- الإعلانات -

مودی کو کون لگام ڈالے گا؟

uzair-column

 مودی کے ہاتھ میں اقتدار کیا آیا اس نے خطے کا امن تو تہہ وبالا کیا ہی تھا اندرون ملک بھی مطلق العنانیت انتہا کردی ہے اب تو بی جے پی کے وزیر بھی شیوسینا کے نقش قدم پر چلنا شروع ہوچکے ہیں ۔بی جے پی کی ایک وزیر نے ایک غریب سوالی کو اس وقت برے طریقے سے ٹھوکر ماری جب اس نے اس سے سوال کیا ۔اس کے بعد بھارت کے میڈیا نے اس واقعے کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور مودی حکومت سے برطرفی کا مطالبہ کردیا ۔ابھی مودی نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنا ہے اس میں تقریباً ہفتے بھر سے زیادہ دن باقی ہیں اس سے قبل ہی وہاں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھانے شروع کردئیے گئے ہیں ۔کشمیری رہنماﺅں کو پابند سلاسل کردیا ہے اورباقی نوجوانوں کو گرفتار کرکے قیدوبند کی صعوبتوں میں ڈالاجارہا ہے۔آسیہ اندرابی نے مودی کیخلاف نکالی جانیوالی ریلی کی بھی حمایت کردی ہے ۔ظاہر ہے بھارت اس چیز سے خوفزدہ ہے کہ اس نے ایک غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی مچا کر قبضہ کررکھا ہے اورہفتے میں کوئی شاید ہی ایسا دن خالی جاتا ہو جب اس سرزمین پر کشمیری سبز ہلالی پرچم نہ لہرا رہے ہوں ۔چونکہ مودی بنیادی طور پر پاکستان مخالف ذہن رکھتا ہے ۔اس نے تو کانگریس کو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ہمیں سبق نہ پڑھائے چونکہ یہ ایک تخریب کار وزیراعظم ہے اس وجہ سے کسی سے بھی رائے لینا پسند نہیں کرتا لیکن بڑے بزرگوں نے کہا ہے کہ جب گیڈر کی موت آئے تو وہ شہر کی طرف روانہ ہوجاتا ہے تو مودی کہیںپہلے جنگل میں رہ رہا تھا اب وہ شہر میں آچکا ہے اس لیے اس کو یہ اختیارات اور وزارت عظمیٰ ہضم نہیں ہورہی ۔بہت جلد بھارت ٹکڑوں ٹکڑوں میںتقسیم ہوجائیگا۔مودی کے عنان اقتدار میں آنے کے بعد ایسے ایسے وقوعے پیش آئے ہیں جن کی اس سے قبل شاید تاریخ میں مثال نہ ملتی ہو ۔سکھوں کی مذہبی کتاب کی بے حرمتی کی گئی ،گائے کے ایشو پر قتل عام مچایا گیا حتیٰ کہ اگر کسی نے گائے کے گوشت کھانے کے بارے میں یہ بھی کہا کہ یہ صحت کیلئے مفید ہے تو اسے بھی مودی کے عتاب کا سامنا کرنا پڑا دراصل شیوسینا کے پیچھے مودی ہی موجود ہے اسی وجہ سے اس نے اس تخریب کار تنظیم کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ بین الاقوامی برادری نے بھی کیونکرآنکھیں بند کررکھی ہیں پاکستان اس وقت مسئلہ کشمیر اوربھارت کے حوالے سے جو کردار ادا کررہا ہے اس کو بھی تاریخ میں کلیدی حروف میں تحریر کیا جائیگا۔وزیراعظم نوازشریف نے اوبامہ سے ملاقات کے دوران بھارتی دہشتگردی اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایشو کو اٹھایا پھر امریکہ کے حوالے بھارت کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے ثبوت بھی فراہم کیے گئے کہ وہ پاکستان میں کس کس طرح تخریب کاری اور انارکی پھیلا رہا ہے ۔یہ ثبوت اقوام متحدہ کو بھی دئیے گئے ہیں ۔وزیراعظم نے جو بھی موقع آیا اس میں مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا چونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کو کسی بھی طرح پاکستان سے جدا نہیں کیا جاسکتا کمال حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ اس وقت امریکہ ہو یا اقوام متحدہ اس کے پاس باقاعدہ طور پر بھارت کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں جو کہ پاکستان نے فراہم کیے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے ۔اس بات سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر کو ایک ”جھگڑے کی ہڈی“ بنا کر رکھا ہوا ہے ۔اس سلسلے میں او آئی سی کو بھی اہم کردارادا کرنے کی ضرورت ہے ۔خطے میں جتنی بھی دہشتگردی پھیل رہی ہے اس میں بھارت اور بھارت کی ایجنسی راءملوث ہے ۔حتیٰ کہ انڈیا کے اندر ہونیوالی دہشتگردی کے واقعات جن کا وہ آئے دن پاکستان پر الزام عائد کرتا رہتا ہے وہ بھی راءکے خود پیدا کردہ ہوتے ہیں محض اس وجہ سے وہ الزام تراشی کرتا ہے تاکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک سکے ۔مگر وزیراعظم نوازشریف کی مسئلہ کشمیر اور خارجہ پالیسی اچھی ہونے کی وجہ سے بھارت کواس وقت شکست کا سامنا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس معاملات پر بین الاقوامی دنیا پر مزید دباﺅ بڑھائے ۔اس سے بھارت کا مکروہ چہرہ بھی واضح ہوگا اور اس کی گھناﺅنی حرکتوں کے بارے میں بھی پوری دنیا کو پتہ چل سکے گا ۔لندن ہو یا امریکہ اس وقت سکھ بھارت کیخلاف میدان عمل میں نکل چکے ہیں اور خالصتان کی تحریک بھی زور پکڑتی جارہی ہے ۔بہت زیادہ امکانات یہ ہیں کہ مودی کے دور اقتدار ہی میں بھارت میں سے کوئی نہ کوئی ایک نیا ملک نکلے گا ۔بھارت کی شکست وریخت کا عمل شروع ہوچکا ہے چونکہ وہاں پر ایک نالائق اور سیاسی رموز سے ناواقف شخص کے ہاتھ حکومت چڑھی ہوئی ہے جس کا مطلب ومقصد صرف پاکستان کیخلاف زہر اگلنا ہے مگر مودی کسی بھی صورت اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ہماری مسلح افواج کسی بھی جنگ سے نمٹنے کیلئے ہمہ تن تیار ہیں اور جب کبھی بھی بھارت کنٹرول لائن پر کوئی بھی ایسی حرکت کرتا ہے تو اس کو ایسا منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے کہ اس کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں ۔