- الإعلانات -

جب جھوٹ پراتنا کچھ مل جاتاہے تو

ہواکہ شہر سے باہر ایک فقیر نے ڈیرے ڈالے ہیں جو نہایت ہی اللہ والا معلوم ہوتا ہے کیونکہ اسے کسی کی نازنیاز کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی سے کچھ لیتاہے ۔اس کی طبیعت میں استغناء ہی استغناء ہے ۔بادشاہ کو معلوم ہوا تو وہ سیدھا اس فقیر کی خدمت میں پہنچا۔فقیر کو بادشاہ کی آمد کی اطلاع دی گئی مگر اس پر کچھ اثر نہ ہوااوروہ حسب معمول اللہ اللہ کرتارہا۔مصاحبوں نے باہر آکر بتایا کہ حضوراسے آپ کی آمد کا بتایا گیا مگر اس نے کوئی توجہ نہ کی۔لگتا ہے کہ اس درویش کو کسی بادشاہ سے کوئی غرض نہیں بلکہ اس کی لو اس حقیقی بادشاہ سے ہی لگی ہوئی ہے ۔یہ سن کر بادشاہ بڑامتاثرہوا۔وہ گھوڑے سے اترا، اشرفیوں کی تھیلی جو بطورنیاز لایا تھا، کو اپنے ہاتھوں میں پکڑااور فقیر کی کٹیا میں داخل ہوگیا۔بادشاہ فقیر کے سامنے دوزانوہو کر بیٹھ گیامگر اس نے کوئی توجہ نہ کی ۔یہ دیکھ کر بادشاہ نے ادب سے گزارش کی’’ میں مغلیہ سلطنت کا مالک اورنگزیب عالمگیر ہوں اور آپ کی توجہ چاہتاہوں‘‘اور ساتھ اشرفیوں کی بھری ہوئی تھیلی اس فقیر کے سامنے رکھ ، ہاتھ چومے اور جانے کی اجازت مانگی ۔اچانک فقیر کی طبیعت میں جوش پیدا ہوا، اس کے منہ اللہ اللہ کی آوازیں اور زیادہ بلند ہونے لگیں ، اب ان آوازیں میں خوف اور تشکر کا جذبہ درودیواراور خود بادشاہ پربھی اپنا اثر دکھا نے لگا۔فقیر اللہ اللہ کرتا ہوا بے ہوش ہوگیا۔جب اسے ہوش آیا تو اس نے تھیلی بادشاہ کو واپس کی اور رونے لگا۔ بادشاہ بڑاپریشان ہوانہ جانے مجھ سے کیا گستاخی سرزد ہو گئی ہے ۔اس نے ماجرا پوچھا تو فقیر نے کہا’’ بادشاہ سلامت !آپ نے مجھے پہچانانہیں ؟ میں کوئی فقیر نہیں بلکہ وہی مداری ہوں جو دو بار آپ کے دربار سے ناکام ہوکر لوٹا تھا اور جسے آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں کسی بھی روپ میں پہچان لوں گا‘‘۔یہ کہہ کر اس نے اپنا لباس، ٹوپی اور قباوغیرہ اتاری اور بادشاہ اپنے سامنے کھڑے مداری کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔بادشاہ نے پوچھاتم دوبار دولت کے لالچ میں اور مجھے متاثر کرنے کے لیے میرے دربار میں آئے مگر ناکام رہے اور آج جب میں خودتم سے متاثرہو کر اور چل کر تمہارے پاس آیا اور ساتھ میں بیش قیمت ہیرے جواہرات اور شرفیاں بھی لایاتو تم نے اس دولت کو ٹھوکرماردی اور اپنا آپ ظاہر بھی کردیا۔کیوں؟‘‘۔اس نے مداری نے جواب دیا ’’ بادشاہ سلامت ! مجھے آج زندگی کی سب سے بڑی سچائی معلوم ہو گئی ہے ۔میں دو بار آپ کے پاس سے ناکام اور بے عزت ہو کر واپس آیا ۔پھر مجھے پتا چلا کہ آپ کو فقراء سے خصوصی لگاؤ ہے تو میں اس شہر سے چلا گیا اور کئی سالوں کی محنت کے بعد ایک اللہ والے کا روپ دھارکر واپس آیااور جھوٹ موٹ اللہ اللہ کرنے لگا۔اس جھوٹ موٹ اللہ اللہ کرنے سے مجھے اللہ تعالیٰ نے وہ عزت دی کہ وقت کا بادشاہ خود اپنی دولت لے کر نہ صرف میرے پاس آیا بلکہ میرے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔جب آپ نے مجھے دولت پیش کی تو میرے دل میں خیال آیا کہ اگر جھوٹ موٹ اللہ کرنے کا اتنا اجر ہے تو اس وقت میرااللہ کتنا نوازے گا جب میں سچافقیر بنوں گا اور سچے دل اللہ اللہ کروں گا؟ بس اسی وقت میرے دل سے سوزگداز اورخلوص سے اللہ اللہ نکلنے لگااور میں نے آپ کی دولت ٹھکرادی کیونکہ مجھے حقیقی دولت مل چکی تھی کیونکہ میرے دل کی دنیابدل گئی تھی‘‘۔اس کے بعد وہ فقیر ایک اللہ والابنا۔
اس واقعے سے معلوم ہوتا کہ اگر ایک مداری کسی کو دھوکادینے کی خاطر جھوٹ موٹ اللہ اللہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا نوازتا ہے کہ وقت کا بادشاہ بھی اس کے سامنے دوزانوہو کربیٹھ جاتا ہے۔کاش ! یہ سبق ہمارے سیاستدان بھی جان لیں۔ہر بار وہ انتخابات میں صحت، تعلیم ، انصاف ، روزگار،خدمت اور فلاح و بہبودکا نعرہ لگا تے ہیں اور وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے اور وہ ایسا نہ کرپائیں گے اور نہ ہی کرنا چاہتے ہیں مگر عوام ان کے جھوٹے مگربظاہر اچھے نعروں پر اتنا اعتمادکرتی ہے کہ سنگھاسن ان کی گود میں ڈال دیتی ہے ۔اللہ تعالیٰ بھی صرف اس بات پر ان کو نوازتا ہے کہ وہ اس کی مخلوق کی خدمت کا نعرہ لگارہے ہیں ۔کاش ! یہ سیاستدان اورملک کے دوسرے کرتے دھرتے یہ سب کچھ سچے دل سے کہتے اور ان کے اقوال، افعال اور احوال میں خلوص ہوتا۔اگر اس مداری والا خیال اور سوچ ہمارے حکمرانوں کی ہوتی تو آج عوام کی یہ حالت ہوتی ، نہ کسی کو پاناماکا سامناکرنا پڑتااور نہ ہی کسی کو ’’تبدیلی ‘‘ کے نعرے کے سہارے کی ضرورت ہوتی ۔یہ سب لوگ صرف اتنا سوچ لیں کہ اگر ہمارے جھوٹے نعروں اوروعدوں کے بدلے عوام اور اللہ تعالیٰ ہمیں اتنا نوازتا ہے تو اس وقت ہمیں کتنا نوازے گا جب ہمارے انہی وعدوں اور نعروں میں سچائی اور خلوص شامل ہوگا۔مگر ان کو اس مداری کی بات سمجھ نہیں آئے گی کیونکہ وہ پیشے کا مداری تھااور یہ فطرت اور کردار کے مداری ہیں ۔ہاں !پیشہ بدل