- الإعلانات -

افغان قیادت کی پاکستان پر الزام تراشی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس میں کابل دھماکے کے بعد پاکستان پر لگائے جانے والے غلط الزامات اور دھمکیوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان پر الزام لگانے کی بجائے افغانستان کو اپنے اندر جھانکنے اوراندرونی حقیقی مسائل کو شناخت کرنے کی ضرورت ہے، پاک فوج ہر قسم کے خطرے کے خلاف مادر وطن کے دفاع کیلئے ہروقت تیا رہے ،افغانستان میں دہشتگردی کے واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افغان عوام اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رہے گا۔کانفرنس کے شرکاء نے علاقائی امن واستحکام کیلئے مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ پاک فوج ہر قسم کے خطرے کے خلاف مادر وطن کے دفاع کیلئے ہروقت تیا رہے ۔ دوسری طرف کابل میں افغانستان کے حوالے سے ہونے والی بین الاقوامی امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر غیر اعلانیہ جنگ مسلط کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ افغانستان کو پاکستان کی غیر اعلانیہ جارحانہ جنگ کا سامنا ہے ، ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان ہم سے کیا چاہتا ہے۔پاکستان کو اس بات پر کس طرح قائل کیا جاسکتا ہے کہ ایک مستحکم افغانستان ان کو اور خطے کو مدد فراہم کرے گا۔پاکستان سے امن کے خواہاں ہیں،امن اجلاس کامقصد دہشت گردی کامقابلہ اور امن کو یقینی بنانا ہے۔اشرف غنی نے کہاکہ،گزشتہ 2 برسوں کے دوران 11 ہزار غیر ملکی جنگجو داعش میں شمولیت کے لیے افغانستان آچکے ہیں،اگر طالبان امن مذاکرات میں شمولیت میں دلچسپی رکھتے ہیں تو انہیں دفتر کھولنے کی اجازت دینے کیلئے تیار ہیں تاہم یہ ان کیلئے آخری موقع ہوگا،طالبان کو افغان حکومت گرانے نہیں دیں گے۔طالبان امن قائم کریں یا نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہیں، قومی دھارے میں شامل ہونے کے لیے طالبان کے پاس یہ آخری موقع ہے ۔وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ پاکستان سے امن کے خواہاں ہیں، امن اجلاس کامقصد دہشت گردی کامقابلہ اور امن کو یقینی بنانا ہے، پڑوسی ممالک سے مضبوط تعلقات افغان حکومت کی پالیسی ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں پر پاک فوج نے جن شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے وہ بے کم و کاست ہیں۔ افغان قیادت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے تحفظات کو دور کرے اور افغان قیادت الزام تراشی اور دھمکیوں کے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر دھیان دے ۔ پاک فوج وطن کے دفاع سے غافل نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اس کی قربانیاں خطے کے امن کی ضامن قرار پارہی ہیں پاکستان افغانستان کو مستحکم دیکھنے کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو اور دہشت گردی کا ناسور ختم ہو لیکن افغانستان کے اندر دہشت گردوں کی آماجگاہیں خطے کیلئے پریشان کن ہیں ۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی منصوبہ بندی افغانستان سے ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ دہشت گرد مشترکہ دشمن ہیں ان کیخلاف دوطرفہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔ افغان صدر کی طرف سے پاکستان پر غیر اعلانیہ جنگ مسلط کرنے کا الزام درست نہیں ۔ پاکستان امن پسند ملک ہے اور خطے کے امن کیلئے اس کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں افغان صدر بے سروپا الزام لگا کر حقائق پر پردہ نہیں ڈال سکتے ۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جو کردار ادا کررہا ہے وہ لائق تحسین ہے۔
کابینہ کی توانائی کمیٹی کا اجلاس
