- الإعلانات -

داعش کے زیر استعمال بھارتی اسلحہ ؟

لندن میں ’’کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ‘‘ نامی ادارے کی ایک تحقیقی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کے زیرِ استعمال بموں اور بارودی سامان کے اہم اجزا کا دوسرا بڑا ماخذ بھارت ہے۔ شام اور عراق میں داعش جو بم اور دھماکہ خیز مواد استعمال کررہی ہے اس کی تاریں، سیفٹی فیوز، ڈیٹونیٹرز اور دیگر سامان بھارتی کمپنیوں کے تیارکردہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ داعش تنظیم دنیا بھر میں جاری فوجی ہتھیاروں کی سپلائی اور ان کے ذمہ دار ممالک پر نظر رکھتی ہے۔ داعش کل 51 کمپنیوں کا اسلحہ و گولہ بارود استعمال کررہی ہے جو 20 مختلف ممالک سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ ان میں روس، امریکہ، برازیل، ایران، بیلجیئم، ہالینڈ اور جاپان بھی ہیں لیکن بھارتی ادارے دوسرے بڑے سپلائر ہیں۔ان میں بھارتی کمپنیوں کی تعداد 7 ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی اداروں نے قانونی طور پر لائسنس کے تحت لبنان اور ترکی کو ہتھیار اوردیگر عسکری سامان برآمد کیا لیکن داعش کو کسی قانون کے تحت نہیں فراہم کیا۔ بھارتی وزارتِ دفاع نے اس پر تبصرے سے انکار کردیا ہے۔ بھارت افغانستان میں دہشت گرد گروپوں سے تعلق قائم کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ نہ صرف افغانستان میں عدم استحکام پیدا کیا جائے بلکہ پاکستان کو بھی نقصان پہنچانے کی سازش کی جائے۔اخبار ’’دی نیوز ‘‘کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نہ صرف پاکستانی طالبان کی پشت پناہی میں مصروف ہے بلکہ افغانستان میں د اعش اور القاعدہ سے بھی اپنے تعلقات مضبوط کرنے کے لئے نئے اقدامات کررہا ہے۔ اخبار کے مطابق 2014ء میں بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول نے شام اور عراق کا دورہ کیا جس کا مقصد یہ بتایاگیا کہ وہ ان ممالک میں جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے بھارتی شہریوں کے انخلاء پر بات چیت کرنے گئے تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اس دورے کی آڑ میں دہشت گرد تنظیموں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ اسی دوران قندھار میں بھارتی قونصلیٹ کو تحریک طالبان پاکستان اور داعش کے عناصر کے درمیان تعلقات کے قیام اور فروغ کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی طرف سے افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے ساتھ تعلقات پر توجہ کا بنیادی مقصد پاکستان میں دہشت گردی کی نئی مہم کا آغاز کرنا ہے۔ بھارتی کوششوں کا مقصد پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔ اس سے پہلے داعش کی طرف سے ایک بیان میں یہ تاثر دیا جاچکا ہے کہ یہ تنظیم آنے والے وقت میں جوہری ہتھیار حاصل کرسکتی ہے، اور بھارت اسی قسم کی لایعنی باتوں کا تعلق پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام سے جوڑنے کے لئے مذموم کوششوں میں مصروف ہے۔ طالبان کے حوالے سے پاکستان پر الزام تراشی کرنیوالے افغان وزراء افغانستان میں داعش کی موجودگی کے مسئلہ پر بالکل خاموش ہیں۔ جس سے متعلق مغربی اخبارات تحقیقی رپورٹس شائع کر چکے ہیں کہ ’’داعش افغانستان میں تیزی کے ساتھ اپنے رابطے آگے بڑھا رہی ہے۔ بہت سے افغان ’’وار لارڈز‘‘ داعش سے اپنے معاملات طے کرچکے ہیں جس میں بھارتی پس پشت رہتے ہوئے سہولت کار کاکردارادا کر رہا ہے اور قندوز میں پیدا شدہ صورتحال نے تو واضح کردیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال عراق سے مختلف نہیں۔ جہاں امریکہ نے عراقی فوج کی تیاری پر کثیر سرمایہ خرچ کیا لیکن امریکہ کی رخصتی کے بعد وہ فوج بجائے داعش جیسے فتنے کا مقابلہ کرنے کے خود عدم تحفظ شکار ہوگئی۔برطانوی اخبار ” ڈیلی سٹار” کے مطابق ایک طرف امریکہ داعش کے خاتمے کیلئے فرضی و نام نہاد جدوجہد کر رہا ہے اور دوسری طرف داعش کو امریکی اسلحے و گاڑیوں کی فراہمی کے انکشافات بھی تسلسل کے ساتھ سامنے آرہے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کیلئے داعش بھی ” فرینڈلی ” دہشت تنظیم کا کردار ادا کر رہی ہے۔پہلے تو امریکی ساختہ چھوٹے اسلحے کی داعش کے پاس موجودگی کے انکشافات ہوتے رہے ہیں مگر اب داعش نے انتہائی خطرناک امریکی ٹینک شکن میزائل بھی حاصل کر لیے ہیں۔ داعش سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے تصاویر شیئر کی گئی ہیں جن میں شدت پسند امریکی ساختہ میزائل چلاتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ ان اکاؤنٹس سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ داعش کے پاس اینٹی ٹینک میزائل موجود ہیں۔ یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ امریکہ کے ساختہ ہتھیار داعش کے پاس کس طرح پہنچ رہے ہیں لیکن سابق میڈیا رپورٹس میں اشارے مل چکے ہیں کہ امریکہ شام کے جن باغی گروپوں کوبشارالاسد کے خلاف لڑنے کے لیے تربیت کے ساتھ ساتھ اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے وہ امریکہ کی طرف سے ملنے والا اسلحہ آگے داعش کو فروخت کر رہے ہیں۔ افغان قیادت کو سوچنا چاہئے کہ وہ کب تک بھارت کی پاکستان دشمنی میں بھارت کے خفیہ اداوں کے ہاتھوں یرغمال بنے رہیں گے۔بھارتی آلہ کار کا کردار ادا کرتے رہیں گے اور بھارت کی افغانستان کو داعش کا گڑھ بنانے کیلئے کی جانے والی کوششوں کو مغربی میڈیا سے چھپاتے رہیں گے۔