- الإعلانات -

بھارت۔پاکستان اورافغانستان کامشترکہ دشمن

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے سفارتی علاقے میں صدارتی محل کے قریب بارود سے بھرے ٹرک دھماکے میں 90کے قریب افراد ہلاک اور 460سے زائد زخمی ہوئے۔ دھماکہ اتنا شدید اور ظالمانہ تھا کہ افغان طالبان کی طرف سے بھی فوری تردید آ گئی کہ یہ ان کی کارروائی نہیں ہے۔ دھماکے میں صرف مقامی افراد ہی نہیں بلکہ جرمن سفارتکار اور امریکی شہریوں سمیت دیگر ممالک کے شہری بھی زخمی ہوئے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ یہ معاملہ صرف افغانستان کی بجائے ایک بین الاقوامی مسئلہ بن کر ابھرا اور اس سے دوسرے ہی دن دھماکے کروانے والوں کا سراغ لگا لیا گیا۔ اس دھماکے کے پیچھے بھارت تھا۔ بھارت کے حوالے سے پاکستان کے کانسپٹ تو پہلے ہی کلیئر ہیں۔ افغانستان کو نجانے بھارت نے کون سی گیڈر سنگھی سنگھا رکھی ہے کہ وہ آنکھیں بند کر کے اس پر یقین کرتا ہے۔ حالانکہ ماضی میں جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت اگر دنیا کی کوئی طاقت روس کی حلیف تھی اور اس جارحیت پر بالکل خاموش رہی وہ بھارت کی ریاست تھی۔ بھارت کے اس وقت کے وزیراعظم راجیوگاندھی نے خاموشی تب توڑی جب پاکستان افغانستان اور دیگر ممالک کی کوشش سے روس کے دانت کھٹے ہوئے اور اسے ہزیمت سے اپنی افواج افغانستان سے نکالنا پڑیں۔ راجیوگاندھی نے اس عظیم کامیابی پر افغانستان کو مبارکباد دی۔ بھارت نے چانکیہ کے افکار کی روشنی میں چھپ کر وار کرنا اور دشمن کے دشمن سے دوستی لگا کر اپنے دشمن کو چت کرنا اور دشمن کے دوست کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت پیدا کرنے جیسے افکار کر گرد گھومتی ہے۔ اسی لئے جب نائن الیون ہوا تو امریکہ کی بدولت بھارت کے دروازے افغانستان کے لئے کھل گئے تو اس نے افغانستان میں سڑکوں کی تعمیر کے لئے اپنی انجینئر یونٹس بجھوانے کی آڑ میں ایسے شرپسند عناصر بھی بجھوائے جو افغانیوں کے دلوں میں پاکستان کے خلاف نفرت ابھارنے اور بھارت کے سفارت خانوں کے زیراہتمام چلائے جانے والے دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں میں دہشت گردوں کی تربیت کر کے انہیں پاکستان میں کارروائیوں کے لئے بھجواتے۔ بھارتی عناصر صرف پاکستان کے اندر ہی نہیں افغانستان کے اندر بھی جب موقع ملتا کارروائیاں کر کے اس کا الزام پاکستان کے سر تھوپنے میں افغانستان کے ساتھ مل کر واویلا کرتے رہے۔ افغانستان جتنی جلدی ہو سکے اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ افغانستان ایک اسلامی ملک ہے یوں وہ پاکستان اور افغانستان دنوں کو نقصان پہنچا کر کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ گویا دھماکے بھارت کروا رہا ہے جب کہ بلیم گیم ان دونوں ملکوں کی آپس میں شروع ہو جاتی ہے۔ حالانکہ پاکستان خطے میں استحکام چاہتا ہے۔ پاکستان اپنے ہزاروں شہری شہید کروا چکا ہے اور اس کی افواج اور عوام ددونوں مل کر شدت پسندی کے خاتمے کے لئے سرگرم عمل ہیں اور پاکستان اس امر سے بھی بخوبی واقف ہے کہ جب تک افغانستان میں امن نہیں ہوتا تو خطے میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص امن قائم نہیں ہو سکتا۔درحقیقت بھارت افغانستان کی جانب سے پاکستان مخالف کارروائیوں اور بیانات جاری کروانے کے پراجیکٹ پر کروڑوں نہیں اربوں روپے خرچ کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں کسی کو اپنی مرضی کے خلاف چھینک بھی آ جائے تو اس کا الزام بھی پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسیوں پر آتا ہے۔ حال ہی میں برطانوی فوج کے ایک میجر رابرٹ گیلیمور جو مختلف اوقات میں تین مرتبہ افغانستان میں تعینات رہے نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر افغانستان میں مداخلت کا الزام افسانہ ہے۔ جبکہ کابل میں پاکستان مخالف پراپیگنڈے اور فنڈنگ میں بھارت ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تین مرتبہ افغانستان میں تعینات رہے۔ انہیں افغانستان میں آئی ایس آئی کی مداخلت کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ افغانستان میں بھارت کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ خطے کے امن کے لئے خطرہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف جذبات بھڑکانے میں بھارت ملوث ہے اور کابل میں پاکستان مخالف پراپیگنڈے کے لئے فنڈنگ باہر سے آ رہی ہے۔ کم از کم ایک غیرملکی فوجی افسر کے اس بیان ہی سے ہمارے برادر اسلامی ملک افغانستان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ کیونکہ اس طرح سے بھارت نہ صرف افغانستان کی توجہ اپنی سرزمین کی ترقی اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود سے ہٹائے رکھنا چاہتا ہے بلکہ خطے میں عدم استحکام کی وجہ بھی بن رہا ہے۔ بھارت کے اپنے اندر کے حالات بھی دگرگوں ہیں۔ بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں جانوروں کے تقدس کے چکر میں انسانوں کی تذلیل کی جاتی ہے۔ کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے اور انہیں فوجی جیپوں کے آگے باندھ کر شہری آبادی میں گھومایا جاتا ہے تاکہ انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے اور آزادی کے خواہاں کشمیریوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بوئے جائیں۔ اسی طرح بھارت نے خطے کا امن تہہ و بالا کرنے کے لئے خطے میں کئی کلبھوشن چھوڑ رکھے ہیں۔ بھارتی نیوی کا حاضر سروس کمانڈر ایران کے اندر بھی کور نام سے آپریٹ کرتا رہا یقیناًایسے عناصر کی ایران کے اندر موجودگی خود ایران کے لئے بھی خوش آئند نہیں۔ ایران بہرطور ایک سوبر اور ذمہ دار ملک ہے۔ وہ کبھی بھی افغانستان کی طرح اپنی سرزمین پاکستان سمیت کسی اسلامی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایران کے اندر بھی کلبھوشن ایک بزنس مین کے روپ میں آپریٹ کرتا رہا ہے۔ لیکن اس کا وہاں بیٹھ کر مین ٹارگٹ پاکستان کا صوبہ بلوچستان تھا کہ وہاں ایسے عناصر تیار کئے جائیں جو ریاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور بلوچستان کے اندر تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیاں کروا کر اسے ایک متنازعہ خطہ بنایا دیا جائے۔ صد شکر کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے اسے دھر لیا اور اب عدالت کی جانب سے اسے پھانسی کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔ کلبھوشن کو بچانے کے لئے بھارت بھاگتا ہوا انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس جا پہنچا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے 1948میں بھارت کا اس وقت کا وزیراعظم پنڈت نہرو مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا جہاں اقوام متحدہ نے کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی رائے سے حل کرنے کا فیصلہ دیا۔ لیکن بعد ازاں خود ہی پنڈت نہرو اپنی بات سے مکر گیا اور کشمیری ابھی تک اپنی آزادی کے لئے برسرپیکار ہیں۔بہرطور بھارت اور اس کی مودی سرکار اب لاکھ جتن کر لے وہ اپنے چہرے سے دہشت گردی کو سپورٹ کرنے کے دھبے صاف نہیں کر سکتے۔ افغانستان کے اندر حالیہ دہشت گردی کے واقع نے بھارت کے مکروہ اور تعفن زدہ چہرے کو مزید واضح کر کے بین الاقوامی برادری کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ یہ وہی بھارت ہے جس کے لئے امریکہ کے بصیرت افروز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب میں منعقدہ کانفرنس میں بڑے دکھ سے اظہار کیا تھاکہ بھارت خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ اگر امریکہ جیسے ملک کی انٹیلی جنس اور اداروں کی یہ حالت ہے کہ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ دنیا میں کون سے ممالک دہشت گردی کے خلاف کام کر رہے ہیں اور کون سے ملک دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں تو پھر ٹرمپ اس قسم کے بیانات ہی جاری کر سکتے ہیں۔ بہرطور اس موضوع پر پھر کبھی سہی۔ فی الحال تو افغانستان کو یہ فوری سمجھ لینا چاہئے کہ کس طرح اس کیلئے پاکستان اور ایران سمیت خطے کے دیگر پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر رکھنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کو کسی دوسرے ملک کے اشاروں پر ناچنے کی بجائے اپنی پالیسیاں خود وضع کرنا ہوں گی اور ایسی پالیسیاں جس سے نہ صرف افغانستان میں دیرپا امن قائم ہو سکے بلکہ اس کے عوام بھی جدید دور کے ثمرات سے بہرہ ور ہو سکیں۔
ا برِ کرم۔۔۔ شوق موسوی
میچ ہارے تھے بھارت سے اُس پہ غور کریں
کھلاڑیوں کو بھی اور کُوچ کو سزائیں دو
جو ہم پہ ابرِ کرم اس طرح سے برسا ہے
جو میچ جیتیں ہیں ڈک ورتھ کو دُعائیں دو