- الإعلانات -

چینی نائب صدر کا دور ہ بھارت اوردہشت گردی

syed-rasool-tagovi

اس پر دو رائے نہیں ہے کہ چین خطے کی ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے،مگر بھارت خود کو خطے کا تھانیدار سمجھ کر چین سے الجھا رہتا ہے۔جبکہ پاکستان اور چین خطے میں مثالی دوست ہیں،یہ بات بھارت کو نہیں بھاتی اور سازشیں بنتا رہتا ہے۔اس کی اولین کوشش اور سازش پاکستان کو عدم استحکام سے دو چارکرنا ہے تاکہ وہ خطے میں اِس کے مذموم مقاصد کی راہ میںرکاوٹ نہ بن سکے۔ اس سلسلے میں وہ کبھی سیز فائر کی خلاف ورزیاں کرتا ہے تو کبھی پاک افغان سر حد پر گھناوناگیم کھیلاتا ہے۔ بھارت اب تک ایک سال کے اندر کم از کم 400 بار سیز فائر لائن کی خلاف ورزیاں چکا ہے۔بھارت میں متعین پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے درست کہا ہے کہ بہتر یہی ہے کہ کنٹرول لائن پر فائر بندی کے 2003ء کے معاہدے پر باضابطہ طور پر عملدرآمد کیا جائے۔ گزشتہ روزبنگلور میں میٹ دی پریس خطاب میں انہوں نے کہا بھارت نے لائن آف کنٹرول کی بار بار خلاف ورزیوں سے پاکستان کے 40 شہری شہید ہو چکے ہیں۔ پاکستان استحکام چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ سرحدوں پر کوئی فائرنگ نہ ہولیکن سوال یہ ہے کہ یہ بات مودی کے ہوتے ہوئے تو ممکن نہیں ہے،جس کے ہاتھوں پہ ہزاروں مسلمانوں کا خون ہے، اس سے امن کی توقع ممکن نہیں ہے۔مودی کی تو خود بھارت کے اندر ساکھ اتنی خراب ہے کہ ریاست بہار میں نتیش کمار انہیں ”بہاری“ نہیں بلکہ ”باہری“ قرار دے ڈالا ہے،جس پر مودی نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور ایک جلسہ کے شرکاءسے پوچھا کہ آپ بہار کے لوگوں نے مجھے ووٹ دے کر وزیراعظم بنایا کیا میں ”باہری“ ہوں کیا میں پاکستان کا وزیراعظم ہوں یا بنگلہ دیش کا وزیراعظم ہوں۔ اسی طرح لالو پرساد یادیو نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو آج تک ایسا بے حس لیڈر نہیں ملا جیسا آج ملا ہوا ہے۔یہ سکینڈل کے بادشاہ ہیں او ر اپنے کرتوتوں کو چھپانے کیلئے پانی کی طرح پیسہ بہا رہے ہیں“۔جی ہاں مودی حکومت صرف اندرون ملک بے چینی کا باعث نہیں بن رہی ہے بلکہ اسکے پڑوسی بھی شدید خدشات محسوس کرتے ہیں۔ چین بھارت کی کشیدگی آج کی نہیں بلکہ برسوں پر محیط ہے ۔ چین اور بھارت کے درمیان ہمالیہ رینج میں 1962ءمیں جنگ ہوچکی ہے ۔ ایسے موحول میں چین کے نائب صدر لی ین چاو¿ کل 3 نومبر سے 7نومبر تک دورے پر جا رہے ہیں۔ اس دورے سے چین کیا حاصل کرپائے گا،یہ تو بعد میں پتہ چلے گا، تاہم دونوں ممالک کی کشیدگی کو پیش نظر رکھا جائے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ ایسے دورے وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں ہےں۔چین بھارت کے ساتھ کئی بار کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرچکا ہے ،مگر جواب میں ہمیشہ سوائے ہٹ دھرمی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ چین کے بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کم کرنے، دہشتگردی کیخلاف ملکر لڑنے، دفاعی تعاون اور باہمی تجارت کے فروغ سمیت درجنوں معاہدے موجود ہیں۔ان کے کیا نتائج برآمد ہوئے، ماہرین کا کہنا ہے کہ درجنوں معاہدوں کے باوجود بھارتی ہٹ دھرمی سے سرحدی تنازعات کے حل کا امکان نہیںہے۔
چینی نائب صدر اپنے حالیہ دورے میں مودی حکومت کو یہاں سرحدی خلاف وریوںسے اجتناب کا کہنا چاہیے وہاں ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ جیسی دہشت گرد تنظیم کی پشت پناہی سے بھی باز رہنے کا کہنا چاہئے۔ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ ایسی دہشت گرد تنظیم ہے جو چین میں دہشت گردی کی ذمہ دار ہے۔اس حوالے سے چین کو شدید قسم کے خدشات لاحق ہیں۔ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ افغانستان میں بھی متحرک ہے ،یہ بات تو سب پر عیاں ہے کہ یہی سے بھارتی قونصلیٹ اپنے مذموم مقاصد کی آبیاری کرتے ہیں۔پاکستان بھی انہی قونصل خانوں کا شکار رہتا ہے جبکہ بھارت نے یہی کام چین کے خلاف بھی شروع کر رکھاہے۔امید ہے کہ چینی نائب صدر اس معاملے کو بھارت کے سات ضرور اٹھائیں گے۔ای ٹی آئی ایم کے حوالے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت چین کو یقین دہانی کروا چکے ہیں۔آپریشن ضرب عضب کے دوران اس تنظیم کا صفایا کیا جا چکا ہے۔ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فان شینگ لانگ جو چین کے طاقتور سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین ہیں بھی بھارت کا جلد دورہ کرنے والے ہیں۔اس بات کی تصدیق گزشتہ ہفتے چین کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے معمول کی میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ پاکستان کا بھی دورہ کریں گے۔اعلیٰ چینی فوجی عہدیدار ایک ایسے وقت پاکستان اور بھارت کا دورہ کررہے ہیں جب دونوں جنوب ایشیائی حریف ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ ورکنگ بانڈری اورکشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن پر سرحدی بھارتی فوج کی طرف سے فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات ہیں۔چین بھارت اور پاکستان کے درمیان تناو¿ اور کشیدگی کو خطے کی امن و سلامتی کے لیے مضر سمجھتا ہے۔چین کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے عمل کی حمایت کرتا ہے۔یہ دورہ اہم ہو سکتا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو بہتری کی طرف لے جانے کی بات کریں ۔چین کی وزارت دفاع کے ترجمان یانگ یوجون کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد دوستانہ تبادلوں کو فروغ دینا اور “مشترکہ طور پر علاقائی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے” میں تعاون کرنا ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان دوستی اور تعلقات کی ایک تاریخ ہے، رواں سال اپریل کے مہینے میں چین کے صدر شی جنپنگ کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان اربوں ڈالر کے اقتصادی راہداری منصوبوں پر دستخط ہوئے جن میں سے اکثر پر کام شروع ہو چکا ہے۔دوسری طرف چین اور بھارت کے تعلقات اتنے اچھے نہیں ہیں ۔