- الإعلانات -

ایران میں دہشت گردی

ایران کے دارالحکومت تہران میں پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مزار پر فائرنگ اور خودکش دھماکوں کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق اور 42 زخمی ہوگئے جبکہ داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حملے کی ویڈیوبھی جاری کردی،پاکستان ،بھارت ،افغانستان ،امریکہ ،برطانیہ ،فرانس ،جرمنی ،روس اور اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک نے ایران میں دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہا رکیا ہے ۔دارالحکومت تہران میں 4 مسلح حملہ آوروں نے پارلیمنٹ میں گھس کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں گارڈز سمیت متعدد افراد مارے اور زخمی ہوگئے۔ ایرانی رکن اسمبلی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چار مسلح افراد نے اسمبلی کی حفاظت پر تعینات گارڈ کو گولی مارنے کے بعد ارکان اسمبلی کو یرغمال بنانے کی کوشش کی۔ تاہم سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو گھیرے میں لے لیا۔ فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس دوران ایک حملہ آور نے اسمبلی کی چوتھی منزل پر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑادیا جب کہ دیگر فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔پارلیمنٹ پر حملے کے دوران ہی تہران کے جنوبی علاقے میں واقع آیت اللہ خمینی کے مزار پر خاتون سمیت 2 حملہ آوروں نے دھاوا بولا۔ ان میں سے ایک نے زائرین پر فائرنگ کی جبکہ خاتون نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا۔ سیکورٹی اہلکاروں سے جھڑپ میں دوسرا حملہ آور بھی مارا گیا۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی اہلکاروں نے مزار سے ایک بم کو ناکارہ بھی بنا دیا۔پاکستان نے ایرانی پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مزار پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ‘ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے جو قابل مذمت ہے ‘ تمام ممالک کو مل کر اس مسئلے پر قابو پانا ہو گا۔ ایران میں موجود پاکستانی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں،پاکستانیوں سے متعلق باخبرہیں۔ ایران میں مقیم تمام پاکستانی شہری، زائرین مکمل محفوظ ہیں، ایران میں دہشت گردی کے واقعات انتہائی قابل مذمت ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ اور امام خمینیؒ کے مزار پر خودکش حملوں نے لوگوں میں اضطراب پھیلا دیا ہے اور لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ۔ بڑھتے دہشت گردی کے واقعات نے دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ عالمی برادری کو کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر دہشت گردی کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کرنے ہونگے اور اس بڑھتے ناسور کو روکنا ہوگا ورنہ انسانیت کے دشمن اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے دھماکے اور خودکش حملے کرتے رہیں گے ۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی دین نہیں ۔ یہ انسانیت کے قاتل ہیں اور ان کو منطقی انجام تک پہنچانا ہی وقت کی ضرورت ہے ۔ اسلام امن و سلامتی کا سبق دیتا ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے یہ کیسے طالبان ہیں جو معصوم شہریوں کو دھماکوں سے اڑا رہے ہیں۔ دہشت گردی عالمی مسئلہ بنتی جارہی ہے اس کی روک تھام کرکے ہی دنیا کے امن کو تباہی سے بچایا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی کے بڑھتے رجحان نے دنیا کو خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے اورلوگ عدم تحفظ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کیلئے عالمی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اس کے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ دہشت گردی کو ختم کرکے ہی دنیا کے امن کو بحال رکھا جاسکتا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر عوامی اسمبلی
متحدہ حزب اختلاف کی پھر حکومت کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر’’عوامی اسمبلی ‘‘ لگ گئی ‘ و زیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے سپریم کورٹ کو دھمکیاں دینے پر مستعفی ہونے کی قرارداد کو منظور کرلیا گیا‘ عدالت عظمیٰ سے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو عدلیہ کی توہین کرنے پر اڈیالہ جیل میں ڈالنے کا مطالبہ کر دیا گیا ‘ عوامی اسمبلی میں ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگتے رہے۔ بجلی کے تعطل میں تسلسل پر وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف اور و زیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کر دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو سپریم کورٹ کی طرف سے ایک خاندان کے خلاف بندوقیں تانے کے بیان کے حوالے سے مذمتی قرار دااد اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔ قرار داد پی پی کی خاتون رکن نفیسہ شاہ نے پیش کی۔ قرار داد میں کہا گیا کہ حکومت سیاسی استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہوئے اداروں کے ساتھ تصادم کی طرف گامزن ہے۔ اس طرز عمل کے تحت وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے سپریم کورٹ کو دھمکی دیتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کو بدنام کیا ہے۔ سپریم کورٹ کی توہین درحقیقت جے آئی ٹی پر حملے کے مترادف ہے۔ اس طرح کے بیانات کے ذریعے ریاستی اداروں کی حیثیت کو سوالیہ نشان بنایا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے بیان پر قوم اور اعلیٰ عدلیہ سے غیر مشروط معافی مانگیں۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب پانامہ سکینڈ ل کی تحقیقات پر اثر انداز ہونے کیلئے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں حکومتی دعوؤں کے مطابق لوڈ شیڈنگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ بجلی کا تعطل بڑھ رہا ہے کئی علاقوں میں بجلی کی غیر معمولی عدم فراہمی سے پینے کا پانی نایاب ہو رہا ہے۔ ملک کے تمام علاقوں کو بلا امتیاز بجلی فراہم کی جائے۔ پارلیمنٹ کی بالا دستی کس طرح قائم ہوگی جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تفاوت اتنی بڑھ چکی ہو کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپوزیشن عوامی اسمبلی لگانے پر مجبور ہو اور حکومت کے خلاف دھڑا دھڑ قراردادیں منظور کی جارہی ہوں ۔ یہ منظر نامہ جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے میں ناکام ہے جس سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ملک کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ سیاسی استحکام کیلئے حکومت برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنائے اور اپوزیشن کے تحفظات دور کرے۔
میا نمار کا فوجی طیارہ گر کر تباہ
میا نمار کا فوجی طیارہ انڈمان کے سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا جس میں سوار106فوجی افسران انکے اہلخانہ اور عملے کے اراکان سمیت 120افراد ہلاک ہوگئے ،اس سے قبل طیارے کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں،طیارے کا ملبہ تلاش کرلیا گیا۔میانمار کے لاپتہ ہونے والے طیارے کا ملبہ انڈمان سمندر سے مل گیا ہے ۔ نیوی کے بحری بیڑے اور ہوائی جہاز بدھ کی دوپہر کو ایئرٹریفک کنٹرولرسے رابطہ منقطع ہونے کے بعد سے طیارے کی تلاش میں تھے۔ایک اندازے کے مطابق جنوبی شہرمئیک سے ینگون کی طرف سے جانیوالے طیارے میں ممکنہ طور پر کئی بچوں سمیت 120افراد سوار تھے ۔ چین کا تیارکردہ چارانجنوں والا جہاز وائے 8ایف 200میانمارمیں عمومی طورپر فوج کی طرف سے کارگوکیلئے استعمال کیاجاتاہے ۔لاپتہ ہونیوالا طیارہ گزشتہ سال مارچ میں ہی موصول ہواتھا جبکہ 809گھنٹے کی پروازمکمل کرچکاتھا۔میانمار فوجی طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے بعد ہی اس کے گرنے کی وجوہات کا پتہ چل پائے گا ۔ طیاروں کے حادثات کا بڑھنا لمحہ فکریہ ہے، ان کی روک تھام کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