- الإعلانات -

وزیراعظم کی جے آئی ٹی میں پیشی

بی بی مریم اورنگزیب جو خیر سے ہماری وزیر اطلاعات ہیں قوم کو یہ اطلاع بہم پہنچائی ہے کہ محترم وزیراعظم محمد نواز شریف جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر نظام کی عزت افزائی فرمارہے ہیں اور وہ یوں صاحب موصوف ایک تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں اور ان کاجے آئی ٹی میں پیش ہونا ایک تاریخ ساز واقعہ ہو گا سچ مانیئے ان کا یہ بیان سن کر تھوڑی دیر بیان کے سحر میں کھو گئے کہ کیا عظیم لیڈر ہیں جو بہ نفس نفیس جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر نظام کو مزید وقار بخش رہے ہیں لیکن پھر کچھ تاریخی حوالے یاد آ گئے کہ مسلمانوں میں تو یہ سلسلہ قرون اولی سے چل رہا ہے جب سیدنا عمر فاروق خلیفہ رسول صل اللہ علیہ وسلم سے کرتے کے کپڑے پر باز پرس ہوگئی تھی جسکی وضاحت ان کے فرزند ارجمند نے دی کہ اس کرتے کے کپڑے میں میراحصہ بھی شامل ہے اسی طرح ایک یہودی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ شیر خدا پر ایک یہودی نے عدالت میں دعویٰ دائر کردیا کہ یہ زرہ میری ہے جس پر قاضی نے شیر خدا کو گواہ پیش کرنے کو کہا گیا جنہوں نے اپنی ملکیت کی گواہی کے لئے اپنے فرزند کو بطور گواہ پیش کیا اور یہ گواہی باپ بیٹے کے رشتے کے سبب منظور نہیں کی گئی اور یوں ذرہ یہودی کے حوالے کردی گئی یہودی اتنا زبردست اسلامی انصاف دیکھ کر حیران رہ گیا اور اسے اسلام کی حقانیت سمجھ آگئی اور وہ ایمان لے آیا ۔کل ہی کی بات ہے کہ انہی عدالتوں میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم و مغفور بھی پیشیاں بھگتے رہے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی عدالت کا سامنا کیا اور تابرخاست عدالت کی سزا پاکر وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہو کر بغیر کچھ کہے گھر چلے گئے اور اف تک نہیں کی بلکہ نظر ثانی کی درخواست بھی خاصے عرصے بعد کی تب وہ بھی وزیراعظم کے منصب جلیلہ پر فائز تھے اس سے قبل ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید لانڈھی جیل کے باہر شدید گرمی میں چھوٹے بچوں کو ساتھ لیکر پیشیوں پر جیل کے باہر دیوار کے سائے میں گھنٹوں بیٹھی رہتی تھیں لیکن حرف شکایت کبھی زبان پر نہ لائیں اور نہ یہ کہا کہ وہ عدالت میں آکر قوم پر کوئی احسان عظیم کرنے جا رہی ہیں اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے کاش اس طرح پیش نہ ہو رہے ہوتے کہ ان پر سنگین الزامات ہوں بچوں سے بھی تحقیق اور تفتیش کی جارہی ہو قومی اسمبلی کے فلور پر جو پوری قوم کا نمائندہ فورم ہے اس پر کاغذ لہرا کر ثبوت پیش کرنے کی بات کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس مکمل ثبوت ہیں جو بروقت ضرورت عدالت میں پیش کردئے جائیں گے جو بعد میں سیاسی بیان کہلائے بالفاظ دیگر سیاست کو جھوٹ کہا گیا بچے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہورہے ہیں باوقار طریقہ تو یہ تھا کہ رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو کر جے ٹی آئی کے سامنے پیش ہوتے اب وزیر اعظم پیش ہورہے ہیں نتیجہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کیا بیانات یا ثبوت پیش کئے گئے اور آئندہ کیا کچھ پیش کیا جاسکے گا شنید ہے وزیراعظم کے ساتھ لاؤ لشکر بھی ہمراہ ہوگا