- الإعلانات -

ریحام خان کا مقدمہ

asif

میڈیا میں عمران کا مقدمہ پورے اہتمام سے پیش کیا جا رہا ہے،ریحام کامقدمہ کہاں ہے؟

عصبیت اور رومان شمشیر بکف ہو کر عمران کے دفاع میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ارشادِ تازہ یہ ہے کہ عمران تو بہت سادہ، بہت معصوم اور نہایت درویش صفت انسان ہیں، یہ تو ریحام تھی جو شیطان کی خالہ تھی،صبح شام منادی ہے،عمران نے تو اسے بہت موقع دیا وہی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ ئی،عمران تو گھر بسانا چاہتے تھے ریحام کے لیکن عزائم ہی کچھ اور تھے، وہ تو دولت کی ہوس میں مبتلا تھی،وہ تو ہے ہی ایک لالچی خاتون، اس نے پہلے خاوند کے ساتھ بھی یہی کیا،یہ اس کی عادت ہے،اس نے تحریکِ انصاف کے مالی معاملات میں دلچسپی اسی لیے لینا شروع کی کہ مخیر حضرات سے براہِ راست رابطہ کر کے مالی مفادات سمیٹ سکے، وہ ایک ایجنڈا لے کر آئی تھی، وہ برطانوی خفیہ ایجنسی کی ایجنٹ تھی، اس نے عمران کو قتل کر کے ان کی جگہ لینا تھی،وہ اتنی خطرناک عورت تھی کہ اس نے عمران کو زہر دینے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا، اسی لیے اس نے آتے ہی بنی گالہ کے سارے ملازم تبدیل کر دیے تھے اور اپنے بندے تعینات کر دیے تھے، وہ تو خفیہ ایجنسی نے عمران کو بتا دیا اور ریحام کا منصوبہ ناکام ہو گیا ورنہ اس عورت نے تو عمران خان کو قتل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ایک صاحب نے جن کے ہر پروگرام میں خطرہ رہتا ہے کہ بریک لینے سے پہلی ہی قیامت نہ آ جائے آ گے بڑھ کر گرہ لگائی کہ صاحب زہر کا خطرہ نہیں تھا زہر دے دیا گیا تھا،یہ زہر عید کے موقع پرمٹھائی میں ملا کر دیا گیا جس سے عمران کی طبیعت خراب ہو گئی اور انہیں اسلام آباد کے ایک مقامی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا معدہ واش کر کے ان کی جان بچائی گئی۔گویا ریحام ایک ایسی خونی عورت تھی جس نے شادی کی پہلی عید پر ہی اپنے سہاگ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ایک بڑھیا نے لکھا ریحام نے شادی کی ہی صرف اس لیے تھی کہ اس کا پروفائل ہائی ہو جائے ۔اب جب پروفائل ہائی ہو گیا تو اسے آگے بڑھ جانا تھا۔بڑھیا معلوم نہیں غصے میں تھی یا ماضی میں ایسی ہی کوششوں میں ناکامی کے دکھ اس کے قلم سے پھوٹ پڑے؟

عمران کا مقدمہ پیش کرنے والے معلوم ہوتا ہے کسی محاذ پر ہیں اور ایسا ایک منظم منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ہمیں پورے خشوع و غضوع کے ساتھ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ریحام کا ’مغرب زدہ ‘ ہونا بھی ہے جس نے مسائل کھڑے کیے۔عمران کی فیملی ایک مغربی عورت کو قبول نہ کر سکی۔یعنی ایک تیر سے دو شکار کیے گئے۔ایک تو ریحام کے کردار پر انگلی اٹھا لی گئی دوسرا عمران خان کو ایک انتہائی مذہبی شخص اور ان کے گھرانے کو ایک انتہائی مذہبی گھرانے کی صورت پیش کیا گیا تا کہ دنیائے سیاست میں سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آ ئے۔لیکن حیرت ہے بنی گالہ کے درباری یہ نہیں بتا رہے کہ جب عمران نے ریحام کو شریکِ حیات بنانے کا فیصلہ کیا تھااس وقت کیا ریحام شٹل کاک برقعہ پہنتی تھی اور ان کی پرہیز گاری سے متاثر ہو کر عمران نے شادی کر لی لیکن بعد میں معلوم ہوا وہ تو ایک ’ مغرب ذدہ‘ خاتون ہیں جس سے عمران کا جذبہِ ایمانی مجروح ہو گیا اور بات طلاق تک پہنچ گئی۔
ہمیں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یہ ریحام کا ماضی تھا جو شادی کے بعد عمران کے علم میں آیا اور اس سے خرابیاں پیدا ہوئیں۔سوال یہ ہے کون سا ماضی ؟اگر بات ماضی تک جانی ہے تو عمران کا ماضی کیسا ہے؟اس دعوے کی شانِ نزول کیا ہے کہ ’’ میں خواتین کو خوب سمجھتا ہوں‘‘۔ریحام نے تو ایسا کوئی دعوی نہیں کیا تھا۔عمران خان کے ماضی کو ایک مبینہ توبہ کے پیچھے رکھ کر بھلا دینے کے وعظ کرنے والے کس بے حیائی سے ایک خاتون کی کردار کشی کر رہے ہیں۔آدمی کو گھن آ تی ہے۔

