- الإعلانات -

پلاننگ اور ٹریننگ۔۔۔!

دنیا میں چھپن اسلامی ممالک ہیں۔ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ جسم کے کسی ایک حصہ کو بھی تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم اضطراب کا شکار ہوتا ہے لیکن عصر حاضر میں مسلمانوں کو نااتفاقی کا مرض لگ چکا ہے۔اس مرض کے علاج اور پرہیز کیلئے اقدامات بھی نہیں اٹھا رہے ہیں۔ مسلمان آپس میں دست و گربیان ہیں اور عیار دشمن کے باعث گذشتہ چند عشروں میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوچکا ہے۔اسی طرح معیشت کے لحاظ سے بھی تنازلی کا شکار ہیں ۔مسلمان ممالک تیل کی دولت سے مالامال ہیں لیکن تیل پر اغیار کا کنٹرول ہے۔ اسی طرح خوراک پر بھی انٹرنیشنل مافیا کا قبضہ ہے۔ الیکڑانک اور پریس میڈیا ان کی ملکیت ہے اور عالمی ادارے ان کے گرفت میں ہیں۔یہودی عیسائیوں اور مسلمانوں سے عددی لحاظ سے تھوڑے ہیں لیکن ستر فی صد عالمی معیشت ان کے ہاتھوں میں ہے۔یہودیوں نے اس کیلئے بڑی تگ و دو اور پلاننگ کی اور کررہے ہیں۔یہودی سب کام منصوبہ بندی سے کرتے ہیں۔ آپ اندازہ کریں کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اس وقت سے اُس کیلئے پلاننگ اور اُس کی ٹریننگ شروع کرلیتے ہیں۔ جب حمل ٹھہر جاتا ہے تو ماں تصوراتی ریاضی (Conceptual math) شروع کرلیتی ہے اور اس کا شوہر معاونت کرتا ہے ۔ ماں باپ ریاضی کے سوالات کی مشقیں کرتے ہیں تاکہ بچہ ذہین پیدا ہو۔اس دوران ماں خوراک پر بھی خصوصی توجہ دیتی ہے۔وہ خوراک میں بادام، دودھ، گھجور اور مچھلی کا زیادہ استعمال کرتی ہیں۔یہ خوراک اس لیے استعمال کرتی ہیں تاکہ آنے والا بچہ صحت مند اور ذہین ہو۔یہودی اپنے بچوں کواعبرانی ، انگریزی اور عربی تین زبانیں سکھاتے ہیں۔اعبرانی یہودیوں، انگریزی بین الاقوامی اور عربی انکے دشمنوں کی زبان ہے۔ ان کے مطابق آخری معرکہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ہوگا اوریہودی مسلمانوں کے علاقوں پر قابض ہیں ،اس لئے وہ مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔جنگ میں کامیابی کیلئے فریق ثانی یعنی دشمن کی زبان کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔اقوام عالم سے رابطہ کیلئے انگریزی زبان کا استعمال عام ہے۔اس لئے یہودی اپنے بچوں کو تین زبانیں سکھاتے ہیں۔کارٹون یہودی میڈیا بناتے ہیں لیکن وہ اپنے بچوں کو کارٹون دیکھنے نہیں دیتے ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ بچے ٹی وی کے سامنے گھنٹوں بیٹھ کرکاہل ہوجاتے ہیں ۔ وہ اس کی بجائے بچوں کوتیر اندازی، شوٹنگ (فائرنگ) اور دوڑ کے مقابلے کراتے ہیں۔ان کا تصور ہے کہ جو لوگ تیر اندازی اور شوٹنگ کرتے ہیں، وہ پوری حیات درست فیصلے کرتے ہیں۔دوڑ کے مقابلے اس لئے کراتے ہیں تاکہ بچے چست اور متحرک ہوں۔ یہودیوں کے گھروں میں سگریٹ پینے پر مکمل پابندی ہے حالانکہ سگریٹ کے بڑے بڑے برانڈ بنانے والے یہودی خودہیں۔یہودی سائنس اور بزنس کی تعلیم پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔یونیورسٹی کے طلبہ کو آخر سال بزنس کے مضامین لازمی پڑھاتے ہیں اور ڈگری ان طلبہ کو دیتے ہیں جو عملی منصوبے تیار کر سکیں۔