- الإعلانات -

ریاست کامفاد

عدالتیں اور عدالتوں کی بنائی ہوئی جے آئی ٹیز قابل صد احترام ہیں اور ان کے سامنے کسی بھی حکومتی عہدیدار یاشخصیت کا پیش ہونا یقیناًاس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اداروں کو اپنی اپنی جگہ کام کرنے کی کھلی آزادی ہے اور ریاست کو ترقی اور وقار کی شاہراہ پر گامزن رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ تمام لوگ ، عہدیدار اور ادارے خود کو آئین پاکستان کے تابع رکھتے ہوئے اپنے اپنے حصے کا کام کرتے چلے جائیں۔ کسی بھی ریاست کے استحکام اور سالمیت کو یقینی بنانے کا واحد راستہ بھی یہی ہے جبکہ دوسری صورت میں ملک میں مستحکم اور دیرپا پالیسیاں نہیں بن پاتیں اور جو پہلے سے بنی ہوئی ہوتی ہیں ان کی تکمیل ناممکن ہوجاتی ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کو بھی اب اس حد تک فہم و فراست کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ اگر کوئی پارٹی مینڈیٹ لے کر آ جاتی ہے تو پھر اسے کام کرنے دیا جائے اور اس کے جائز کاموں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اگر وہ کہیں غلط ہوں تو ان معاملات کی نشاندہی بھی کی جائے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایسا کلچر بن چکا ہے کہ ملک کی بہتری کا کوئی نہیں سوچتا۔ اگر کوئی حکومت یا ادارے بہتر کام بھی کر رہے ہوں تو ان کے بارے میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسی چیزیں لائی جاتی ہیں کہ جن سے ان کی جگ ہنسائی ہو سکے اور انہیں بدنام کیا جا سکے اور اگر ہو سکے تو وقت سے پہلے ہی ان کا پھٹا گول کر کے نئے انتخابات کروائے جائیں کہ شاید ان لوگوں کو موقع مل جائے جن کو ابھی تک عوام نے موقع نہیں دیا۔ اس حوالے سے صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام نے بہرطور زیادہ باشعور ہونے کا ثبوت دیا ہے کہ انہوں نے جماعت اسلامی، اے این پی کو موقع دینے کے بعد تحریک انصاف کو موقع دیا ہے۔ گویا اب وہ موجودہ صوبائی حکومت کی کارکردگی دیکھ رہے ہیں۔ اگر وہ اس طرح سے صوبے میں ڈیلیور نہ کر پائے تو ظاہر ہے آئندہ انتخابات میں خیبر پختونخوا کے عوام کا فیصلہ مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ گویا یہ عوام کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ کس پارٹی پر اعتماد کرتے ہیں اور انہیں یہ مینڈیٹ عطا کرتے ہیں کہ وہ وفاق اور صوبوں میں اپنی حکومتیں بنائیں۔ کسی بھی پارٹی یا حکومت کو بہترین انداز میں پرکھنے اور ان کا کڑا احتساب بہرطور انتخابات ہی کے ذریعے ہوتا ہے۔ جس میں عوام ناپسندیدہ لوگوں کو رد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ووٹ کا بہرحال ایک تقدس ہے اور اسے برقرار رہنا چاہئے۔ اگر کوئی پارٹی جیت کر حکومت بنا لیتی ہے تو اپوزیشن کا کردار یہ ہونا چاہئے کہ وہ حکومتوں پر اس حد تک دبارکھے کہ گڈگورنس کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس میں اپوزیشن کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومتی بدعنوانیوں کو اجاگر کرے تاکہ حکومت بدعنوانیوں سے گریزکرتے ہوئے عوام اور ملک کی زیادہ سے زیادہ خدمت کو یقینی بنائے۔ اگر کسی پارٹی یا گروہ کے پیش نظر یہ معاملہ ہو کہ وہ حکومت کو کام ہی نہ کرنے دے اور اسے گرانے کے پیچھے صرف اس لئے پڑ جائیں شاید اگلی دفعہ انہیں موقع مل جائے تو اس میں ملک کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے۔ چاہئے تو یہ کہ جن لوگوں کو عوام انتخابات میں مسترد کر چکے ہوتے ہیں وہ اس عرصے میں خود کو عوام کے قریب تر رکھیں اور ان کی بہبود سے متعلق منصوبوں پر عملدرآمد کروانے کی کوشش کریں نہ یہ کہ روزانہ کی بنیاد پر جلا گھیرا کر کے خدانخواستہ ریاست ہی کو اپاہج بنا دیا جائے۔ پھر اس طرح سے ملک کسی میدان میں ترقی نہیں کر پاتا اور لوگ اندرونی معاملات اور محلاتی سازشوں میں پھنس کر رہ جاتے ہیں اور ادارے کمزور سے کمزورتر ہوتے جا تے ہیں۔ جس طرح 2009 میں افواج پاکستان نے سوات آپریشن کیا اور صرف تین ماہ کے عرصے میں نہ صرف شدت پسندوں کو سوات سے نکلنے پر مجبور کر دیا بلکہ اس آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی دوبارہ سے اپنے اپنے گھروں میں واپسی کو بھی یقینی بنایا۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ اس کے بعد سول ایڈمنسٹریشن اس قابل ہوتی کہ وہ سوات کا نظم و نسق سنبھال پاتی لیکن فوری طور پر ایسا نہیں ہو پایا۔ سول ایڈمنسٹریشن نے اپنے تئیں کام کئے لیکن مکمل طور پر اس طرح سے فعال دکھائی نہیں دی جس کی ضرورت تھی۔ گویا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کا بھی یہ کردار بنتا ہے کہ لوکل اور صوبائی سطح پر کام کرنے والے اداروں کیcopacity building کی جائے تاکہ وقت پڑنے پر وہ اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔ اگر مطمع نظر صرف یہ ہو کہ پارٹیوں نے بس کسی نہ کسی طور حکومت میں آنا ہے اور اس کیلئے منتخب کردہ پارٹی چاہے وہ کوئی سی بھی ہو کو کام نہیں کرنے دینا تو پھر اس سے ملک اور ریاست ہی کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ برسراقتدار آنے والی کوئی بھی پارٹی تو ایک مخصوص مدت کے لئے آتی ہے اگر وہ اس دوران ملک کے لئے اس طرح کام نہ کر پائیں یا انہیں کرنے نہ دیا جائے تو پھر ظاہر ہے ملک کئی سال پیچھے چلا جاتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی یا ادارہ جو ائن کرنے والوں سے ایک حلف لیا جانا چاہئے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں اپنے ذاتی یا پارٹی کے مفاد کیلئے ملک یا ریاست کے مفاد کو پس پشت نہیں ڈالیں گے۔بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے اپنی 21فروری 1948کی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ہماری سلامتی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم بے خبری میں کسی یورش کا شکار نہ ہوں۔ ہماری اس سے بڑھ کر کوئی آرزو نہیں ہے کہ خود امن سے رہیں اور دوسروں کو امن سے رہنے دیں۔ اپنے ملک کو کسی بیرونی دخل اندازی کے بغیر اپنی صلاحیت و فراست کے مطابق پروان چڑھائیں اور عام آدمی کی زندگی کو بہتر وخوشگوار تر بنائیں۔ بلاشبہ یہ کام بڑا مشقت طلب ہے لیکن اگر ہم نے دل سوزی اور خلوص سے کام کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اگر ہم اپنی قوم کی اجتماعی فلاح کیلئے قربانیاں دینے پر آمادہ ہیں تو ہم بہت جلد وہ مقاصد اور وہ منزل پا لیں گے جو ہمارے سامنے ہے۔بانی پاکستان کی ایسی متعدد تقاریر اور اقوال موجود ہیں جن سے پاکستان کے مستقبل کا تعین اور قیام پاکستان کی تکمیل کیلئے رہنمائی وضع ہوتی ہے لیکن ہم خدانخواستہ ایسی قوم کا روپ دھار چکے ہیں جو آنکھیں بند کر کے صرف اور صرف اپنی ذات اور اپنے اپنے مفادات کے حصول کیلئے سرگرداں ہیں۔ ہم شاید یہ بھولتے جارہے ہیں کہ ہماری فلاح و بقااس عظیم تر ریاست پاکستان کی سالمیت سے جڑی ہوئی ہے ۔ لہٰذا ہمیں وقتی فوائد یا ذاتی کامیابیوں اور اپنی اپنی پارٹیوں اور گروہوں کی آبیاری کی بجائے اس ریاست کے قیام کے مقاصد پر نظر رکھتے ہوئے ان مقاصد کی تکمیل کیلئے کام کرنا ہے اور مل کر کام کرنا ہے کہ ریاست سپریم ہے اور ریاست کے مفاد ہی میں سب کا مفاد پنہاں ہے۔