- الإعلانات -

بحر ہند و عرب میں چین کی موجودگی

جب سے بھارتی پریس میں خبر آئی ہے کہ چین گوادر میں فوجی اڈہ تعمیر کرنے جارہا ہے انڈین میڈیا کی گز گز بھر لمبی زبانیں آگ کے شعلے اگل رہی ہیں بھارتی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بھارت کے لئے یہ مسئلہ موت حیات کا مسئلہ بن چکا ہے اگر چین گوادر میں آکر بیٹھ گیا تو خلیج سے آنے والی تیل کی سپلائی لائین جو ہندوستانی اقتصادیات کے لئے شاہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے چین کی دسترس سے محض 180 بحری میل رہ جائے گی اور چین جب چاہے گا ہندوستانی اقتصادیات کا گلا گھونٹ دینے کی پوزیشن میں ہوگا اور یہ ہندوستانیوں کی لئے پیغام اجل سے کم نہیں ہوگا پاکستان اس پوزیشن میں آگیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت ہندوستانی آئل ٹینکر کی راہ میں مزاحم ہو کر ناکہ بندی کرسکتا ہے اور جب سے چین نے سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بحری سہولیات حاصل کی ہیں ہندوستانی سیاسی قیادت کی نیندیں اڑچکی ہیں اور ڈراؤنے خوب دیکھنا شروع کر دئے ہیں دراصل مشرقی چین جو زیادہ ترقی یافتہ اور صنعتوں کا گھر ہے جہاں صنعتی پیداوارکے سبب ایندھن کی بہت زیادہ کھپت یوٹی ہے اور ضروری ہے کہ صنعت کا پہیہ نہ رکے اس کے لئے ایندھن کی مسلسل فراہمی انتہائی ضروری ہے امریکہ انڈیا آسٹریلیا اور جاپان کا اتحاد خبیثہ ملکر چین کی ترقی کی راہ میں مزاحم ہونا چاہتے ہیں اور یہ سپلائی روٹ کم و بیش 12500 کلومیٹر طویل ہے جو آب نائے ملاکا جیسے تنگ راستوں سے ہوتا ہوا چین کی جانب جاتا ہے آج سے کم و بیش 9 سال قبل اس وقت کی بھارتی نیول چیف ایڈمرل سریش مہتا نے نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ گوادر کی بندر گاہ بھارت کیلئے سنجیدہ اسٹریٹجک مسائل کھڑے کر سکتی ہے اور انہوں نے اپنی حکومت کو خبردار کیاتھا کہ کوسٹل ہائے وے جو کراچی اور گوادر کے درمیان ساحلی پٹی پر تعمیر ہورہی تھی تب یہ ان کیلئے سوہان روح بنی ہوئی تھی آج تعمیر ہوچکی ہے اوراب سی پیک بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے تو انڈیا کو لگنے والے صدمات کا عالم کیا ہوگا آج انڈیا کی حالت یہ ہے کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن انڈیا نے بحر ہند اور بحر عرب کو امریکی آشیرباد سے بلا شرکت غیرے اپنی ذاتی جھیل سمجھ رکھا تھا ظاہر ہے چین کو بھی اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کیلئے آگے آنا تھا اور وہ آچکا ہے بلکہ بتدریج اپنی قوت اورصلاحیت میں اضافہ کر رہاہے موجودہ نیول چیف سنیل لامبا نے اپنے وزیراعظم کی منطوری سے ہنگامی طور پر کچھ نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے نیول چیف کہتے ہیں کہ حالات نے یکا یک کروٹ بدلی ہے اطلاعات کے مطابق چین گوادر کے قریب اپنا نیول بیس تعمیر کر رہا ہے ان خبروں نے بھارت کی نیندیں حرام کر دی ہیں ماضی میں مذکورہ بالا ملکوں کے اتحاد نے چین کے بحری راستوں کے لئے جو خطرات پیدا کردیئے تھے چین نے ان پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے چین نے ان راستوں پر اتحادیوں کی جانب سے پیدا کئے گئے سیکیورٹی اقدامات کے سبب چینی جہاز آبنائے ملاکا سے بے خوف خطر آجا سکیں گے چینی بحریہ خلیج اومان اور بحر عرب میں مستقل موجود رہے گی ان اقدامات کے سبب چین کے راستے محفوظ ہو جائیں گے ادھر بھارت اور اس کے ہمنواؤن نے گوادر اور اس کے آس پاس سی پیک اور کراچی میں مزدوروں اور دیگر کارکنوں پرحملے بڑھا دئے گئے ہیں ایک چینی خاتون اور مردکو بلوچستان میں اغوا کر لیا گیا اور چند روزقبل ایف سی اور دیگر اداروں نے مل کر بلوچستان کے انتہائی دشوار گزار علاقے میں غاروں میں موجود پناہ گاہوں پر حملہ کر کے اٹھارہ سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا چینی جوڑے کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں بھارت بحریہ اب تک بحر ہند کو اپنی قلمرو اور ذاتی جاگیر سمجھ کر اس علاقے میں اپنی موجودگی بہت بڑھا چکی ہے اس لئے چینی بحریہ اپنے بیڑے سمیت بحر عرب اور بحر ہند میں سی پیک اور دیگر روٹس کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت موجود رہے گی بھارتی ارادے نیک نہیں اسی لئے بھارتی بحریہ کی آپریشنل کمانڈز خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ، بھارتی آرمی کے سربراہ بپن راوت اور ایئر فورس کے سربراہ بی ایس دھنوا کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے ہیں اور بعد کی اطلاعات کے مطابق انڈیا نے اپنی بحری قوت بحر ہند میں لاکھڑی کی ہے بھارتی نیوی کے سینئر کمانڈروں کی چار روزہ کانفرنس کے اختتام پر نیول چیف کے تیور بدلے بدلے سے لگے ان کی زبان اور اعتماد میں بھی خاصا فرق تھا انہوں نے اپنے کمانڈروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چین سے خوف زدہ ہو نے کی ضرورت نہیں اور چین دراصل بحر ہند پر قبضے کی خواہش لے کر آرہا ہے نیول کمانڈرز کے اجلاس میں بھارتی وزارت خارجہ کے سیکرٹری اور وزیردفاع نے خصوصی طور پر شرکت کی اورسیکریٹری خارجہ سے نیول چیف اور اپریشنل کمانڈروں سے علیحدہ سے میٹنگ کی اور کچھ کاغذات ان کے حوالے کئے جو خصوصی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں۔ آخر میں نیول چیف اپنے کمانڈروں سے یہ کہتے پائے گئے کہ کل میں کسی کمانڈر کے منہ سے یہ نہ سنوں کہ ہماری تیاری میں کوئی کمی رہ گئی تھی ادھر بھارت وزیر دفاع نے تینوں مسلح افواج کے سربراہوں سے کہا کہ بحر ہند یا اس کے کسی حصے میں چین یا کسی اور ملک کے داخلے کو پوری قوت سے روکنا ہوگا اور اسکے لئے آپریشنل تیاریاں مکمل رہیں اور یہ کام پوری قوت سے ہونا چاہئے اور اپنے فلیٹ کو مکمل تیاری کی حالت میں رکھیں بھارت انگریزی اخبار بزنس سٹینڈرڈ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور بھارت مشترکہ طور پر بحر ہند میں چینی آبدوزوں کو تلاش کر رہے ہیں کہ دونوں ملک گواردر کی بندر گاہ کو مکمل فنکشنل نہیں دیکھنا چاہتے اور چینی آبدوزوں کی بحر ہند اور بحر عرب میں موجودگی حقیقت ہے حس کی تصدیق امریکی نیوی کے ایڈمرل ہیریس نے بھی کی ہے۔ ادھر امریکی حکومت نے انڈیا کو جدید ترین بوئنگ پی 81 فراہم کرنے کی پیشکش بھی کردی ہے جسے آبدوزوں کا شکاری بھی کہا جاتا ہے اس ضمن میں امریکہ اور انڈیا کی مشترکہ بحری مشقیں پہلے بھی جاری رہا کرتی تھیں اب امریکی جنرل نے کوئی شبہ رہنے نہیں دیا امریکہ ہر خطے میں اپنے اپنے حواریوں سے ملکر اس قسم کے کھیل کھیلتا رہتا ہے اس سے امریکہ خطے میں موجود وسائل کو مفت میں استعمال کرنا چاہتا ہے اور اپنے دوستوں کو خطرے کا ہوا دکھا کر اسی بہانے سے اپنا اسلحہ بیچتا ہے بہر حال اس صورت حال سے ہم براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے اس طرح ان کا مقصد پاکستان پر دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے یوں امریکہ کی جانب سے حسب سابق انڈیا کی پیٹھ تھپکی جارہی ہے کہ چڑھ جا بیٹا سو لی پر رام بھلی خرے گا اس کے بعد امریکہ جس طرح دھوکہ دیتا ہے ہمیں تو بہت تجربہ ہے انڈیا کوئی پنگا لینے سے پہلے ہم ہی سے کچھ سیکھ لے کہ امریکہ دوستوں کے ساتھ کیا کرتا ہے انڈیا یہ بھی جان لے کہ چین کے پاس 50 آبدوزیں ہیں جن میں سے 8 جوہری طاقت کی حامل ہیں اور بھارت کے پاس 13 ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں ہیں اور آئی این ایس چکرا ہے بھی تو جوہری میزائل کے بغیر "”” حضور کو ہم نیک و بد سمجھانے دیتے ہیں پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی "” انڈیا امریکہ کی ریشہ دوانیان ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں اور ہم خالق لم یزل پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہی قادر ہے اللہ پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔آمین