- الإعلانات -

جیت، نسل کشی۔ ۔ آسام تا کشمیر !

پاک کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں ذلت آمیر شکست کھانے کے بعد بھارتی صوبے ’’ مدھیہ پردیش ‘‘ اور ’’ راجستھان ‘‘ سمیت کئی جگہوں پر جس طرح مسلمانوں کو جنونی ہندوؤں نے تختہ مشق بنایا ہے وہ اپنے آپ میں انڈین سیکولر دعووں کی منہ بولتی تصویر ہے ۔ علاوہ ازیں انسان دوست حلقوں نے پاکستان کی فتح کے بعد بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ ریاست میں کشمیریوں پر ظلم و تشدد اوراملاک کو نقصان پہنچانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ صرف پاکستان سے محبت کے ’’ جرم بے گناہی ‘‘ میں کشمیریوں کو قابض بھارتی فوج کی جانب سے اس قدر غیر انسانی مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ دوسری طرف کسے معلوم نہیں کہ بھارتی صوبے آسام میں ’’ نیلی ‘‘ کے مقام پر 18 فروری 1983 کو محض چھ گھنٹوں کے اندر ؤ2191 مسلمانوں سے زندہ رہنے کا بنیادی حق چھین لیا گیا تھا ۔ بظاہر یہ ایسی بات ہے کہ عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا مگر آفرین ہے ’’ ہندوستان ‘‘ پر کہ اس کی تاریخ ایسے اندونہاک واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ یاد رہے کہ ’’ رادھا کانت ‘‘ نامی ایک ہندو دانشور نے چند روز قبل ایک ٹی وی پروگرام میں اپنے انٹر ویو کے دوران کہا کہ کشمیر ( مقبوضہ ) میں آئے روز بے گناہوں کو جان سے مار دینا معمول کی بات ہے اور بالعموم کچھ روز گزرنے کے بعد ان واقعات کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا ۔ اس معاملے کا جائزہ لیتے غیر جانبدار مبصرین نے انکشاف کیا ہے کہ آسام کے 14 دیہات ’’ علیسنگھا ، کھلا پتھر ، بسُندھری ، بغدُبا بیل ، بورجلا ، بنٹنی ، اِندر ماری ، بغدُبا ہبی ، ملادھاری ، متی پربت ، متی پربت نمبر8 ، سبہتا ، بوربری اور ’’ نیلی ‘‘ میں اس وقت قیامت بپا ہو گئی جب صبح کے تقریباً 9 بجے جنونی ہندو گروہوں نے اچانک مسلمان اکثریتی علاقوں پر دھاوا بول دیا اور چند گھنٹوں کے اندر ان علاقوں سے تمام مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ یاد رہے کہ آسام میں ان دنوں بھی یہ تحریک خاصے زوروں پر تھی کہ آسام کے تمام وسائل پر بنگلہ دیش سے آنے والے مسلمان پناہ گزینوں نے قبضہ کر رکھا ہے ۔ اس تحریک کی پُشت پر ’’ آسام گن پریشد ‘‘ نامی تنظیم تھی جس کی روحِ رواں ’’ پرفُل کمار مہنت ‘‘ نامی ایک طالبِ علم سٹوڈنٹ لیڈر تھا جو بعد میں آسام کا وزیر اعلیٰ بھی بنا ۔ اس تحریک کے بنیادی محرکات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ اندرا گاندھی نے بنگلہ دیش سے آئے چالیس لاکھ پناہ گزینوں کو عارضی طور پر بھارتی شہریت دینے کا اعلان کیا تھا ۔جبکہ انتہا پسند ہندوؤں نے ’’ ULFA‘‘ ( یونائیٹد لبریشن فرنٹ آف آسام ) اور ’’ بوڈو لینڈ فرنٹ ‘‘ کے زیرِ اہتمام کانگرس کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ بنگلہ دیش سے آئے مسلمانوں کو کسی صورت آسام میں بسنے نہیں دیں گے ۔ یاد رہے کہ انڈین ایکسپریس کے ’’ ہمندر نارائن ‘‘ ، آسام ٹربیون کے ’’ بیدبراتا لاہکر ‘‘ اور اے بی سی نیوز کے ’’ اجے شرما‘‘ اس نسل کشی کے عینی شاہد تھے اور انھوں نے اپنے اخبارات میں اس معاملے کی پوری تفصیلات بیان کیں ۔کہاجاتا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ اپنی نوعیت کی سب سے بھیانک نسل کشی تھی ۔ دوسری جانب یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں دہلی کے حکمرانوں کے ہاتھوں نہتے مسلمانوں کی نسل کشی بھی روز مرہ کا معمول ہے ۔ آئے روز پیلٹ گنوں کے ذریعے ان سے بینائی چھینی جاتی ہے ۔ ایسے میں ان کی بے نور نگاہیں متنظر ہیں کہ شاید سویا ہوا عالمی ضمیر اپنے ہونے کا کچھ تو ثبوت دے ۔
*****
چالیں۔۔۔ شوق موسوی
غیض و غضب ہے چہروں پہ کچھ رنج کچھ ملال
ہوتی نہیں ہے اُن کی طبیعت کبھی بحال
رکھیں یقین الٹی چلیں گے ہمیشہ چال
ہم قافیہ دلال و نہال اور دانیال