عمران کی محبت میں ایک دعوی یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ عمران کی بہنیں اس شادی سے خوش نہیں تھیں اور عمران اپنی بہنوں کے لاڈلے بھائی ہیں ااور ان سے بہت پیار کرتے ہیں اس لیے بہنوں کی یہ ناراضی بھی معاملات کی خرابی کا باعث بنی۔اس میں بھی عمران کی کردار سازی کا جذبہ کارفرما ہے کہ انہیں ایک ایسے فرد کے روپ میں پیش کیا جائے جو رشتوں کا بہت پاس رکھتا ہے۔رشتوں کا یہ پاس عمران کو اس وقت رکھنا چاہیے تھا جب وہ شادی کر رہے تھے اور بہنیں شامل نہیں ہو رہی تھیں۔کیا ہمیں معلوم نہیں ان کا سگا کزن فوت ہو گیا وہ جنازے میں شریک ہوئے نہ تعزیت کی البتہ اپنی سالگرہ کا کیک ضرور کاٹا۔رشتوں کا پاس اس وقت کہاں گیا تھا؟یہ حقیقت کب تک جھٹلائی جا تی رہے گی کہ رشتوں اور انسانی احساسات کی عمران نے کبھی پرواہ نہیں کی۔

ہمیں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ عمران ایک درویش منش انسان ہیں اور انہیں یہ بات پسند نہ آئی کہ ریحام نے شادی کے بعد بھاری مالیت کے تحائف لینا شروع کر دیا۔گویا ریحام پرلے درجے کی لالچی خاتون تھیں اور عمران دیو جانسن کلبی کے سچے پیروکار ہیں۔بتانے والے یہ بھی بتا دیتے کہ کیا خود عمران نے کبھی کسی دولت مند سے بھاری مالیت کے تھائف وصول کیے۔وہ جو کروڑوں کی مالیت کی گاڑی عمران کو ایک امیر ترین نے تحفے میں دی کیا وہ بنی گالہ ہی میں ہے یا اسے یہ کہہ کر واپس لودھراں بھیج دیا گیا ہے کہ عمران خان قیمتی تحفے لینے کے سخت خلاف ہیں۔

یہ دعوی بھی کیا جا رہا ہے کہ ریحام اتنی لالچی ہے کہ خاموش رہنے کے لیے لندن میں بہت بڑا گھر مانگ رہی ہے۔لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا کہ اس کے ساتھ معاملہ کیا ہی کیوں جا رہا ہے؟اس کے بولنے سے کسی کو کیا خوف ہے؟اور کیا یہی خوف تو نہیں جو ریحام کی منظم کردار کشی کروا رہا ہے کہ اسے اتنا بے توقیر کر دو کہ جب وہ بولے تو اس سے کم سے کم نقصان ہو؟

معلوم نہیںیہ عمران سے محبت ہے یا احباب کی ریحام سے ’ پروفیشنل جیلسی‘ ۔۔لیکن ایک مرد کے فضائل بیان کیے جارہے ہیں اور ایک خاتون کی تذلیل کی جا رہی ہے۔حالانکہ ہماری تہذیب اور اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ ایک عورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے زیادہ احتیاط سے کام لیا جائے۔عزت صرف اس کی نہیں ہوتی جو میدانِ سیاست میں ہو، عزت انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے۔رشتہ ٹوٹ گیا ہے تو ایک شخص کی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے کیا لازم ہے کہ ایک عورت کی تذلیل کی جائے اور اسے گالیاں دی جائیں۔حقوقِ نسواں کے علمبردار کہاں ہیں؟

اب جب کہ بزرگ سیاستدان نے ایک صحافی کو ڈانٹتے ہوئے کہا ہے: ہماری کوئی تہذیب ہوتی ہے، تو بہت خوشی ہوئی کہ دیر ہی سے سہی انہیں بھی خیال آ گیا کہ ایک تہذیب ہوتی ہے۔تو جناب تہذیب یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک عورت کی کردار کشی نہ کی جائے۔اور یہ بھی کہ مہمان بیٹھا ہو تو بسکٹ کتے کو نہیں مہمان کو پیش کیا جاتا ہے۔