- الإعلانات -

پی ٹی آئی ڈینجر زون میں

uzair-column

پنجاب اورسندھ میں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات نے ایک بات تو واضح کردی کہ ابھی پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایک طویل مسافت طے کرنا ہوگی ۔یوں تو کپتان یہ سمجھ رہے ہیں کہ 2018ءکے انتخابات میں وہ وزیراعظم ہوںگے ۔اس سے قبل بھی انہوں نے وزارت عظمیٰ کے حصول کیلئے انتھک کوششیں کیں ،دھرنے دئیے ،مظاہرے کیے ،ایوانوں میں آوازیں اٹھائیں ،لاہور سے جلوس لیکر چلے ،وفاقی دارالحکومت پر یلغار کی ،مگر ان تمام اقدامات کے باوجود کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی ،نہ ہی نیا پاکستان بنا اور نہ ہی وہ وزارت عظمیٰ کی سیٹ پر براجمان ہوسکے ۔وزیراعظم نوازشریف جنہوں نے انتہائی ٹھنڈے مزاج سے سیاست کی اور ہمیشہ عمران خان کو یہ سبق دیتے رہے کہ مسائل کا حل سڑکوں پر نہیں بلکہ ایوانوں میں ہوتا ہے لہذا تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ قومی اسمبلی میں واپس آئیں ۔پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے استعفے دئیے جس پر بڑی واویلا مچی لیکن یہاں پھر نوازشریف نے ایک زیرک سیاستدان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ایسا سیاسی ترپ کا پتہ کھیلا کہ آخر کار عمران خان کو یوٹرن لیکر واپس قومی اسمبلی میں آنا پڑا پھر جب وہ قومی اسمبلی میں آئے تو وزیردفاع نے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا ۔اس کے بعد پھر عمران خان نے کہا کہ اب میں اسمبلی نہیں جاﺅنگا مگر حالات پھراسی طرح چلتے رہے ۔ن لیگ سیاسی میدان میں مزید کامیابی کے جھنڈے گاڑھتی رہی اورآخر کار پھر عمران خان نے ایک دن یہ قبول کر ہی لیا کہ اب یوںمحسوس ہوتا ہے کہ انتخابات 2018ءمیں ہی ہونگے ۔اب اسے کپتان کی بدقسمتی کہیے یا ان کے فیصلے کہ بلدیاتی انتخابات سے صرف ایک روز قبل وہ ایک ایسے بڑے سانحے سے دوچار ہوگئے کہ جس کایقینی طور پر انتخابات پر منفی اثر پڑا اور یوں تخت لاہور کا جو کپتان خواب دیکھ رہے تھے وہ چکنا چور ہوگیا اور ن نے جنون کو وائٹ واش کردیا ۔شیر کے سامنے سارے کے سارے ڈھیر ہوگئے ۔ہاں البتہ اس وقت اب آزاد امیدواروں کی اہمیت آسمان پرجاپہنچی ہے ۔پی ٹی آئی اور ن لیگ دونوں کوششیں کررہے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح آزاد امیدواروں کواپنے ساتھ ملا لیں ۔مگر اس میدان میںبھی ن لیگ کی پالیسی کامیاب ہی نظر آرہی ہے ۔اب پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماﺅں نے عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملک گیر دورہ کریں مگر ہمارا یہ مشورہ ہے کہ عمران خان پہلے پارٹی کے اندر کے معاملات سیدھے کریں اس کے بعد بے شک وہ ملک گیر دورے پر نکلیں ۔بات تو دراصل یہ بھی ہے کہ جس طرح بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔شاید وہ اتنا نہ سوچ رہے ہوں لیکن شفقت محمود نے اپنی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے اورعمران خان نے چوہدری سرور سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں ۔بھلا یہ تو کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی تمام معاملات عمران خان کے ہی ہاتھ میں ہیں ۔پی ٹی آئی میں صرف ایک ہی دولہا ہے اور وہ عمران خان ہیں اور شاید اسی وجہ سے پارٹی کے اندر خلفشار اوراختلافات کی فضاءجنم لیتی رہتی ہے ۔جس کا نتیجہ بلدیاتی انتخابات میں اتنی بری طرح سامنے آیا ہے کہ 2018ءکے انتخابات کیلئے بھی پی ٹی آئی ڈینجر زون میں چلی گئی ہے اور اس زون سے نکلنے کیلئے اسے بہت سارے نئے اقدامات اٹھانا پڑیں گے ۔ایک تو پہلے ہی اس کی ٹرین میں ایسے لوگ سوار ہوچکے ہیں جو کہ لگاتار اس جماعت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔یقینی طور پر اس کو ن لیگی کی کامیابی اور وزیراعظم نوازشریف کی بہترین سیاسی حکمت عملی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔سندھ میں بھی پیپلزپارٹی نے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔البتہ خیرپور میں درپیش آنے والا سانحہ سندھ حکومت کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے ۔گو کہ سائیںنے تحقیقات کا حکم تو دیدیا ہے مگر ظاہر ہے کہ سائیں تو پھر سائیں ہے ۔اس کی تحقیقات بھی سائیں جیسی ہی ہونگی اور نتائج بھی ویسے ہی ہوں گے ۔بات تو یہ ہے کہ ان گیارہ لوگوں نے اپنی جانیں دیدیں ان کو کیا حاصل ہوا ۔انہیں متعلقہ سیاسی جماعتیں اورسیاسی رہنما سبز باغ ہی دکھاتے رہے کہ حقوق ان کے در پر ملیں گے ،مسائل حل ہوں گے ،علاقہ ترقی کرے گا ،روزگار کے مواقع ملیں گے ،مگر انہوں نے تو اپنی جان ہار دی ۔آخر یہ سبز باغ دکھا کر کب تک قوم کے ساتھ زیادتی کی جاتی رہے گی ۔وہ جو گیارہ قیمتی جانیں گئی ہیں ان کا ذمہ دار کون ہے ،ان کے جو لواحقین ہیں جس میں یقینی طور پر عورتیں ،بچے اوربزرگ بھی شامل ہوں گے انہیں دو وقت کی روٹی کون پہنچائے گا ۔کیا یہ سندھ حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہاں پر وہ امن وامان قائم رکھتی ،اتنا اسلحے کا بے دریغ استعمال کیوں ہوا ،کیا ضابطہ اخلاق پر عمل کرانا ضروری نہیں تھا ،یہ کس کی ذمہ داری تھی ،مگر یہاں تو ہمارے یہاں مسائل ہی کچھ اورنوعیت کے ہوتے ہیں بس وہ گیارہ نعشیں دفنا دیں اور اس کے بعد ساری چیزیں بھی ان کے ہمراہ ہی دفن ہوگئیں ۔