- الإعلانات -

سرمایہ دارانہ جمہوریت کے اثرات!

سرمایہ داریت جسے کمرشلزم کا نام دیا جاتا ہے اس نے عام آدمی کیلئے خوش مزاجی اور ذندہ دلی کو معدوم جنس بنادیا ہے ، بس اب تو نفسا نفسی ہے اورافراتفری ہے اور ہنگامہ خیزی ہے اور تیز رفتار ذندگی کے دوڑ نے اکثریت کیلئے خوش دلی کو نایاب اور کامیاب بنادیا ہے اور سرمایہ دار کی قسمت میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔سرمایہ داری کے گہرے ہوتے بحران میں یہ توقع رکھنا کہ یہاں کے حکمران اور معیشت دان کسی معجزے کے ذریعے بہتری لے آئیں گے انتہائی بیوقوفانہ سوچ ہو گی۔اور معیشت کی اس ڈولتی کشتی کے اوپر قائم اداروں کے استحکام کی توقع رکھنا بھی دیوانے کا خواب ہے ، اسن نظام کے ہوتے ہوئے ان سے بہتری کی توقع عبث ہے۔فی زمانہ جمہوریت کا ڈول پیٹا جاتا ہے ۔یہ در اصل سرمایہ دارانہ جمہوریت نافذ ہے جو سرمایہ داروں کا کھیل ہے اور انسانوں کو بس گنا جاتا ہے ۔یہ سرمایہ دارانہ نظام انسانوں کو ایسے حال پر رکھتا ہے کہ دیکھنے میں وہ معزز انسان نظر آئے لیکن اندر سے وہ کھوکھلا ہو چنانچہ اس سلسلے میں وقتافوقتا غریبی دور کرنے کے اعلانات بھی ہوتے رہتے ہیں لیکن عملی اقدامت اٹھانے سے عموما گریز کیا جاتا ہے اور یہ اعلانات اپنی جگہ صحیح ہیں کہ غربت کی وجہ سے انسان کے جسم میں خون ہی نہ رہا تو اسے چوسا کس طرح جائیگا ؟ اس ظاہری طور پر غریبی دور کرنے کے اعلانات اور ہمارے سیاسی لیڈروں اور حکومتی اعلانات وغیرہ سب عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی حصہ معلوم ہوتاہے اور ایسی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں کہ عام آدمی اپنی معاشی ضروریات اور اخراجات پورا کرنے کیلئے وہ جانور وں کی طرح محنت کرتا ہے اور وہ خوشحالی کی چمک حاصل کرنے کیلئے اپنی ذندگی کی انتہائی ئی قیمتی لمحات کچھ ایسے طریقے سے ضائع کرتا ہے کہ وہ سوچنے اور شعور حاصل کرنے کے لمحات کو کو بھی اپنے پاس نہیں پاتا ہے جس کے نتیجے میں غریب غریب تر ہوتا جاتا ہے اور سماجی نظام درہم برہم ہونا کوئی انہونی نہیں ہے ۔چنانچہ سرمایہ دارانہ نظام میں غریبی دور کرنے کے افسانے سنائے جاتے ہیں اور سماجی برائیوں کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے مگر یہ سب کچھ در اصل اس نظام کے استحکام کیلئے ہوتا ہے اور غریبی دور کرنے کے نام پر دنیا کے غریب ممالک کو زبردستی سرمایہ دارنہ نظام کے سرکل میں داخل کیا جاتا ہے ۔ بد ترین مہنگائی، بیروزگاری اور غربت ہر روز اضافے کے ساتھ نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ ساتھ ہی معیشت کے اعداد و شمار تاریخ کے بد ترین زوال کی نشاندہی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ لیکن سب سے حیران کن بات ہے کہ اس ملک کے حکمران طبقات اس کا نہ تو ذکر کرتے ہیں اورنہ ہی کوئی اپوزیشن پارٹی اس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اپنا متبادل حل دیتی ہے۔اگر چہ یہ بھی حقیقت ہے کہ نئے دور کے تقاضوں کا انکار ممکن نہیں ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کے اندر نکھار پیدا کر کے ترقی کے منازل کو طے کیا جاسکتا ہے لیکن دور حاضر میں سائنسی ترقی اور مادی ضروریات اور معاشی اور اقتصادیات کے نئے نئے ڈھنگ اور ذرائع ابلاغ کے تنوع کے ساتھ دنیا میں اب کافی تبدیلی آگئی ہے اور اس تبدیلی کے ساتھ انصاف اور عدل کے معیار بھی بدل گئے ہیں ذندگی کی برق رفتاری نے انسان کو شارٹ کٹ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے انسان مشینی دور میں مشین کی گراری کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور جو حقائق ہیں وہ بھت تلخ ہیں اقتصادی ترقی کی بجائے تباہ کاری کا گراف بلند ہوا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو چھپانے سے چھپنے والا نہیں ہے ، انسانیت غربت کی چکی میں پس رہی ہے ایسے حالات میں اگر کنواروں کے گھر میں اگر ایک کنوارے نے شادیانے بجا بھی دئے تو کیا ؟ کل اسے مہنگائی کا عفریت، ٹیکسوں کا جدید نظام،غیرملکی سرمایہ کاری کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا عمل دخل ،نجکاری کے نام پر قومی دولت کو ھڑپ کرنے کے منصوبے، برآمدات کو بڑھانے کے نام پر ملکی کرنسی کی قیمت کم کرنے کے اعلانات ،اور عالمی اداروں سے قرض لے کر ملک چلانے کے طور وطریقے ایسی صورت میں کیا وہ ترقی کی منازل اور رفعت کو پالے گا؟ یہ ایک کڑوا سوال ہے جس کا جواب آپ نے دینا ہے!!!۔