- الإعلانات -

نو ماہ بائیس دن

uzair-column

کپتان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سیاستدان پبلک پراپرٹی ہوتا ہے اور اس کے معاملات بھی عوامی ہوتے ہیں عوام جاننا چاہتی ہے کہ اس کے شب وروز کیسے گزر رہے ہیں اس کی سرگرمیاں کیا ہیں ۔وہ کہاں جاتا ہے،وہ کس سے ملتا ہے ،اگر اس میں کوئی دخل اندازی کرے تو پھر محسوس نہیں کرنا چاہیے ۔گذشتہ روز صحافی کے سوال پر کپتان سیخ پا ہوگئے ۔یہ درست ہے کہ عمران اورریحام کے مابین جو کچھ بھی ہوا وہ ان کا ذاتی مسئلہ تھا مگراس سوال کا عمران خان اچھے طریقے سے بھی جواب دے سکتے تھے ۔مگر شرم کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کسی بھی سیاستدان کو خود ہی خیال کرنا چاہیے شاید کپتان یہ بھول گئے ہیں کہ جب وہ دوبارہ ایوان میں گئے تھے تو وزیردفاع نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا تھا اور اسی قسم کے الفاظ استعمال کیے تھے کہ ”کوئی شرم ہونی چاہیے ،کوئی حیا ہونی چاہیے “جس پر پوری پی ٹی آئی سیخ پا ہوگئی تھی اور دوبارہ سے انہوں نے الٹی میٹم دینا شروع کردیا تھا کہ اب وہ ایوان میں نہیں جائیں گے ۔چونکہ سیاست ایک اعصاب کی گیم ہے اور جس کے اعصاب مضبوط ہوتے ہیں وہی فاتح ہوتا ہے ۔کپتان میں یہی سب سے بڑی خرابی ہے کہ وہ ایک دم غصے میں آجاتے ہیں اور معاملات بگڑ جاتے ہیں ۔گو کہ میڈیا نے اس ایشو کو بے تحاشا اٹھایا اورابھی تک سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف چیزیں سامنے آتی جارہی ہیں گو کہ ہم اس بات کے مخالف ہیں کہ کسی کی بھی ذاتی زندگی کو اچھالنا اخلاقیات سے بعید ہے مگر اگر کوئی سیاستدان سے ایسا سوال کر ہی بیٹھے تو پھر کم ازکم اس کو ہی صبر وتحمل سے جواب دینا چاہیے جو بھی سانحہ رونما ہونا تھا وہ تو ہو ہی ہوچکا ہے ۔اب بات یہ ہے کہ یہ جو نو مہینے اور بائیس دن ہیں یہ عمران خان کی ساٹھ ،باسٹھ سالہ زندگی پر بھاری ہیں ۔گو کہ ابھی معاملات دب جائیں گے ،حالات بھی درست ہوجائیں گے مگر گاہے بگاہے یہ دھول کہیں نہ کہیں سے اٹھتی رہے گی اور اگر کپتان اس مسئلے پر اسی طرح گرم وسرد ہوتے رہے تو پھر یقینی طور پر یہ ایشو کسی طرح بھی دب نہ سکے گا ۔ابھی تو ریحام کی جانب سے کوئی ایسا بیان سامنے نہیں آیا گو کہ شاید معاملہ یہ باہمی اتفاق سے ہی حل ہوا ہو مگر آخر کہیں نہ کہیں تو کوئی ایسی بات ضرور ہے کہ عین بلدیاتی انتخابات سے قبل اتنا بڑا وقوعہ رونما ہوگیا ۔جس کا تحریک انصاف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔اب اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عمران خان ان سارے معاملات کو بااحسن خوبی ہینڈل کریں ،غصہ کھانے کی ضرورت نہیں ہے ،صحافی تو پیدا ہی سوال کرنے کیلئے ہوا ہے ،وہ تو ملک وقوم کی آنکھ ہے ،اس نے ہر چیز عوام کے سامنے پیش کرنی ہے اگرمیڈیا خاموش ہوجائے پھر تو ملک وقوم کا اللہ ہی وارث ہے ۔یہی صحافی جب کسی سے اچھا سوال کریں تو وہ اس سیاستدان کے منظور نظر ہوجاتے ہیں اوراگر کوئی ناپسندیدہ سوال کرگزریں تو پھر وہ اس سیاستدان کی آنکھوں میں چبھنے لگتے ہیں ۔انہی عادات کی وجہ سے کپتان نے ہر موڑ پر نقصان اٹھایا ۔آج سے پہلے انہوں نے جو بھی زندگی میں یوٹرن لیے وہ اتنے قابل ذکر نہیں ہیں ۔گو کہ سیاسی دنیا میں عمران خان کو یوٹرن کا بادشاہ کہا جاتا ہے ،ان کا کوئی پتہ نہیں کہ کس وقت وہ کوئی فیصلہ کربیٹھیں چاہے وہ فیصلہ ان کی ذات کے ہی خلاف ہو ۔مگر دوسری شادی کے بعد عمران کا یہ یوٹرن ناقابل تلافی ہے ۔اس کامداوا کرنے کیلئے یقینی طور پر قربانی دینا پڑے گی ۔اب جو آنے والے دنوں میں سیاست کی جارہی ہے اس میں ن لیگ کی سیاست واضح طور پر کامیابی کی جانب گامزن ہے اور آزاد امیدواروں کی لاٹری نکل آئی ہے ۔دیکھنے اور سمجھنے کی یہ بات ہے کہ آخر کار پی ٹی آئی جو سر سے لیکر پاﺅں تک بلدیاتی انتخاب میں شامل تھی اس کو اتنی بری شکست کیوں ہوئی ۔عمران خان یہ سوچیں کہ ان کے مدمقابل ن لیگ ،وزیراعظم نوازشریف تھے ۔نوازشریف چونکہ انتہائی ٹھنڈے مزاج کے سیاستدان ہیں اورانہوں نے جو بھی سیاسی چال چلی اس میں ہر قدم پر انہیں کامیابی ملتی رہی ۔سڑکوں پر آنے کے بجائے انہوں نے ایوانوں میں آوازیں اٹھانے پر زور دیا پھر جب دھرنا دیا گیا تو اس وقت بھی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا جس میں پیپلزپارٹی نے ن لیگ کا بھرپور ساتھ دیا ۔آخر ایسی کیا وجہ تھی کہ کپتان نے جس کو اپنا سیاسی کزن بنایا تھا وہ بھی ان کا ساتھ چھوڑ کر چلا گیا پھر آخر یہ دونوں تنہا تنہا رہ گئے اور حکومت فتح حاصل کرتی چلی گئی ۔وہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے جس سے جو بھی خامیاں ہیں ان کو دور کیا جاسکے ۔اندرون خبریں یہ ہیں کہ سنا جارہا ہے کہ پاکستان تحریک ا نصاف میں اختلافات پیدا ہوچکے ہیںاور توڑ پھوڑ جاری ہے ۔ایسے میں کپتان سب کو اعتماد میں لینے میں اگر کامیاب ہوگئے تو ٹھیک ہے ورنہ یہ نو ماہ بائیس دن پاکستان تحریک انصاف کو لے ڈوبیں گے ۔