- الإعلانات -

اختیارات کا ارتکازاور گڈ گورننس سے انحراف

مسلم لیگی نون کی حکومت اپنے آخری سال میں داخل ہو چکی ہے جبکہ گزشتہ چار سال کے دوران وہ اپنے دعوؤں کے قریب سے بھی نہیں گزر سکی ہے،خصوصاً توانائی کے شعبہ میں اسے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اس مسئلے کا حل اب اس نے یہ نکالا ہے کہ پانچ ریگولیٹری باڈی کو مختلف وزارتوں کے ماتحت کر دیا جائے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ چھ جون کو کابینہ ڈویژن نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت پانچوں ریگولیٹری اتھارٹیز کو متعلقہ وزارتوں کے دائرہ اختیار میں دے دیا گیا ہے،ان ریگولیٹری اداروں میں نیپرا،پی ٹی اے،ایف اے بی(فریکونسی ا یلکویشن بورڈ) اوگرا اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ی پی آر اے)شامل ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے نیپرا کا انتظامی اختیار وزارت پانی و بجلی ،پی ٹی ایاور فریکونسی ایلکویشن بورڈکا وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام ڈویژن ،آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کا وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل اور پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ( پی پی آر اے)کا فنانس ڈویژ ن کے سپردکردیا۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ 1973کے رولز آف بزنس میں بھی حسب ضرورت ترامیم کی جائیں گی۔حکومت کی جانب سے نیپرا ،اوگرا ،پیپرا سمیت پانچ ریگولیٹرز کا انتظامی کنٹرول وزارتوں کو منتقل کرنا اختیارات کا ارتکازاور جدید دور کے تقاضوں سے انحراف کے مترادف ہے ۔ دنیا بھر میں قیمتوں کے تعین کا اختیار خود مختار اداروں کو دیا جارہا ہے تاکہ صارفین ،سرمایہ کار اور حکومت کے مفادات کو تحفظ فراہم کیا جاسکے ۔قیمتوں کے تعین یا دیگر انتظامی معاملات کے حوالے سے یہ ریگولیٹرز عوامی سماعت بھی کرتے ہیں جسمیں تمام فریقین اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں پھر اس کے بعد قابل قبول راستہ نکال لیتے ہیں اور حکومت کو بھی زیادہ تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا لیکن ریگولیٹرز سے اختیارات واپس لینے سے صورت حال یکسر تبدیل ہوجائے گی اورشکایات کا نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا ۔اس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ریگولیٹرزکا قیام ایک بین الاقوامی تصور ہے جس پر پوری دنیا میں عمل کیاجارہا ہے۔پاکستان میں وزیراعظم شوکت عزیز کے زمانے میں اس کو وزارتوں سے الگ کیا گیا تھا۔مگر موجودہ حکومت اختیارات کے ارتکاز کو ترجیح دے رہی ہے۔ریگولیٹرز کے وزارتوں کے زیر انتظام جانے سے اب عوامی شکایات کا ازالہ کرنے کیلئے کوئی فورم موجود نہیں ہوگا ۔حکومت کی طرف سے ان باڈیز کو وزارتوں کے کنٹرول میں دینے کی یہ پہلی کوشش نہیں ہے بلکہ اس سے قبل 19دسمبر2016کو مشترکہ مفادات کونسل میں صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا کی مخالفت کے باوجود مذکورہ پانچ ریگولیٹریز کا انتظامی کنٹرول متعلقہ وزارتوں کے حوالے کر دیا تھا۔19دسمبر کے فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے زبردست احتجاج شروع کر دیا اور الزام لگایا کہ وہ ریگولیٹرز کے فیصلوں کے اختیار اور آزادی کو سلب کرکے اپنی پسند کے فیصلوں کی منظوری چاہتی ہے۔اسی دوران یہ معاملہ عدالتوں چلا گیا۔پشاور ہائی کورٹ ،اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ سمیت سب نے حکومت کے فیصلے کو معطل کر دیا۔امید تھی شاید حکومت اس معاملے سے باز آ جائے لیکن مفادات کے ٹکراؤ باعث سی سی آئی سے بالا بالا فیصلہ کرکے بیڈ گورننس کی بہترین مثال قائم کی ہے۔ غیر جانبدار ماہرین حکومتی فیصلے پر حیران ہیں کہ 19دسمبر2016کا یہی فیصلہ تین مختلف عدالتوں نے معطل کر دیا تھا۔ عدالتوں کے ریمارکس تھے کہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت کیوں ان اتھارٹیز کا کنٹرول وزراتوں کے سپرد کرنا چاہتی ہے ،اب تو اس کا صرف ایک سال باقی ہے ،چار سال تو اس انتظام کیساتھ گزار چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 3 مارچ 2017کے فیصلے میں تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ حکومت کسی بھی فیصلے سے قبل معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے رکھے ، لیکن حکومت نے اس فیصلے کو پس پشت ڈالتے ہوئے من مانی کر لی۔ بتایا جاتا ہے کہ پانی و بجلی اور پٹرولیم کی وزارتیں اکثر وزیر اعظم سے ان کے بارے میں شکایات کرتی تھیں، حکومتی مشیروں کا موقف ہے کہ خاص طور پر ریگولیٹری کی انتظامیہ کی تبدیلی کے بغیر نندی پاور پراجیکٹ اور ساہیوال کول پراجیکٹ کبھی اقتصادی طور پر قابل عمل نہیں ہو سکتے۔چنانچہ ان کو راہ سے ہٹانے کی ٹھان لی گئی۔یہ معاملہ پہلی بار 15 دسمبر2016 کے اجلاس میں پیش کیا گیا تو خیبر پختونخوا کے و زیر اعلیٰ نے اس کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ عوامی اہمیت کے نازک معاملات کے بارے میں فیصلہ جلد بازی میں نہ کیا جائے ،اسی طرح سندھ نے بھی بھر پور مخالفت کی۔ان باڈیز میں بعض نہایت حساس نوعیت کی ہیں ،مثلاً پی ٹی اے اور فریکونسی ا یلکویشن بورڈ ہی کو لے لیں۔سکیورٹی کے حوالے سے ان باڈیز کو پولیٹکل اثرورسوخ میں دیان سکیورٹی رسک بن سکتا ہے۔حکومت نے جلدبازی کا مظاہرہ کیا ہے۔حکومت گڈ گورننس کے دعوے تو بہت کرتی ہے لیکن اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ الیکشن کے سال میں وہ کچھ کرنا چاہتی ہے جو وہ اب تک نہیں کرسکی۔اس طرح عالمی سطح پر بھی اس کا منفی تاثر ابھرے گا ۔بیڈگورننس اور کرپشن کے حوالے سے پاکستان کی عالمی رینکنگ اچھی نہیں ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ وفاق کو کمزور کرنے کے مترادف ہے اور اس فیصلے کے پیچھے کرپشن کی داستانیں بھی ہیں۔عدالتی احکامات کے باوجود ان باڈیز کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش سوالیہ نشان ہے۔