- الإعلانات -

ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کرانے کی ضرورت

uzair-column

بلدیاتی انتخابات کا پہلامرحلہ تقریباً مکمل ہوگیا ۔پنجاب میں تو صورتحال کہا جاسکتاہے کہ کنٹرول میں رہی ۔تصادم تو ضرور ہوا ایک شخص بھی فائرنگ سے جاںبحق ہوگیا لیکن سندھ میں تو بلدیاتی انتخابات خون میں ہی نہا گئے ۔وہاں پر فنکشنل لیگ اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے مابین تصادم ہوا ۔بڑھتے بڑھتے فائرنگ تک معاملہ جا پہنچا اور گیارہ لاشیں گرگئیں ۔اس دوران انتظامیہ کہاں تھی،پولیس کدھر تھی ،کچھ پتہ نہیں ۔کہا یہ جارہاہے کہ وہ سائیں کے پروٹوکول میں مصروف تھیں ۔کیونکہ ہمارے ملک میں تو غریب عوام پیدا ہی مرنے کیلئے ہوئی ہے ۔سائیں کی زندگی بہت اہمیت کی حامل ہے ان کی حفاظت بہت ضروری ہے ۔غریب عوام کامرنا تو معمول کی بات ہے ۔غریب بے چارہ کیا کرے گا ورثاءکو چند لاکھ روپے دیکر ان کے آنسو خشک کردئیے جائیں گے اور پھر اس کے بعد وہی ہوگا جو کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے ۔بات دیکھنے اورسوچنے کی یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا اتنا شور مچاتھا تمام انتظامات بھی مکمل تھے ۔بیلٹ پیپرزبھی چھپ گئے تھے ،ضابطہ اخلاق بھی جاری کردیا گیا تھا تو پھر پنجاب اورسندھ میدان جنگ کیوں بنا رہا ۔جگہ جگہ دنگل ہوتے رہے ،دھینگا مشتی کا بازار سرگرم رہا ،اسلحہ کی سرعام نمائش کی جاتی رہی ،کرسیاں حاصل کرنے سے پہلے ہی کرسیاں چل گئیں ،نعرے بازی ،جلسے جلوس نکلتے رہے ،کارکنان آمنے سامنے رہے ،بعض جگہوں پر تو کچھ اس طرح ہوا کہ پولیس تماشائی بنی رہی اور ووٹرزایک دوسرے پر لاتوں ،مکوں کی بارش کرتے رہے ۔لودھراں اورخیرپور یو سی 70،یونین کونسل 250لاہور،دریا خان،وہاڑی،گجرات ،لاڑکانہ ،روہڑی یہ وہ علاقے ہیں جہاںپر انتخابات کم اورجھگڑے زیادہ ہوتے رہے ۔بلکہ گجرات میں تو پولیس گردی کی ایسی زبردست مثال سامنے آئی کہ جو شاید بلدیاتی انتخابات میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملی ۔ایک شخص کو پولیس نے شیر جوانوں نے مل کر خوب مارا کوٹا،ڈنڈوں کی بارش کی اور اس کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا ۔اسی طرح وہاڑی میں بھی جب ن لیگ اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے مابین تصادم شروع ہوا تو پولیس تماشا دیکھتی رہی اور شاید اس چیز کا انتظار کررہی تھی کہ شاید کوئی بڑا سانحہ درپیش آئے تو پھر وہ قدم بڑھائے ۔یا پھر جو ان کے سینئر انچارج صاحبان تھے شاید انہوں نے آگے آرڈر نہ دئیے ہوں کہ تصادم کے درمیان میں آکر اس کو روک سکیں ۔حیران کن بات تو یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل ہی حساس پولنگ اسٹیشنز کی نشاندہی کردی گئی تھی ۔اس کے باوجود بھی جھگڑے اورتصادم ہونا بڑے ہی معنی خیز بات ہے ۔بدانتظامی کی تو انتہا دیکھنے میں سامنے آئی کہ نجی ٹی وی چینلز پر فوٹیجز دکھائی جاتی رہیں کہ ایک امیدوار ووٹ حاصل کرنے کیلئے رقم تقسیم کررہا ہے ۔اگراسی طرح کے بلدیاتی انتخابات کرانا مقصد ہے تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکے گا کہ 2018ءمیں ہونیوالے میں قومی انتخابات انارکی کاشکار نہ ہوں ۔ان بلدیاتی انتخابات میں پنجاب میں آخری آمدہ اطلاعات تک ن لیگ نے واضح پوزیشن اختیار کی جبکہ سندھ میں پیپلزپارٹی نے برتری حاصل کی ۔مگر حیران کن بات یہ ہے کہ لاڑکانہ سے جو کہ پیپلزپارٹی کا گڑھ ہے پی ٹی آئی کا حمایت یافتہ امیدوار برتری لے گیا ۔جبکہ شہباز شریف کے حلقے یوحنا آباد سے بھی پی ٹی آئی نے میدان مار لیا ۔لیکن جنون کہیں پر بھی واضح طور پر سامنے نہیں آسکا اور ن لیگ ہی آگے آگے نظر آتی رہی۔انتخابات تو جیسے ہونے تھے سو وہ ہوگئے ۔اب اس کا دوسرا مرحلہ بھی ہونے جارہا ہے کم از کم دوسرے مرحلے میں ایسے انتظامات کرنے چاہئیں کہ جس کے دوران قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں او ریہ انتظامات ایک ہی صورت میں کیے جاسکتے ہیں کہ پہلے مرحلے کے دوران جن افراد،امیدواروں یا رہنماﺅں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے ان کیخلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے ۔وہ جیتے یا ہارے ہوں ان کے انتخابات کو کالعدم قرار دیکر قرار واقعی سزا کے احکامات دئیے جائیں اور جس کسی نے بھی اسلحہ لہرایا یا سرعام لیکر آیا بلاتفریق اس کو بھی سزاوار قرار دینا چاہیے ۔یہاں بات صرف جرمانے یانااہلی سے نہیں بنے گی بلکہ قید وبند کی جو جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں ان کا بھی اطلاق ضروری ہے ۔انہی اقدامات کے بعد دوسرا مرحلہ پرسکون ہوسکتا ہے ۔ورنہ خدانخواستہ پھر کوئی بھی ناخوشگوار خبر آسکتی ہے ۔ہم اس وقت جمہوریت کے ارتقائی عمل سے گزر رہے ہیں اور اس کو بااحسن خوبی نبھانا انتہائی ضروری ہے ۔جنون کو چونکہ ایک روز قبل ایسا سانحہ درپیش آگیا جس کی وجہ سے اس کے کارکن دل برداشتہ نظر آئے ۔کیونکہ جب پارٹی کے سربراہ کے ساتھ کوئی ایسا ناخوشگواروقوعہ درپیش آجائے تو اس کا اثر پوری جماعت تک جاتا ہے اور پھر ایک ایسے موقع پر جبکہ دوسرے دن بلدیاتی انتخابات ہونے جارہے ہوں تو یقینی طور پر منفی نتائج ہی سامنے آتے ہیں ۔بہرحال یہ ایک ذاتی معاملہ تھا اس کو مزید موضوع بحث بنانے کا کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ان چیزوں کو چھوڑتے ہوئے آئے مستقبل پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔بلدیاتی انتخابات نے ابھی یہ ثابت کردیا ہے کہ آنیوالے انتخابات میں بھی پنجاب ن لیگ کے ہی پاس ہوگا اور جو وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات ہونے جارہے ہیں وہ بھی یہ فیصلہ دینگے کہ تخت لاہور کے بعد تخت اسلام آباد کس کا ہونا ہے ۔