اور سلام آباد میں وزیراعظم کے حق میں بڑے بڑے پوسٹر لگائے جارہے ہیں یہ کس کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یاد رہے کہ جے آئی ٹی نے وذیراعظم کو نہیں صرف میاں محمد نوازشریف کو بلایا ہے وہ بھی الزامات کی جوابدہی کے لئے اور ذاتی حیثیت میں لیکن بعض رفقا مصر ہیں کہ صرف میاں نوازشریف نہیں وزیراعظم ہی جائیں گے اور اس لحاظ سے جو شو سجانے کی کوشش کی جارہی ہے یہ میاں صاحب کے کسی بھی طرح شایان شان نہیں ادھر حے آئی ٹی کے سربراہ نے عدالت عظمی کے روبرو شکایت کی ہے کہ ہم سے حکومتی سطح پر تعاون نہیں کیا جارہا بلکہ ریکارڈ میں ردوبدل کیا جارہا ہے وزرا کی بیانات کسی جمہوری ملک کے عہدیداروں کے شایان شان قرار نہیں دیے جا سکتے کوئی جے آئی ٹی کو قصائی قرار دے رہا ہے تو کوئی کسی نام سے پکار رہا ہے اور مقصد دشنام طرازی کیلئے کوئی موقع نہیں چھوڑا جارہا کوئی لوہے کے چنے ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو کوئی عدلیہ کو مشورہ نما دھمکی دے رہا ہے کہ نوازشریف کی کتاب کے سارے صفحے پورے ہیں اگر کسی کو پڑھنا نہیں آتا ہے تو ہمارا قصور نہیں یہ کیا طرز تخاطب ہے اور کون مخاطب ہے کیا یہ براہ راست عدلیہ کو دھمکی نہیں دی جارہی کیا سپریم کورٹ کے فاضل جج حضرات کو کیا پڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے قبل سینیٹر جیسے باوقار عہدے پر فائز پڑھا لکھا شخص ملک کے اداروں کے سربراہ اور افراد کو براہ راست دھمکی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ان کی اور ان کے بچوں پر زمین تنگ کردی جائے گی کہ سپریم کورٹ کو مجبورا کہنا پڑا کہ اس طرح کی دھمکیاں تو کبھی کسی آمر کے دور میں بھی میں بھی نہیں دی گئیں امید ہے کہ میاں محمد نواز شریف واقعتا تسلی بخش ثبوت پیش کر کے سرخرو ہو جائیں گے اور ملک اور قوم اس غیر یقینی کے فوبیا سے باہر نکل آئے گی ادھر میاں صاحب کے مصاحب گلے پھاڑ پھاڑ کر عمران خان کو عمران نیازی کہ کر بزعم خود ان کی تحقیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کبھی بھگوڑا تو کبھی کوئی الزام لگایا جارہا ہے اور صیغہ واحد میں پکارا جارہا ہے لیکن ظرف کی بات ہے الزام بھی وہ لوگ لگارہے ہیں جو گلے گلے تک کرپشن کی دلدل میں لتھڑے ہوئے ہیں الزام کیا ہے کہ آپ پیسہ ملک میں کیسے لائے عمران خان باہر سے پیسہ لائے ہیں نہ کہ کرپشن کر کے ملک لوٹ کر پیسہ لے گئے ہیں اور عمران خان نے کوئی منی لانڈرنگ نہیں کی حکومتی حلقوں کی بوکھلاہٹ ملاحظہ فرمائیں کہ سینیئر سیاستدان شیخ رشید احمد پر منصوبہ بندی سے ہلہ بولا گیا کیا کسی سے پیسے مانگنے کا یہی طریقہ رہ گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے گیٹ پر باوقار ممبر کے ساتھ ہاتھا پائی کی کوشش کی جائے کلمہ پڑھ کر سچائی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ شیخ صاحب بھی کلمہ پڑھ کر کہ رہے ہیں کہ میرے ذمے کوئی ادھار نہیں ہے شیخ صاحب نے اس مسئلے کو نہایت بردباری سے ہینڈل کیا اس سے حکومت کی سبکی ہی ہوئی ۔اب بھی وقت ہے تمام فریق معاملات کو قانون کے دائرے تک ہی محدود رکھیں اور تحمل کا مظاہرہ کریں اور انصاف ہونے دیں ایسا کلچر فروغ نہ دیں جس سے کل آپ ہی کو متاثر نہ ہونا پڑے اللہ ہمیں حق کو سمجھنے سچ کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاطت فرمائے ۔آمین
****