکل سکے گی اور پی ٹی آئی کا تو اب یہ وطیرہ ہی ہوگیا ہے کہ اگر کوئی چھینک بھی مار لے تو اس کیخلاف دھرنے کی کال دے دیتی ہے ۔دھرنا نہ ہوا کھیل ہوگیا ۔اب دھرنا سیاست کا وقت گزرچکا ہے ۔اگر کچھ کرنا ہے تو وہ تعمیری کریں یہ بات تو طے شدہ ہے کہ حکومت نے اپنا مقررہ وقت پورا کرنا ہے اس کو تو کپتان نے بھی تسلیم کرلیاہے ۔ایک نجی ٹی وی کے انٹرویو کے دوران انہوںنے کہا کہ لگتا ہے کہ اب انتخابات 2018ءمیں ہی ہونگے تو خدارا ملک میں امن رہنے دیں ۔دھرنے دے کر حالات کو خراب نہ کریں ۔خرافات والی سیاست سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔تعمیری کام کریں حکومت کو بھی دیکھیں کہ اس نے جو وعدے وعید کیے ہیں وہ کس حد تک پورے کرتی ہے اگر آپ اسی طرح دھرنے دے کر رکاوٹیں ڈالتے رہے تو حکومت کے پاس واضح جواز ہوگا کہ پی ٹی آئی نے ہمیں تعمیری کام کرنے ہی نہیں دئیے جس طرح کہ اس نے چین کے صدر کا دورہ منسوخ کرایا اسی طرح اور معاملات میں بھی رخنہ اندازیاں کرتی رہی لہذا عمران صاحب آپ کے پی کے پر توجہ دیں اور صبر سے کام لیتے ہوئے تیل دیکھیں اور تیل کی دھار دیکھیں ۔آپ ابھی فی الحال اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ن لیگ کا مقابلہ کرسکیں ۔این اے 122میں پوزیشن آپ نے دیکھ لی اب لودھراں کے بھی نتائج زیادہ دور نہیں بہر حال یہ ضرور کہنا چاہیے کہ مقابلہ دل ناتواں نے خوب کیا ۔کرتے رہنا چاہیے یہی جمہوریت کا حسن ہے ۔مگر تنقید کریں تو برائے تنقید نہیں برائے تعمیر ہونی چاہیے ملک اور قوم کے مفاد کو ملحو ظ خاطر رکھیں ۔باریوں والا کھیل ختم ہوجانا چاہیے ۔عوام بہتر فیصلہ ساز ہے اس کو پتہ ہے کہ کون اس کیلئے کیا کررہا ہے اور وقت آنے پر وہ بہتر فیصلہ دیدی گی اس کا انتظار کریں اگر جمہوریت ایک صحیح پٹڑی پر گامزن ہوہی چکی ہے تو اس کو چلنے دیں ۔رکاوٹیں ڈالنے سے کسی سیاسی جماعت کا نہیں حکومت کا نقصان ہوگا۔حالات تقاضا کررہے ہیں کہ سب ایک ہوجائیں ۔اقتصادی راہداری پوری ہوجائے ،لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے ،روزگار کے مواقع نکلیں یہ سب کچھ ایک ہی صورت میں ہوسکتا ہے کہ دھرنا پروگرام ختم کردیا جائے ۔