- الإعلانات -

میڈیا کیلئے طلاق کے علاوہ اور بھی مسائل ہیں

uzair-column

دین اسلام میں طلاق ایک ایسا حلال لفظ ہے جس کو نا پسندیدہ ترین قرار دیا گیا ہے ، کسی کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کے کہ اگر کوئی اس مسئلے سے کوئی گرز رہا ہے تو کسی اور کو بھی اس مسئلے سے گزر نا پڑ سکتا ہے ، بقول شاعر دشمن مرے تے خوشیاں نہ کریے ،سجناں وی مر جانا ہے ،گزشتہ روز عمران خان اور ریحام کے حوالے سے پورے میڈیا میں ایک بھونچال بر پا تھا ، لگ رہا تھا کہ اس ملک میں کوئی اور مسئلہ ہی نہیں ، عمران خان اور ریحام کی طلاق کے علاوہ کوئی چیز بھی زیر بحث نہیں آئی ، حالانکہ آج بلدیاتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اس طلاق کی خبر نے ان انتخابات کی خبروں کو بھی دبا کر رکھ دیا ، شادی اور طلاق قطعی طور پر کسی کا ذاتی یا نجی مسئلہ ہوتا ہے ، گو کہ یہ درست ہے کہ سیاست دان پبلک پراپرٹی بن جا تا ہے ، لیکن اگر کوئی اس بات کو نا پسند کر ے کہ اس کی پرائیویٹ زندگی کے مسائل کو اچھالا نہ جائے تو ایسی خبر سے پرہیز کرنا چاہیے ، جہاں تک ہمارے میڈیا کے تعلق ہے یہاں پر تو ایک عجیب و غریب قسم کی بھیڑ چال ہے ، بس الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد تو ایک خبر ہاتھ میں آنے کی دیر ہے پھر تو اس کا حال ”ادرک “کی طرح کیا جاتا ہے ، ماورا اس سے کہ ان سارے تجزیﺅں کے کیا نتائج نکلیں گے ، الیکٹرانک میڈیا میں تو بس نئی جہت چل پڑی ہے کہ اگر ڈھول بجانا ہے تو اس کو پیٹتے ہی جانا ہے ، کسی بھی نیوز چینل کے سکرین دیکھا جائے تو اس پر عمران اور ریحام خان کی طلاق کی مسئلہ زیر بحث تھا ، ایسا لگتا تھا عمران ریحام کا کم چینلز کا مسئلہ زیادہ تھا ، مگر یہاں پر وزیر اعظم نواز شریف نے فو ری طور پر ایکشن لیتے ہوئے ن لیگ کے کارکنان کو پابند کر دیا کہ وہ اس معاملے کے حوالے سے بیان بازی نہ کریں کیونکہ یہ عمران خان اور ریحام کا نجی معاملہ ہے ، وزیر اعظم کی دیکھا دیکھی آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور ایم کیو ایم نے بھی اس طلاق کے معاملے پر بیان داغنے پر پابندی عائد کر دی یہ ایک اچھا اقدام تھا ، تاہم کچھ سیاسی رہنماﺅں نے موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور دوسرے کے گھر میں لگی ہوئی آگ سے خوب ہاتھ گرم کئے ، کسی نے تیسری شادی کا مشورہ دیا ، تو کسی نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ کوئی بھی گزارہ نہیں کر سکتا ، چینلز نے عوامی تبصرے بھی نشر کرنا شروع کر دیئے ، بہرحال جب بھی کسی کے ساتھ ایسا وقوعہ پیش آئے تو اسے موضوع بحث بنانے سے پہلے لاکھ مرتبہ سوچ لینا چاہیے ، کیونکہ ایک طلاق سے دو زندگیاں نہیں بلکہ اگر ان