- الإعلانات -

عالمی طاقتوں کا ضمیر جاگنا چاہیے

کشمیری ایک طویل عرصے سے آزادی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کا مطالبہ کرنا ان سے کوئی طاقت بربریت کے ذریعے چھین نہیں سکتی ۔ حال ہی میں بھارت نے اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زمینی فضائی کارروائیاں شروع کی ہیں ۔ نہتے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔ کشمیری قائدین سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق ، سید شبیر شاہ ، جاوید میر نے دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے بھارتی فوجی کشمیری آزادی پسندوں کو ظلم کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے ۔ گھروں میں داخل ہونے، خواتین کی بے حرمتی کمسن بچوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک نوجوانوں کی گرفتاریاں ان کے گھروں کو مسمار کرنے کے واقعات میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ان نئے طریقوں کے مظالم سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کیے جاسکتے ۔ حالیہ مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے ہماری حکومت نے صدر آزاد کشمیر اور وزیراعظم کے ساتھ ملاقاتوں میں عالمی برادری سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کی استدعا کی ہے کاش بڑی طاقتیں اپنی آنکھوں پر بندھی مصلحتوں کی پٹی اتار پھینکیں اور کشمیری مسلمانوں کو ان کی خواہش کے مطابق زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ پاکستان تنازع کشمیر کا ایک اہم فریق ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ حکومت وقت مظلوم کشمیریوں پرڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش تماشائی بنی رہے۔ کشمیر کونسل برائے فروغ انسانی حقوق نے اپنے ایک اجلاس میں اس تمام صورتحال کا جائزہ لیا اور ایک اعلامیہ بھی جاری کیا جو انکی صحیح سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ پر بڑی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس مسئلے کو اٹھائے بلکہ بھرپور کوشش کی جائے کہ بھارت پر جنگی جرائم پر مقدمہ بھی چلے ۔ صدر آزاد کشمیر اور وزیراعظم کی تجاویز کے مطابق حکومت پاکستان کو اپنے سفارت خانوں کے ذریعے عالمی دارالحکومتوں کو حقائق سے آگاہ کیا جائے تاکہ دنیا کی طرف سے اخلاقی بوجھ بھارتی حکومت پر محسوس ہو۔ کشمیریوں کی جدوجہد میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تیزی آئی ہے۔ بھارتی فوج کے مظالم مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت مانگنے والوں کے جذبے کو کمزور نہیں کرسکے۔ جذبہ آزادی کو کچلنے کی ہر کوشش ناکام ہوئی ہے۔ آگ اور خون کی ہولی نت نئے مناظر سے ابھر رہی ہے لیکن آزادی کے حصول کیلئے بلند ہونے والی آوازیں فلک شگاف ہوتی جارہی ہیں۔ دو دن پہلے کمانڈر سبزار احمد بٹ سمیت تیرہ نوجوانوں کو بھارتی درندوں نے شہید کیا۔ انکی شہادت نے جدوجہد آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی ۔ کشمیری آزادی کے چراغوں کو اپنے خون سے روشن رکھے ہوئے ہیں۔ پلواسہ میں کرفیو کے نفاذ کے باوجود لوگوں نے حزب المجاہدین کے کمانڈر سبزار احمد بٹ اور ان کے ساتھی فیضان احمد کی نماز جنازہ میں بھرپور شرکت کی اور مقبوضہ کشمیر کی وادی میں مکمل ہڑتال بھی تھی ۔ فوجیوں کی بھاری تعداد اور کرفیو آزادی کے متوالوں کے جوش خروش کو پابند نہ کرسکی ۔ سات دفعہ نماز جنازہ ادا کی گئی کیونکہ نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد بے پناہ تھی ۔ ان شہداء کو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں سپرد خاک کیا گیا ۔ آزادی کے حق میں نعرے لگتے رہے وادی آزادی کے نعروں سے گونجتی رہی ۔ وادی میں ان شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی ۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت نہ صرف دفعہ 144 نافذ ہے بلکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سروس بھی معطل ہے۔ کشمیر یونیورسٹی میں جو طلباء یونین کے انتخابات ہونے تھے وہ بھی ملتوی کردئیے گئے ہیں تمام لیڈرز جن میں سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق ، یاسین ملک شامل ہیں ۔ نظر بندی کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں ۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ مودی سرکار نے ہر ظلم روا رکھا لیکن آزادی کی شمع جو ایک طویل عرصے سے فروزاں ہے اسکی روشنی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ انشاء اللہ ایک دن یہ روشنی ظلم کے اندھیروں کوچھٹنے پر مجبور کرے گی۔ میرا یقین ہے کشمیر میں شہید ہونے والے مجاہدین کے ایک ایک قطرے سے آزادی کی آبیاری ہورہی ہے۔ اب تو کشمیر میں طلباء اور خصوصاً خواتین طلباء بھی آزادی کی خاطر سڑکوں پر ہیں۔ دنیا کے ضمیر خاموش کیوں ہے امریکہ اب کیوں خاموش ہے اپنے مفادات کے حصول کیلئے تو وہ عراق ، لیبیا، شام میں موت کے رقص کا تماشا لگائے ہوئے ہے کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر عالمی طاقتیں کیوں تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کا ضمیر کیوں سویا ہوا ہے کیا وہ کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم سے بے خبر ہیں۔ کیا انکی سماعتیں جواب دے گئیں کہ انہیں وادی سے آزادی کے حق میں بلند ہونے والی آوازیں سنائی نہیں دے رہیں۔ نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم انہیں نظر کیوں نہیں آرہے کیا انسانی حقوق کی علمبردارعالمی طاقتیں مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کے مطالبے کو سمجھنے سے قاصر نہیں وہ کیوں بھارت پر دباؤ نہیں ڈالتیں کہ وہاں ظلم ، تشدد بند ہو۔ ابھی کل کی بات ہے ۔ یہی طاقتیں انڈونیشیاء میں مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے حق خودارادیت کے لئے ایکٹو ہوئیں اقوام متحدہ میں قراردادوں کی منظوری کے بعد وہاں کے عوام کو ان کا حق دلوا دیا گیا ۔ اسکی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ موجودہ دور سامراجیت کا نہیں کہ فوجی حکومتیں قائم ہوں ۔ اب جمہوریت کا زمانہ ہے۔ طاقت اپنا معیار کھوچکی عوام کی مرضی اہم ہے لیکن اس نظریے کے برعکس مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کا راج ہے معصوم نہتے کشمیریوں پر ظلم کے نئے نئے انداز سے آزادی کی تحریک کو دبانے کی کوششیں کی جاری ہیں ۔ وہاں تو ستر سال سے آزادی کی تحریک بھارتی فوجیوں کو شکست دے رہی ہے ۔بھارتی درندے کتنے کشمیریوں کو ہلاک کریں گے آزادی کے متوالوں کی فصل کٹتی رہے گی اور بڑھتی رہے گی ۔ عالمی ضمیر کو بھی اب جاگنا پڑے گا اقوام متحدہ میں موجود ان تمام قراردادوں کو سرد خانوں سے نکالنا پڑے گا جن میں کشمیریوں کی آزادی کی خواہش درج ہے ، ایک طویل عرصے سے آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جاسکتیں ۔ اقوام متحدہ کا فرض ہے کہ وہ کشمیریوں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے استصواب رائے کے ذریعے انہیں بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا حق عطا کرے ۔ اگر وہ زبردستی بھارت کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے تو انہیں انکے حق سے محروم کیوں کیا جارہا ہے۔ عالمی طاقتوں کا ضمیر جاگنا چاہیے۔