ایسا عملی منصوبہ جس سے وہ آٹھ دس لاکھ ڈالر کماسکیں اور وہ طالبعلم عملی زندگی میں خودکفیل ہوجبکہ ہمارے ہاں وطن عزیز میں یونیورسٹیوں کے سو فی صدطلبہ نوکری کے چکر میں ہوتے ہیں اور بزنس ان کے ذہن میں بھی نہیں ہوتا ہے ۔ یہودی ملازمت نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے بزنس پر توجہ دیتے ہیں۔اس لئے دنیا میں ستر فی صد دولت یہودیوں کے پاس ہے۔آج میڈیا کا دور ہے۔دنیا کی 96فی صد میڈیا چھ کمپنیوں کے پاس ہے اور وہ چھ کمپنیاں یہودیوں کی ہیں ۔ دنیا میں بڑے بڑے تجارتی برانڈ کے مالک یہودی ہیں۔دنیا کے بہت سارے ممالک میں حکومتوں پر ان کا کنٹرول ہے اور ان کے مرضی اور منشا کے مطابق کام ہوتا ہے۔ دنیا میں تھوڑی تعداد کے باوجود ان کی پلاننگ اور ٹریننگ کی باعث ہر چیز ان کے کنٹرول میں ہے۔یہودی بڑی طویل مدت کیلئے منصوبے بناتے ہیں۔ یہودیوں کی ایک کتاب جس کا اردو ترجمہ "عظیم سازشی منصوبہ” کے نام سے ہوا۔ یہ کتاب 1445ء میں لکھی گئی تھی ۔ دراصل یہ ایک منصوبہ تھا جس میں واضح کیا تھا کہ دنیا کے انسانوں کو کیسے کنٹرول کریں گے اور ان کیلئے کون کونسے ادارے بنائیں گے۔ اس کتاب میں آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اوراقوام متحدہ جیسے اداروں کا ذکر موجود ہے ۔دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ مذکورہ کتاب لاکھوں کی تعداد میں بھی شائع ہوجائیں تو ایک گھنٹے کے اندر مارکیٹ سے وہ کتابیں غائب کی جاتی ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ پانچ سو سال کے بعد یہی مذکورہ بالا ادارے معرض وجود میں لائے گئے۔دنیا بالخصوص مسلمانوں کو کنٹرول کررہے ہیں۔عراق جنگ ہو یا افغانستا ن پر یلغار ہو سب میں انہی اداروں کے کندھوں پر بندوقیں رکھی گئیں۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذریعے سودی نظام کو عام کررہے ہیں اور دنیا کو قرضوں کے چنگل میں جکڑ رہے ہیں۔عصر حاضر میں دنیا کی زیادہ تر دولت انہی کے ہاتھوں میں ہے اور وہ بہت زیادہ با اثر ہیں۔یہ سب کچھ ان کی پلاننگ اور ٹریننگ کا نیتجہ ہے۔
قارئین کرام!آپ قرآن مجید فرقان حمید اور احادیث مبارکہ کا مطالعہ کریں تو آپ پر عیاں ہوجائے گا کہ مسلمانوں کیلئے مکمل ضابطہ حیات موجود ہے۔سرور کائنات ﷺ نے صبح جھاگنے سے لیکر رات سونے تک ہر عمل اور ہر چیز کے بارے میں بتایا ہے۔تجارت کے بارے بھی بتایا ہے کہ تجارت میں 9/10حصہ فائدہ ہے۔ آپ ﷺ نے متحدرہنے کی بھی تلقین کی ہے۔ ہم مسلمان قرآن مجید فرقان حمید کی تلاوت کرتے ہیں اور احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں لیکن ہم قرآن مجید فرقان حمید اوراحادیث مبارکہ پر غور اور عمل نہیں کرتے ہیں۔ مسلمان خواب غفلت میں سوئے ہوئے ہیں اور امت مسلمہ کا شیرازہ بکھرچکاہے۔آج بھی امت مسلمہ سرور کونین ﷺ کی پلاننگ اور ٹرنینگ پر عمل کریں تو انشاء اللہ مسلمان کامران ہونگے اور عالم کیلئے باعثِ رحمت ہونگے۔
*****

طرزِعمل۔۔۔ شوق موسوی

جو بھی ملا بیان حکایت ضرور کی
بارے میں اُن کے کوئی روایت ضرور کی
کچھ تو ضرور طرزِ عمل میں قصور ہے
تفتیش پر ہر اِک نے شکایت ضرور کی