کے بچے ہوں تو آنے والی نسلیں بھی تباہ ہو جاتی ہیں ، اب بات یہ ہے کہ ان دونوں میں نباہ کیوں ہوا یہ ایک طویل ڈسکشن ہے تاہم ایک بات واضح ہے کہ عمران خان تیسری شادی کریں گے ، یہ ان کا حق ہے اوراب کپتان کی زندگی میں ایک عام فہم اور سادہ لڑکی آئے گی اب یہ شادی 2016میں ہوتی یا 2017میں اس نے ہونا ہے ، مگر ہمارے خیال کے بعد یہ تیسری شادی یا تو 2018کے انتخابات کے قریب ہو گی یا پھر اس کے بعد ہو گی ، بہت زیادہ امکانات یہ ہیں کہ تیسری شادی قائم رہے گی ، طلاق کے مسئلے پر دیگر جماعتیں اگر سیاست چمکانے کی کوشش کریں تو اچھی روایت نہیں ہے ، کیونکہ عمران خان نے بھی کہا ہے کہ یہ لمحات میرے لیے، ریحام کیلئے اور دونوں کے اہلخانہ کیلئے تکلیف دے ہیں ، لہذا میں درخواست کرتا ہوں کہ اس نجی معاملے کو زیر بحث نہ لایا جائے ، جب کوئی شخص درخواست کرے تو پھر اس کو چھوڑ دینا چاہیے ہمارے معاشرے میں طلاق کا معاملہ دیکھا جائے تو بہت حساس نوعیت کا ہوتا ہے کیونکہ یہ طلاق دو سیلےبرٹیز کے مابین ہوئی ہے اس وجہ سے پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں حتیٰ کہ سوشل میڈیا میں خبر اہم ترین حیثیت اختیار کر گئی ہے ، زندگی کے یہ اپ اینڈ ڈاﺅن آتے رہتے ہیں ، ان سے سبق سیکھنے کی ضروت ہے ، کپتان کو چاہیے کے وہ اپنی آنے والی نجی اور سیاسی زندگی میں صبر و تحمل سے کام لیں اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے 100مرتبہ اسکے بارے میں سوچیں بار بار طلاق کا ہو جانا کوئی اچھا شگون نہیں پھر جب ایک ہائی پروفائل سیاستدا ن ہو وہ تو قوم کیلئے ایک رہنما ہوتا ہے ، عمران خان تو شروع ہی سے ایک سیلیبرٹی رہے کرکٹ کے زمانے میں بھی لوگ ان کی تقلید کرتے تھے اور جب سیاست میں آئے تو بھی وہ ایک شخصیت کی حیثیت سے متعارف ہوئے لہذا انہیں امیج برقرار رکھنے کیلئے اپنے مزاج کی قربانی دینا پڑے گی ، یہ لااوبالی مزاج نا صرف نجی زندگی کو تہہ و بالا کرتا رہے گا ، بلکہ سیاسی زندگی کو تو ختم ہی کر دے گا ، چونکہ آج بلدیاتی انتخابات ہیں عین موقع پر دونوں کی راہیں جدا ہونے کی جو خبریں سامنے آئی ہیں یقینی طور پر اس کے مثبت اثرات مرتب نہیں ہونگے ، لہذا اب عمران خان کو شادی کے معاملے میں انتخابات تک انتظار ہی کرنا چاہیے تاکہ وہ تمام تر توجہ سیاسی زندگی پر دے سکیں ، بڑے بزرگ کہتے کہ زبان فال ، قرآن فال ، کچھ عرصے سے قبل کپتان نے کہا تھا کہ اگر میری لائف پارٹنر مجھ سے دس لاکھ مجھ سے دس لاکھ کا ہینڈ بیگ مانگے تو میں اسے طلاق دے دوں گا ، بعض اوقات قبولیت کی گھڑی ہوتی لہذا بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے پہلے تولو پھر بولو کے اصول پر کپتان کو عمل کرنا ہو گا ،پھر ہی زندگی سکھ سے گزر سکے گی۔