کابینہ کی توانائی کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ بجلی کی فراہمی اور طلب سے متعلق موثر حکمت عملی اپنائی جائے۔یہ امر افسوسناک ہے کہ متعلقہ حکام فوری ضرورت کے عوامل کو مد نظر نہیں رکھتے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجلی کی طلب ورسد سے متعلق سال2023تک کا جائزہ لیا جائے ۔طلب ورسد کے جائزے سے مستقبل کی توانائی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ ماہ رمضان میں ترقیاتی کاموں کو بنیاد بناکر بجلی کی بندش نہ کی جائے۔ بجلی کی طلب کے تخمینے میں گھریلو بجلی آلات کے استعمال کو بھی مد نظر رکھا جائے۔اجلاس میں 1200میگاواٹ کے ایل این جی بجلی گھر قائم کرنے کی اصولی منظوری دی گئی۔جبکہ سیکرٹری پانی وبجلی نے کمیٹی کے گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں پر عملدرآمد سے آگاہ کیا۔سیکرٹری پانی وبجلی نے بین الوزارتی کمیٹی کے کام کی پیشرفت سے بھی آگا ہ کیا۔ اجلاس مین وفاقی وزیر خزانہ اسحاق دار ، وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف ، وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی ، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ، وزیر مملکت اطلا عات مریم اورنگزیب اور دگر اعلیٰ حکام شریک تھے ۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا بجلی کی طلب و رسد کیلئے فعال منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اس کے بغیر بجلی بحران سے نہیں نمٹا جاسکتا ۔ وزیراعظم نے ترقیاتی کاموں کے نام پر بجلی بند نہ کرنے کی ہدایت تو کردی ہے لیکن اس پر عمل ہونا ضروری ہے اس وقت شہروں اور دیہی علاقوں میں کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش نے عوام کا جینا حرام کررکھا ہے اور کاروبار زندگی مفلوج دکھائی دے رہا ہے، لوگ سڑکوں پر لوڈشیڈنگ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کیلئے موثر اقدامات بروئے کار لائے تاکہ عوام میں پائی جانے والی پریشانی کا خاتمہ ممکن ہو۔ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ لاینحل روپ دھارتا جارہا ہے جو حکومتی ساکھ کو متاثر کررہا ہے اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
بلا تفریق احتساب وقت کی ضرورت
خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے میڈای سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں احتساب سب کا بلا تفریق ہونا چاہیے کسی ایک خاندان کا احتساب نہیں وزیراعظم کے بچے کو اس طرح بٹھایا گیا جیسے خدانخواستہ اس نے کرپشن کی ہو اس نے تو اس ملک کا دھیلہ نہیں لوٹا جبکہ دوسری طرف ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے پنجاب بنک پر ڈاکہ ڈالا اور اوورسیز فاؤنڈیشن اور اوگرا میں لوٹ مار کی ، نندی پور منصوبے میں کرپشن کی ۔ شہباز شریف کو گھبرانے کی ضرورت نہیں احتساب بلا امتیاز و بلا تفریق ہی ہوگا ۔ عدلیہ قانون اور آئین کے تناظر میں پانامہ کیس کا فیصلہ کرے گی اور جے آئی ٹی اپنی تحقیقاتی عمل پر کام کررہی ہے ہر دور میں احتساب کا نعرہ لگایا جاتا رہا لیکن احتساب نہ ہوا اس بار متوقع ہے اورقوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ آپ ہاتھ جوڑ کر کہیں یا نہ کہیں عدالت عظمیٰ عدل کے تقاضے پورے کرے گی ۔ پانامہ میں لوٹ مار کرنے والوں کا احتساب وقت کی ضرورت ہے اگر وزیراعظم اور اس پر الزام ثابت نہیں ہوتے تو وہ بری ہو جائیں گے ۔ جہاں تک بلا تفریق احتساب کا تعلق ہے یہ بات درست ہے اس کے بغیر ملک سے کرپشن کی روک تھام ناممکن ہے۔ اداروں کی تطہیر کیلئے کڑا احتساب ہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے اب وقت آگیا ہے کہ احتسابی عمل کو آگے بڑھایا جائے یہی قوم کی پکار ہے۔